16ارب مالیت کا منی لانڈرنگ کیس:شہبازشریف خاندان کیخلاف کونسے ٹھوس شواہد ریکارڈپر موجودتھے؟
10جولائی2023ء کو لاہور کی خصوصی عدالت کے جج بخت فخر بہزاد نے 16ارب روپے کے میگا منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہبازشریف کے بیٹے سلیمان شہباز کو بھی بری کر دیا ہے۔لاہور کی خصوصی عدالت کے حکم نامہ کو پڑھیں اور اس کا موازنہ شواہد کے اس ڈھیر سے کریں جو ایف آئی اے نے پی ٹی آئی دور میں نہایت عرق ریزی سے اکٹھے کئے تھے تو اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ایف آئی اے کے وکیل اور اس تحقیقاتی ادارے کی جانب سے واضح انداز میں شہباز شریف خاندان کی مدد کرکے انہیں کلین چِٹ دلوائی گئی ہے۔
خصوصی عدالت کے جج نے جہاں کیس کے مرکزی کردار سلیمان شہباز کو کلین چِٹ دی ہے وہیں ایف آئی اے کے ان حکام کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں جنکی جانب سے شہبازشریف خاندان کیخلاف یہ کیس چلایا گیا تھا۔

اس کیس میں ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر فاروق علی باجوہ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا سینئرجرنیلوں نے نوازشریف کو منشیات کی اسمگلنگ کا مشورہ دیا تھا؟
یاد رہے اس کیس میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو جج اعجاز حسین اعوان کی جانب سے بری کیا گیا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کے خلاف ریاست کی جانب سے اپیل بھی دائر نہیں کی گئی تھی۔ سلیمان شہباز کی بریت کے عدالتی حکم نامہ میں بھی جج اعجاز حسین اعوان کے گزشتہ فیصلہ کا حوالہ دیکر اسکی بنیاد پر سلیمان شہباز کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔


وزیراعظم شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں بری کرنیوالے جج اعجاز حسین اعوان کو انکی ریٹائرمنٹ کے بعد 10جنوری2023ء کو وزیراعظم شہباز شریف نے انفارمیشن کمشنر تعینات کر دیا تھا۔

شہبازشریف خاندان کیخلاف FIAتحقیقاتی رپورٹ میں کیا کچھ تھا؟
پی ٹی آئی دور میں شہباز شریف اور ان کے بیٹوں (حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز)کے خلاف اربوں کے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے نے تمام ترشواہد پرمشتمل مفصل تحقیقاتی رپورٹ تیار کی تھی۔اس رپورٹ کے مطابق شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف اربوں کی منی لانڈرنگ ثابت ہوئی تھی۔

اس میگا منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز پر الزام ہے کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کیلئے رمضان شوگر ملز کے 14چھوٹے درجے کے ملازمین کے نام پر ”بے نامی اکاؤنٹس“ کھلوائے اور انہیں چلایا اور ان اکاؤنٹس سے اربوں کی منی لانڈرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار
ایف آئی اے تحقیقات کے دوران اِن ملازمین نے بھی تسلیم کیا کہ ان کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹس مرکزی ملزمان(شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز) کی ذاتی ٹرانزیکشنز کیلئے کھولے گئے تھے۔
ایف آئی اے کے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ۔۔”تحقیقات سے ثابت ہوگیا ہے کہ تین مرکزی ملزمان اور بینفیشریز(شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز)کرمنل مِس کنڈکٹ میں ملوث رہے۔۔۔۔ ان ملزمان کی جانب سے سال2008ء سے2018ء کے عرصہ میں 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔۔ان ملزمان کی جانب سے منی لانڈرنگ کیلئے اپنے خاندان کے ذاتی کاروبار جیسا کہ شریف گروپ/رمضان شوگر ملز کے کم اجرتی ملازمین کے بے نامی اکاؤنٹس کو منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا گیا۔۔۔“
دستاویزی شواہدکے 7 والیم
ایف آئی اے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملزمان کے خلاف دستایزی شواہد کے کل سات والیم ہیں،جو کہ رپورٹ کا اہم حصہ ہیں۔۔۔ان سات والیمز میں درج ذیل شواہد ہیں:۔

والیم وَن میں تحقیقاتی کارروائی کے دستاویزی شواہد ہیں
والیم ٹو میں ان کم اجرتی ملازمین سے متعلق شواہد ہیں،جنہیں بے نامی کے طور پر استعمال کیا گیا
والیم تین میں بینک اکاؤنٹس کی اسٹیٹمنٹس کے شواہد ہیں
والیم فور میں ایف بی آر،ایس ای سی پی وغیرہ کا ریکارڈ ہے
والیم فائیومیں وہ شواہد ہیں جو خصوصی طور پرشہباز شریف اورحمزہ شہبازسے متعلق ہیں
والیم 6میں گواہوں کے بیانات ہیں
والیم7میں Seizure Memosوغیرہ ہیں
مرکزی ملزمان
ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق کیس کے مرکزی ملزمان اور بینیفیشریز کی تعداد تین تھی،جنکی تفصیل کچھ یوں تھی:۔
شہباز شریف
حمزہ شہباز
سلیمان شہباز

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق”شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز نے شریف گروپ /رمضان شوگر ملز لمیٹڈ کم اجرتی ملازمین کی معاونت اور سہولت کاری سے 16ار ب روپے مالیت کی بڑی منی لانڈرنگ کی۔۔۔ان ملازمین کی تعداد 14ہے۔۔۔جن کے نام اور عہدے کچھ یوں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
1۔ملک مقصود احمد(رمضان شوگر ملزلمیٹڈ کے سی ای او کے نائب قاصد)
2۔محمد اسلم(کیشیئر،رمضان شوگر ملز لمیٹڈ)
3۔اظہر عباس(کلرک، رمضان شوگر ملزلمیٹڈ)
4۔غلام شبیر(اسٹور کیپر،رمضان شوگر ملزلمیٹڈ)
5۔خضر حیات نذر(کلرک،رمضان شوگر ملزلمیٹڈ)
6۔گلزار احمد خان(نائب قاصد،رمضان شوگر ملزلمیٹڈ)
7۔اقرار حسین(آفس اسسٹنٹ،رمضان شوگر ملزلمیٹڈ)
8۔محمد انور(آفس اسسٹنٹ،رمضان شوگر ملزلمیٹڈ)
9۔محمد یاسین(کلرک،رمضان شوگر ملزلمیٹڈ)
10۔توقیرالدین(اسسٹنٹ منیجر،،رمضان شوگر ملز)
11۔ظفراقبال انجم(کلرک،رمضان شوگر ملز)
12۔تنویرالحق(ڈیٹا اینٹری آپریٹر،رمضان شوگر ملز)
13۔کاشف مجید(آئی ٹی اسسٹنٹ،رمضان شوگر ملز)
14۔مسرورانور(کیش بوائے،رمضان شوگر ملز)

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ”رمضان شوگر ملز کے اِن 14چھوٹے ملازمین کی تنخواہیں چند ہزار روپے جبکہ ان کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹس میں اربوں روپے جمع کرائے جاتے رہے۔“
ان14ملازمین کے اکاؤنٹس میں جن64افراد کی جانب سے بھاری فنڈز جمع کرائے گئے۔۔۔ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں ان تمام افراد کے نام اور ان کے خلاف دستاویزی شواہد موجود ہیں۔۔۔ان 64افراد کی جانب سے رمضان شوگر ملز کے ملازمین کے بے نامی اکاؤنٹس میں فنڈز جمع کرانے کی منی ٹریل ایف آئی اے چالان کا حصہ ہے۔
سیاست دان،ٹھیکیدار۔۔۔کیا اِن بے نامی اکاؤنٹس سے رشوت لی گئی؟
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ”رمضان شوگر ملز کے ملازمین کے بے نامی اکاؤنٹس میں فنڈز جمع کرانے والوں کا شوگر کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟
ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق”ان بے نامی اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے فنڈز کی منی ٹریل کا تجزیہ کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ جن پارٹیز کی جانب سے ان کاؤنٹس میں بذریعہ چیک فنڈز جمع کرائے گئے ان میں سیاست دان،تعمیراتی ٹھیکیدار،پیٹرولیم ڈیلرز،فارما وینڈرز،فلور اور رائس مل مالکان اور دیگر ٹریڈرز شامل ہیں۔۔۔ان تمام افراد کی جانب سے شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے ان بے نامی اکاؤنٹس میں یہ فنڈزسال2008ء تا سال2018ء کے عرصہ میں جمع کرائے گئے۔۔۔یہ وہ عرصہ ہے جب شہباز شریف کے پاس پنجاب کے وزیراعلیٰ کا عہدہ تھا۔۔اس کے علاوہ شہباز شریف اپنی فیملی(شہباز شریف فیملی) کے سربراہ بھی تھے۔۔اس فیملی کے پاس کئی کاروبار تھے،جنہیں کمپنی کی دستاویزات میں شریف گروپ کہا جاتا تھا۔۔۔اس شریف گروپ میں رمضان شوگر ملز کے علاوہ کئی کاروبار ہیں۔“
یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل
ایف آئی اے رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ”2008ء سے2018ء کے عرصہ میں جب اِن‘بے نامی اکاؤنٹس‘ کو رمضان شوگر ملز/شریف گروپ کے ملازمین کے نام پر چلایا جا رہا تھا تو اس دوران حمزہ شہباز شریف رمضان شوگر ملز کے سی ای او تھے۔۔۔میاں شہباز شریف نے شریف گروپ کی منی لانڈرنگ کی سرپرستی کی۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ان مرکزی ملزمان(شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز)نے رمضان شوگر ملز کے ملازمین کے ان بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے پوشیدہ ٹرانزیکشنز کے ذریعے وہ وسائل حاصل کئے،جو ان کے معلوم ذرائع آمدن سے کہیں زیادہ ہٹ کر ہیں اور یہ چیز ’مجرمانہ مِس کنڈکٹ‘ کے زمرے میں آتی ہے۔“
شہباز شریف،اسحاق ڈار کا اعترافی بیان اور منی لانڈرنگ
ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ”منظم منی لانڈرنگ کیلئے شہباز شریف کی جانب سے بے نامی اکاؤنٹس چلانایا جعلی آئی ڈیز کا استعمال کرنا شہباز شریف کیلئے نئی بات نہیں۔۔۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی پاناما جے آئی ٹی رپورٹ میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کا حوالہ دیا گیا تھا۔۔اس اعترافی بیان کو آج تک پاکستان کے کسی جوڈیشل فورم پر واپس نہیں لیا گیا۔۔۔اسحاق ڈار نے اپنے اس اعترافی بیان میں انکشاف کیا تھا کہ کس طرح شہباز شریف نے جعلی ٹی ٹیز کیلئے فرضی آئی ڈی کا انتظام کیا تھا۔۔۔“
ایف آئی اے کی اس تحقیقاتی رپورٹ/چالان میں مزید کہا گیا تھا کہ”بے نامی اکاؤنٹس میں 16ارب روپے سے زائد کے فنڈز حاصل کرکے شہباز شریف اور خاندان نے خود کو دولتمند بنایا۔شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کراِن بے نامی اکاؤنٹس کے آپریشن کی سرپرستی کی۔۔۔اگر شہباز شریف کے پاس بطور وزیراعلیٰ پنجاب ایگزیکٹو کا مکمل اختیار نہ ہوتا تو انہیں بے نامی اکاؤنٹس سے تھرڈ پارٹیز کی جانب سے بھاری فنڈز موصول نہ ہوتے۔“
ملزمان کا عدم تعاون
ایف آئی اے تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ”۔۔۔معلوم ذرائع آمدن سے ہٹ کر حاصل کردہ مالی وسائل،جنہیں واضح طور پر ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہوتو ایسے مالی وسائل کو ثابت کرنے کا بارِ ثبوت پبلک سرونٹس پر ہوتا ہے۔۔۔شہباز شریف(جو کہ اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب تھے) اور حمزہ شہباز (جو کہ اس وقت ایم این اے تھے)،کو تحقیقات کے دوران کافی موقع دیا گیا کہ وہ ان کو ثابت کریں۔۔۔تاہم انہوں نے اس سے مسلسل گریز کیا اورعدم تعاون کیا اوریوں انہوں نے اِن مواقع کو ضائع کر دیا۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
