منگل, نومبر 3, 2026
اسکینڈلز

عوام کاخون نچوڑکر سرکاری فنڈزسے اربوں کے ذاتی گھر بنانے والے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

Share

قسمت خان زِمری، فردِجرم ڈاٹ کام

سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم نے ملک کے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی سے اپنے ذاتی گھروں کی تزئین و آرائش اورمرمت پر کروڑوں روپے خرچ کئے۔ ان وزراء اعظم میں ذوالفقار علی بھٹو،محمدخان جونیجو،بینظیر بھٹو،غلام مصطفی جتوئی اورمیربلخ شیرمزاری شامل ہیں۔

پاکستان کے ان پانچ جاگیرداروزراء اعظم کی جانب سے عوام کے پیسوں کو بے رحمی سے ذاتی گھروں پر لگائے جانے کا انکشاف آج سے لگ بھگ تین دہائیاں قبل پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہواتھا۔ ان پانچ وزرائے اعظم میں سے دو کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے تھا اور ان کی اس لوٹ مار کا انکشاف بھی بینظیربھٹو کی دوسری حکومت کے دوران ہواتھا۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کو یہ انکشاف اپوزیشن کی جانب سے حکومت سے مانگی گئی معلومات کے جواب میں کرنا پڑا تھا۔

کس وزیراعظم نے عوام کا کتنا پیسہ ذاتی گھرپرلگایاتھا؟
سال1994ء میں ن لیگی ایم این اے حمزہ کے ایک سوال کے جواب میں اس وقت کی پیپلزپارٹی حکومت کے ’منسٹر فاروَرکس‘ مخدوم امین فہیم کو مجبوراًپارلیمنٹ کو یہ معلومات دینا پڑی تھیں کہ انکی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو وزرائے اعظم سمیت کل پانچ وزارء اعظم نے ملک کی غریب عوام کے کروڑوں (موجودہ مالیت اربوں) اپنے ذاتی گھروں کی تعمیرو مرمت پر لگا دئے تھے۔

ن لیگی رکن پارلیمنٹ حمزہ نے حکومت سے پوچھا تھا کہ سال1971ء سے لیکر1994ء تک وزرائے اعظم کی نجی رہائش گاہوں پر خرچ کی جانیوالی رقوم کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

اس سوال کے جواب میں اس وقت کے منسٹرفاروَرکس مخدوم امین فہیم نے پارلیمنٹ میں جو ڈاکومنٹ شیئر کیاتھا،اسکے مطابق سترکی دہائی سے سال1994ء تک سرکاری خزانے سے ذاتی گھروں کی تعمیرومرمت اورتزئین و آرائش کرنیوالے وزرائے اعظم اوران کی جانب سے کئے جانیوالے اخراجات کی تفصیل کچھ یوں تھی:۔

ذوالفقارعلی بھٹو
غریب عوام کیلئے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے سندھ کے بڑے جاگیردار ذوالفقارعلی بھٹو نے بطوروزیراعظم اپنے ذاتی گھر کی تزئین و آرائش اورمرمت پر سرکاری خزانے سے 48لاکھ52ہزار روپے خرچ کئے۔ذوالفقار علی بھٹو نے غریب عوام کو روٹی کپڑامکان دینے کی بجائے ان ہی کی دولت سے اپنے مکان کی تعمیرومرمت اورتزئین و آرائش پر بھاری اخراجات کئے۔

Zulfiqar Ali Bhutto

سرکاری دستاویزات کے مطابق ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنی ذاتی رہائش گاہوں کو ’سرکاری رہائش گاہ‘ کا درجہ دینے کے بعد سرکاری خزانے سے یہ اخراجات کئے تھے۔

محمد خان جونیجو
سرکاری دستاویزات کے مطابق سال1985ء سے1988ء کے عرصہ میں وزیراعظم رہنے والے محمد خان جونیجو نے سرکاری خزانے سے اپنے ذاتی گھر پر ایک لاکھ82ہزار روپے خرچ کئے تھے۔

Muhammad Khan Junejo

محمد خان جونیجوفوجی ڈِکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے دور میں غیرجماعتی بنیادپر ہونیوالے انتخابات کے بعد ملک وزیراعظم بنے تھے۔وہ23مارچ1985ء سے 29مئی1988ء تک ملک کے وزیراعظم رہے۔

بینظیربھٹو
جاگیردارخاندان سے تعلق رکھنے والی بینظیربھٹو 1988ء میں پہلی بار وزیراعظم بنیں تو انہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سرکاری خزانے سے اپنی ذاتی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش اورمرمت پر 24لاکھ27ہزار روپے خرچ کئے۔

Benazir Bhutto

بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے پہلے چند ماہ میں سرکاری خزانے سے اپنے ذاتی گھر کی تزئین و آرائش و مرمت پر ایک لاکھ33ہزار روپے خرچ کئے۔ پارلیمنٹ میں یہ معلومات چونکہ سال1994ء میں شیئرکی گئی تھیں اور بینظیربھٹو کی حکومت سال1996ء کے آخرتک رہی،اس لئے یہ ممکن ہے کہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں بینظیر بھٹو کی جانب سے سرکاری خزانے سے اپنے ذاتی گھروں پر مزید اخراجات بھی کئے گئے ہوں۔

غلام مصطفی جتوئی
سال1990ء میں ملک کے نگران وزیراعظم رہنے والے سندھ کے بڑے جاگیردارغلام مصطفی جتوئی نے سرکاری خزانے سے اپنی ذاتی رہائش گاہ کی تعمیرومرمت اور تزئین و آرائش پر تین لاکھ دس ہزار روپے خرچ کئے تھے

Ghulam Mustafa Jatoi


غلام مصطفی جتوئی 6اگست1990ء سے 6نومبر1990ء تک ملک کے نگران وزیراعظم رہے۔

میربلخ شیرمزاری
مزاری قبیلے کے سردار میربلخ شیرمزاری نے1993ء میں اپنی نگران وزارتِ عظمیٰ کے دوران اپنے ذاتی گھر کی تزئین و آرائش اورمرمت پر سرکاری دولت سے 7لاکھ29ہزار روپے خرچ کئے۔

Mir Balakh Sher Mazari

میربلخ شیرمزاری کو1993ء میں صدرغلام اسحاق خان کی جانب سے نوازشریف حکومت کی برطرفی کے بعد نگران وزیراعظم تعینات کیاگیا تھا۔ وہ صرف چالیس روز نگران وزیراعظم رہے تھے کیونکہ سپریم کورٹ نے نوازشریف حکومت کو بحال کردیاتھا اور نگران حکومت کو غیرقانونی قراردے دیا تھا تاہم اس مختصر عرصہ میں میربلخ شیر مزاری نے اپنے ذاتی گھرکی تزئین و آرائش اورمرمت پرسرکاری خزانے سے لاکھوں خرچ کر ڈالے تھے۔

Document shared in Parliament by Minister Makhdoom Amin Fahim. Document shows funds spent by Pakistan’ 5 PMs on their private Residences

سرکاری رہائش گاہوں پر اخراجات
بینظیر بھٹو حکومت کے وزیرمخدوم امین فہیم نے پارلیمنٹ میں جو دستاویزات شیئر کی تھیں ان میں پاکستان کے وزرائے اعظم کی سرکاری رہائش گاہوں کے بھاری اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی تھیں۔ سترکی دہائی سے1994ء تک جو وزرائے اعظم اپنی ذاتی رہائش گاہوں پر بھاری اخراجات کررہے تھے وہ سرکاری خزانے سے سرکاری رہائش گاہوں پر بھی کروڑوں کے اخراجات کر رہے تھے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران سرکاری رہائش گاہ پر کل ایک کروڑ27لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے جبکہ سال1985ء سے سال1993ء میں جو کہ محمد خان جونیجو،بینظیربھٹو،غلام مصطفی جتوئی اورنوازشریف کی وزارتِ عظمی کا دور ہے،میں وزرائے اعظم کی سرکاری رہائش گاہوں پر قومی خزانے سے 7کروڑ14لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے تھے۔

This document shows Expenditures by Prime Ministers of Pakistan on Official Residences

اراکینِ پارلیمنٹ کا ردعمل
ستر کی دہائی سے 1994ء تک پاکستان کے پانچ جاگیردار وزرائے اعظم کی جانب سے اپنے ذاتی گھروں کی تعمیرومرمت اورتزئین و آرائش پر سرکاری خزانے سے کی جانیوالی شاہ خرچیوں کی ان تفصیلات پر اراکینِ پارلیمنٹ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ گوہرایوب خان اس وقت ن لیگ کے رکنِ اسمبلی تھے۔انہوں نے ان سرکاری معلومات کے سامنے آنے پر فضول خرچی کرنیوالے ان وزراء اعظم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ”۔۔جب ذوالفقارعلی بھٹو نے سترکی دہائی میں لاڑکانہ میں اپنے ذاتی گھر پر ساڑھے48لاکھ روپے خرچ کئے،اس وقت سونے کی قیمت اندازاً182روپے فی تولہ تھی۔آج (یعنی1994ء میں)تین ہزاراورکچھ روپے فی تولہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ آج کے حساب سے یہ رقم ساڑھے سات کروڑ روپے بن جاتی ہے۔“

گوہر ایوب خان ستر کی دہائی اور1994ء میں سونے کے فی تولہ نرخ کا موازنہ کرکے ذوالفقارعلی بھٹو کی جانب سے ذاتی گھر پر سرکاری خزانے کے اخراجات کاتازہ حساب نکال رہے تھے۔ اس حساب سے اگر ستر کی دہائی میں سونے کے فی تولہ ریٹ کو آج یعنی اکتوبر2022ء سے موازنہ کریں تو اس وقت سونے کا فی تولہ نرخ ایک لاکھ36ہزار روپے سے زائد ہے۔ اس حساب سے بھٹو کی جانب سے ستر کی دہائی میں کئے جانے والے ساڑھے48لاکھ روپے اخراجات کی تازہ مالیت اربوں میں جا پہنچتی ہے۔

گوہر ایوب خان نے مزید کہاتھا کہ”ذوالفقارعلی بھٹو کی طرح بینظیربھٹو نے بھی ساڑھے24لاکھ روپے اپنے ذاتی گھر پر خرچ کیا۔بینظیر نے بھی شاید اسی گھر پر یہ خرچہ کیا ہے جس پر ذوالفقارعلی بھٹو نے اخراجات کئے تھے۔ یہ عیاشی کس قانون کے تحت ہے؟جو عوام کی بات کرتے ہیں انکی جانب سے عوام کا پیسہ اپنے نجی گھروں پر کیوں خرچ کیاجاتا ہے؟سرکاری فنڈز کو نجی رہائش گاہوں پر کیوں اورکس قانون کے تحت خرچ کیاجارہا ہے؟“

محمودخان اچکزئی نے سابق نگران وزیراعظم میربلخ شیرمزاری کی جانب سے سے ذاتی رہائش گاہ پرکئے جانیوالے اخراجات پر ردعمل دیتے ہوئے کہاتھا کہ ”اس ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بڑی اکثریت سے چالیس روز میں سات لاکھ روپے خرچ کرنیوالی میربلخ شیرمزاری کی نگران حکومت کو غیرقانونی قراردیا۔“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

3 thoughts on “عوام کاخون نچوڑکر سرکاری فنڈزسے اربوں کے ذاتی گھر بنانے والے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم”

  • Thanks Qismat bhao for giving me such a marvelous and informative news ❤❤❤❤❤❤😕😕

    Reply
  • Thanks Qismat bhai for giving me such a marvelous and informative news ❤❤❤❤❤❤😕😕

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے