منگل, نومبر 3, 2026
تاریخی رپورٹس

فوج کے سپریم کمانڈر نے ارشدشریف کی زندگی کو محفوظ بنانے کیلئے وزیراعظم کو کیاہدایات دی تھیں؟

Share

قسمت خان زمری،فردِجرم ڈاٹ کام

ارشدشریف کی زندگی کو محفوظ بنانے کیلئے فوج کے سپریم کمانڈر یعنی صدرِ پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے کئی ہفتے قبل وزیراعظم شہبازشریف کو پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی۔

ارشدشریف شہید نے 12جولائی2022ء کو اپنے قتل سے ساڑھے تین ماہ قبل صدرِ پاکستان کو خط لکھ کر اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے آگاہ کیاتھا اور ریاستِ پاکستان سے قانون کا تحفظ مانگا تھا۔انہوں نے اپنے اس خط سے متعلق مسلح افواج کی قیادت کو بھی آگاہ کیا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹر پر ٹیگ کیاتھا۔ مزید یہ کہ انہوں نے جو خط صدرِ پاکستان کو لکھا تھا،اسے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی”سی سی“ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ارشدشریف نے زندگی کو خطرات بارے ساڑھے تین ماہ قبل فوجی قیادت کو آگاہ کر دیاتھا

صدر،جو کہ آئین کے تحت مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں،نے 15جولائی 2022ء کو ارشد شریف کی زندگی کو درپیش خطرات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا تھا اور ساتھ ہی وزیراعظم شہبازشریف سے کہا تھا کہ وہ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ہدایات دیں کہ وہ ارشد شریف کی زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق ’پیشگی‘اقدامات اٹھائیں۔

مسلح افواج کے سپریم کمانڈر
پاکستان کا آئین صدرِ پاکستان کو فوج کی سپریم کمانڈ تفویض کرتا ہے۔ اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 243میں بتایا گیا ہے کہ”مسلح افواج کی سپریم کمانڈصدرکے ہاتھ میں ہوگی اور صدر کو قانون کے تابع یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ پاکستان کی بری،بحری اورفضائی افواج اورمذکورہ افواج کے محفوظ دستے قائم کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔“

Article 243 of Pakistan Constitution which grants Supreme Command of Armed Forces to President of Pakistan

صدر نے وزیراعظم کے نام اپنے خط میں کیالکھاتھا؟
صدرِ پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے ارشد شریف کی جانب سے لکھے گئے اس خط کو وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ شیئرکیا تھا جس میں ارشد شریف نے تفصیل سے لکھا تھا کہ کس طرح ’چند بے ایمان عناصر‘سے انکی زندگی کو خطرہ ہے اور انہیں قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔صدر نے15جولائی2022ء کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا جس میں انہیں ارشدشریف کی زندگی کو درپیش خطرات سے آگاہ کیاگیا اورساتھ ہی ارشد شریف کی زندگی کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کا کہاگیا۔

صدرِ پاکستان کے ویری فائیڈ ٹوئٹراکاؤنٹ سے 15جولائی2022ء کو ٹویٹ کرکے صدر کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کو لکھے گئے اس خط سے متعلق عوام الناس کو آگاہ کیاگیا۔ صدرِ پاکستان کے ویری فائیڈ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہونیوالی اس ٹویٹ میں لکھاگیاتھا کہ”ارشدشریف نے صدرکی توجہ دھمکیوں کی جانب دلائی تو اسکے بعد صدرِ پاکستان نے وزیراعظم کو لکھ دیا ہے۔ آئین سب کے حقوق اورتحفظ کی ضمانت دیتا ہے لیکن جب صحافی زیرِدباؤ ہوں تو پھر تنقید،آزادی اظہاراورجمہوریت سب کو خطرہ ہوتا ہے۔“

Image of tweet from President of Pakistan regarding President’ letter to PM on threats to Arshad Sharif life

اس کے بعد اس ٹویٹ کے ساتھ صدر کی جانب سے وزیراعظم کو لکھے گئے خط کو منسلک کیاگیا ہے۔اس خط کا عنوان ہے”صحافیوں اورمیڈیاپرسنز کے خلاف تشدد کے واقعات۔“

اس خط میں صدر نے اسی موضوع پر اپنے ایک اور خط کا حوالہ بھی دیا ہے،جسے7جولائی2022ء کو وزیراعظم کو لکھا گیا تھا اوراس خط کو اپنے گزشتہ خط کا تسلسل قراردیاتھا۔

President’ Letter to PM Shahbaz Sharif regarding threats to Arshad Sharif Life

صدر نے اپنے15جولائی2022ء کے خط میں لکھا کہ”اینکرپرسن ارشد شریف کی جانب سے موصول شدہ ایک خط کو آپ کی مہربان توجہ کیلئے بھیجا جارہا ہے۔انہوں نے چند نمایاں صحافیوں اورمختلف ذرائع سے جمع ہونیوالی معلومات کو کاحوالہ دیاہے اورالزام عائد کیا ہے کہ’بے ایمان عناصر‘اس کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے صدر کی توجہ اپنے بنیادی حقوق،جنہیں آئین کے آرٹیکل چار،آرٹیکل نو،آرٹیکل دس اے،آرٹیکل چودہ،آرٹیکل اٹھارہ،آرٹیکل انیس اور آرٹیکل انیس اے میں بیان کیاگیا ہے، کے تحفظ کی جانب دلائی ہے۔“

صدر نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ”آئین ریاست سے کہتا ہے کہ افرادکو انکے حقوق اورتحفظ فراہم کیا جائے۔پاکستان نے ہمیشہ ایسے کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اگر صحافیوں اورمیڈیا پرسنز کے کیس میں،اگر وہ خود کو زیرِدباؤ محسوس کریں تو پھر قانونی حدود کے اندر منصفانہ تنقید،آزادی اظہاراوربذاتِ خودجمہوریت کو بھی خطرہ ہوتا ہے۔“

اپنے خط کے آخر میں صدر نے وزیراعظم کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ وزارتوں اورمحکمہ جات کو ہدایات جاری کریں کہ وہ ارشد شریف کی زندگی کو درپیش خطرات سے متعلق پیشگی اورانسدادی اقدامات اٹھائیں۔

ارشد شریف نے صدر کے نام لکھے گئے اپنے خط میں کیالکھا تھا؟
ارشد شریف کے جس 12جولائی2022ء کے خط کو صدر عارف علوی نے وزیراعظم شہبازشریف کو بھیجاتھا،اس خط میں ارشد شریف نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات بارے معلومات مہیا کی تھیں۔ اس خط میں ارشدشریف نے لکھا تھا کہ”۔۔۔قانون کی پاسداری کرنیوالے پاکستان کے ایک شہری کی حیثیت سے میں اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ اورصحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے انصاف کا متلاشی ہوں اوراپنے اوردیگرصحافیوں کی زندگی اورآزادی کو سنگین خطرے کی ا نفارمیشن کو ریکارڈپررکھتا ہوں۔“

ارشدشریف نے اس خط میں مزیدلکھا تھا کہ”قابلِ احترام ڈاکٹرعارف علوی صاحب،ایک تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے، جسے سال2019ء میں تحقیقاتی صحافت پر ریاست کی جانب سے ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ ملا تھا، آپ کے نوٹس پر لانا چاہتا ہوں کہ چند بے ایمان عناصر کی جانب سے مجھے ہدف بنانے اورغیرقانونی طور پرروکنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل چار،آرٹیکل نو،آرٹیکل دس اے،آرٹیکل چودہ،آرٹیکل اٹھارہ،آرٹیکل انیس اور آرٹیکل انیس اے تحت اپنے حقوق اورفرائض کی انجام دہی سے باز رہوں۔“

ارشدشریف نے خط میں مزید لکھاتھا کہ”۔۔مستندذرائع سے ملنے والی قابلِ ساکھ معلومات کی بنیاد پر میں یہ ریکارڈپرلاتا ہوں کہ ’چندبے ایمان عناصر‘کی جانب سے ڈِسکشنز کی گئیں کہ مجھے جھوٹے،بوگس اورمن گھڑت کرمنل کیسز میں ملوث کیا جائے؛اغواء کیا جائے یا جبری طورپرگمشدہ کیا جائے یا پھر مجھے اوردیگرصحافیوں کو ماراپیٹاجائے۔“

ارشدشریف نے اپنی معلومات کی بنیاد پر اس خط میں مزیدلکھا تھا کہ”میرے قابلِ اعتبارذرائع کے مطابق ایسی ہی منصوبہ بندی دیگر صحافیوں کے خلاف بھی کی گئی ہے جن میں عارف حمیدبھٹی،عمران ریاض خان،سمیع ابراہیم،صابرشاکر،صدیق جان،ڈاکٹرمعید پیرزادہ،جمیل فاروقی اورچنددیگرشامل ہیں۔“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

2 thoughts on “فوج کے سپریم کمانڈر نے ارشدشریف کی زندگی کو محفوظ بنانے کیلئے وزیراعظم کو کیاہدایات دی تھیں؟”

  • Kazim

    Who is responsible everyone knows , who has sugar mills in Kenya

    Reply
  • Abdul Qayyum

    In these Circumstances Mr PM is held responsible

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے