بدھ, اکتوبر 28, 2026
اسکینڈلز

زرداری نے مردہ شخص سے اپنی مہنگی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟

Share

دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ آصف علی زرداری نے بطورصدرِ پاکستان چین سے دو مہنگی اورلگژری بلٹ پروف گاڑیاں اِمپورٹ کی تھیں،جن کی ڈیوٹی کی مد میں واجب الاداء ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کی رقم کوایک فوت شدہ شخص نے بھرا تھا۔ آصف علی زرداری کے اس اسکینڈل سے متعلق انکشاف سال2018ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کیلئے تشکیل شدہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ چین میں ان گاڑیوں کی خریداری کیلئے ادائیگی کی رقم بھی زرداری کے ایک فرنٹ مین نے دبئی سے چین منتقل کی تھی اور بعد میں زرداری نے ان گاڑیوں کو اپنے اثاثوں میں ظاہر بھی نہیں کیاتھا۔

یادرہے جعلی اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجہ میں نیب کی جانب سے کئی ملزمان سے اربوں کی وصولیاں بھی کی جا چکی ہیں،جو ان کیسز میں جے آئی ٹی کی جانب سے جمع شدہ شواہد کی سندکاثبوت ہے۔ان جعلی اکاؤنٹس کیس کا مرکزی ملزم زرداری خاندان ہے۔

زرداری نے مُردے سے ڈیوٹی کیسے بھروائی؟
جعلی اکاؤنٹس جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق سال2010ء میں آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے تو انہوں نے چین سے اپنے استعمال کیلئے دو بلٹ پروف مِٹسوبشی ایس یو ویز اِمپورٹ کیں۔زرداری نے بعد ازاں ان گاڑیوں کو 31جنوری2011ء کی تاریخ کو ’اسلام آباد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس‘ سے اپنے نام پر رجسٹرڈ کروا لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ان گاڑیوں کی خریداری کیلئے ادائیگی کی رقم آصف علی زرداری کے فرنٹ مین عبدالغنی انصاری نے متحدہ عرب امارات سے چین منتقل کی تھی۔ اس ٹرانزیکشن کے ثبوت کو بھی جے آئی ٹی رپورٹ کے ساتھ منسلک کیاگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان گاڑیوں کی ڈیوٹی کی مد میں ادائیگی کیلئے ’کولیکٹر کسٹمز اسلام آباد‘ کو جو’پے آرڈر‘ جاری کیاگیاتھا،اسے ’نیشنل بینک آف پاکستان کی آواری ٹاورزبرانچ،کراچی سے جاری کیاگیا تھا اوراس کیلئے محمد ادریس نامی شخص کی جانب سے ایک کروڑ42لاکھ روپے کیش کی ادائیگی کی گئی تھی۔

Fake Accounts JIT Report; Relevant page

زرداری خاندان کے معاملات کی تحقیقات کرنیوالی ٹیم نے ان اِمپورٹ شدہ گاڑیوں کی ڈیوٹی کی رقم بھرنے والے محمد ادریس نامی شخص کی فیملی سے رابطہ کیاتو پتہ چلا کہ محمد ادریس کی جانب سے جس تاریخ کو ڈیوٹی کی ادائیگی کی گئی ہے،وہ اس سے دو برس قبل وفات پاچکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

اس حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’محمد ادریس کی فیملی سے رابطہ کیاگیا تو انکی جانب سے بتایا گیا کہ محمد ادریس کا انتقال ڈیوٹی کی ادائیگی کی تاریخ سے دو برس قبل ہوچکا تھا۔یوں جب فوت شدہ محمد ادریس کی جانب سے زرداری کی گاڑیوں کی ڈیوٹی بھری جارہی تھی،اس وقت ان کی وفات کو دو برس ہو چکے تھے۔ اس حوالے سے تمام تر شواہد جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہیں،جن میں محمد ادریس کاڈ یتھ سرٹیفیکیٹ،ٹرانزیکشن اور کولیکٹر کسٹمز اسلام آباد کے نام ڈیپازٹ سلپ نامی دستاویزات شامل ہیں۔

JIT Report: How Zardari paid price and duty of Luxury Imported vehicles

جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بلٹ پروف گاڑیوں کی اِمپورٹ کیلئے وزارتِ داخلہ سے این او سی لینا ضروری ہوتا ہے اوریہ گاڑیاں ناقابلِ ٹرانسفرہوتی ہیں۔رپورٹ میں زرداری کی ان اِمپورٹ شدہ گاڑیوں کے معاملہ کی چھان بین سے متعلق مزید بتایا گیا ہے کہ’جے آئی ٹی کے سیکرٹری نے سرکاری طور پر ان گاڑیوں کا ریکارڈ طلب کیا تو گیارہ دسمبر2018ء کو ’ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس،اسلام آباد‘نے خط لکھ کر جے آئی ٹی کو مطلع کیاکہ ان گاڑیوں کے اِمپورٹر اورمالک کا نام آصف علی زرداری ولد حاکم علی زرداری ہے۔

زرداری نے اِمپورٹ شدہ گاڑیوں کو اثاثوں میں چھپایا
زرداری نے ایک طرف ان اِمپورٹ شدہ گاڑیوں کی خریداری کی قیمت اپنے فرنٹ مین سے بھروائی اور ڈیوٹی ایک فوت شدہ شخص سے جعلی انداز میں بھروائی تو دوسری طرف ان گاڑیوں کو اپنے اثاثوں میں بھی ظاہر نہیں اور اس سب کے باوجود وہ سال2011ء سے نااہلی سے بچتے رہے اور2018ء کے الیکشن میں ایم این اے بھی منتخب ہوگئے۔

ان گاڑیوں کو اثاثوں میں چھپانے سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے چین سے اِمپورٹ کی جانیوالی ان گاڑیوں کو اپنی دائر شدہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں 2011ء کے بعد سے چھپایا۔ اس کے علاوہ زرداری نے ان گاڑیوں کو سال2018ء کے عام انتخابات کیلئے دائر کاغذاتِ نامزدگی میں بھی ڈیکلیئرنہیں کیا۔

JIT Report

رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ ’زرداری کی جانب سے ان اِمپورٹ شدہ گاڑیوں کو ظاہر نہ کرنے کا عمل انکی جانب سے اثاثوں سے متعلق غلط بیانی کو ثابت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل

توشہ خانہ گاڑیوں کا معاملہ
اسی جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ زرداری کو بطور صدر لیبیا اورمتحدہ عرب امارات سے تین مہنگی گاڑیاں تحفے میں ملی تھیں،جنہیں قانون کے مطابق حکومت کو جمع کرایا جانا تھا تاہم زرداری نے اپنے ہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے رُولز ریلیکس کروا کر تینوں گاڑیوں کو کل قیمت کا محض 15فیصد بھر کے اپنی ملکیت میں لے لیا تھا۔ ان گاڑیوں کے ضمن میں ٹیکسز اور ڈیوٹی زرداری نے خود نہیں بھری تھی بلکہ ان جعلی اکاؤنٹس سے بھروائی گئی تھی،جنہیں منی لانڈرنگ آپریشن کیلئے بنایاگیاتھا۔دستاویزات کے مطابق جعلی اکاؤنٹس میں پہلے بحریہ ٹاؤن نے رقم جمع کرائی جبکہ بعد میں اسی رقم کو زرداری نے تحفہ شدہ گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی کی مد میں ادا کروادیا۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے