منگل, اکتوبر 27, 2026
تاریخی رپورٹس

اصغر خان کیس:جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی نے حلف پر نوازشریف سمیت کئی سیاست دانوں میں پیسے تقسیم کرنے کا اعتراف کیا

Share

قسمت خان زِمری،فردِ جرم ڈاٹ کام

نوازشریف پہلی بار سال1990ء میں مبینہ طور پر فوج کی مدد سے اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم بنے تھے۔اس حوالے سے فوجی قیادت نے مبینہ طور پر’اسلامی جمہوری اتحاد‘ کے سیاست دانوں میں کروڑ وں روپے بانٹ کر انہیں الیکشن جتوایا تھا۔نوازشریف کا نام بھی ان سیاست دانوں میں شامل ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر آئی ایس آئی سے پیسے لیکر یہ الیکشن لڑا تھا۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کے بقول سیاستدانوں میں پیسے انہوں نے تقسیم کئے تھے۔اس حوالے سے جنرل اسددرانی ایک حلف نامہ کی صورت میں سیاست دانوں میں پیسے تقسیم کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ اسددرانی نے یہ حلف نامہ سال1994ء میں دیا تھا۔جس میں انہوں نے سیاست دانوں میں پیسے بانٹنے کا اعتراف کیا تھا۔جنرل ریٹائرڈ اسددرانی کا وہ حلف نامہ اصغر خان کیس کی بنیاد بنا تھا۔جنرل ریٹائرڈ اسددرانی کا انکشافات اور اعترافات سے بھرپور وہ حلف نامہ سپریم کورٹ کے اصغر خان کیس کے2012ء کے فیصلہ میں شامل ہے۔

1st page from SC’ Asghar Khan Case Judgement of 2012

جنرل ریٹائرڈ اسددرانی کے حلف نامہ سے متعلق اصغر خان کیس کے سال2012ء کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ:۔
”گیارہ جون1996ء کو،جب پیپلزپارٹی کی حکومت تھی،تو اس وقت کے وزیرداخلہ میجر جنرل ریٹائرڈ نصیر اللہ خان بابر نے قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک تقریر کی اور انہوں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا حلف نامہ پیش کیا۔یہ حلف نامہ چوبیس جولائی1994ء کی تاریخ کا تھا۔اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل کئی جماعتوں اور سیاست دانوں کو الیکشن جتوانے کیلئے ان میں مختلف رقوم تقسیم کی گئی تھیں۔یہ بھی نوٹ کیا جاتا ہے کہ جب جنرل ریٹائرڈ اسددرانی نے یہ حلف نامہ دیا،اس وقت وہ بون،جرمنی میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے تعینات تھے۔جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی جانب سے اپنے حلف نامہ میں بیان کیا گیا تھا کہ ستمبرانیس سونوے میں جب وہ ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے تو انہیں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ سے ہدایات ملیں کہ’اسلامی جمہوری اتحاد‘کی الیکشن مہم کیلئے کراچی کے چند بزنس مینوں کی جانب سے دئے گئے عطیات کی تقسیم کیلئے ’لاجسٹک سپورٹ‘فراہم کی جائے۔‘

جنرل ریٹائرڈ اسددرانی کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس آپریشن کو حکومت کی حمایت حاصل ہے اور وہ موصول شدہ ہدایات کے مطابق کام کریں۔

حلف نامے کے مندرجات
جنرل ریٹارڈ اسد درانی کے اس بیانِ حلفی کے مندرجات کچھ یوں ہیں:۔

حلف نامہ

میں،لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسددرانی،بالغ، مسلمان،جو کہ اس وقت بون جرمنی میں پاکستان کی سفیر کی حیثیت سے تعینات ہوں،حلف دیتا ہوں اور حلفیہ تصدیق کرتا ہوں کہ:۔

ستمبرانیس سو نوے میں بطور ڈی جی آئی ایس آئی،مجھے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ،جو کہ اب ریٹائرڈ ہیں، کی جانب سے ہدایات ملیں کہ اسلامی جمہوری اتحادکی انتخابی مہم کیلئے کراچی کے چند بزنس مینوں کی جانب سے دئے گئے عطیات کی تقسیم کیلئے ”لاجسٹک اسپورٹ“ فراہم کروں۔مجھے بتایا گیا کہ اس آپریشن کو حکومت کی سپورٹ حاصل ہے۔

ان ہدایات کے مطابق میں نے چند افسران کو ٹاسک سونپے اور درج ذیل اقدامات اٹھائے:۔

کراچی،کوئٹہ اور راولپنڈی میں چند”کور اکاؤنٹس“ کھولے۔
یونس حبیب کی جانب سے کراچی کے اکاؤنٹس میں چودہ کروڑ روپے کی رقم جمع کرائی گئی
ضرورت کے مطابق رقوم کو کوئٹہ اور راولپنڈی کے اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا
آرمی چیف کے حکم پر یا پھر اس وقت ایوانِ صدر میں کام کرنیوالے والے الیکشن سیل کی جانب سے براہِ راست چھ کروڑ روپے تقسیم کئے گئے
بقایا رقم کو ایک اسپیشل فنڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

چھ کروڑ روپے کی تقسیم کو منسلک کر دیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسددرانی
چوبیس جولائی1994ء

Affidavit of Former DG ISI Asad Durrani

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے اپنے اس حلف نامہ میں بتایا تھا کہ درج ذیل سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں میں اس حساب سے پیسے تقسیم کئے گئے تھے:۔

این ڈبلیو ایف پی(موجودہ کے پی کے)

میر افضل۔۔۔۔۔۔ایک کروڑ روپے

پنجاب
نوازشریف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔35لاکھ روپے
عابدہ حسین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔10لاکھ روپے
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ رفاقت کو میڈیا کیلئے دی گئی رقم۔۔۔۔۔۔56لاکھ روپے
جماعتِ اسلامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔50لاکھ روپے
الطاف حسین قریشی اور مصطفی صادق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5لاکھ روپے
دیگر سیاست دان اور چھوٹے گروپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔33لاکھ روپے

سندھ
جتوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔50لاکھ روپے
جام صادق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔50لاکھ روپے
جونیجو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔25لاکھ روپے
پیرپگاڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔20لاکھ روپے
مولانا صلاح الدین۔۔۔۔۔۔۔۔۔تین لاکھ روپے
دیگرسیاست دان و چھوٹے گروپ۔۔۔54لاکھ روپے

بلوچستان
ہمایوں مری(بگٹی کے داماد)۔۔۔۔۔۔۔15لاکھ روپے
جمالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔40لاکھ روپے
کاکڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔10لاکھ روپے
کے بلوچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5لاکھ روپے
جام یوسف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساڑھے 7لاکھ روپے
بزنجو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5لاکھ روپے
ندیم مینگل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔10لاکھ روپے

گالف کورس کے ذریعے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5لاکھ روپے
دیگراخراجات بشمول بینک چارجزوغیرہ۔۔۔۔۔11لاکھ روپے

Details of Politicians who allegedly received funds from ISI for their Election Campaign. The Document is taken from SC Judgement in Asghar Khan Case.

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا خط
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسددرانی نے اس حلف نامہ سے قبل سات جون1994ء کو اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کو ایک خط لکھا تھا۔اس خط میں بھی انہوں نے اُن چند سیاست دانوں کے نام لئے تھے جنہیں انیس سو نوے کے عام انتخابات جتوانے کیلئے انہوں نے پیسے دئے تھے۔اسددرانی کے اس خط میں جن سیاست دانوں کے نام لئے گئے تھے،انکی تفصیلات کچھ یوں ہیں:۔

کھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔20لاکھ روپے
حفیظ پیرزادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔30لاکھ روپے
سرورچیمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5لاکھ روپے
معراج خالد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2لاکھ روپے

اس خط میں لیفٹیننٹ جنرل اسددرانی نے اعتراف کیا تھا کہ”اس آپریشن کو نہ صرف صدر کی حمایت اور نگران وزیراعظم کی بھرپور دلی شمولیت حاصل تھی بلکہ یہ فوج کی اعلیٰ کمان کے بھی علم میں تھا۔۔۔“

سپریم کورٹ نے فیصلہ میں کیاکہاتھا؟
سپریم کورٹ نے سال2012ء میں جاری کردہ اصغر خان کیس کے فیصلہ میں کہا تھاکہ”سماعت کے دوران فریقین کی جانب سے پیش کردہ بھاری مواد کے تناظر میں سال1990ء میں منعقد ہونیوالے عام انتخابات میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز ہوئی تھیں۔موجودہ کیس میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ 1990ء کے الیکشن میں انتخابات پر اثرانداز ہونے کیلئے ایوانِ صدر میں ایک ”الیکشن سیل“ قائم کیا گیا تھا۔۔اس عمل میں اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ اوراس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ اسددرانی کی جانب سے معاونت کی گئی تھی۔ان دونوں افراد نے فوج اور آئی ایس آئی کے بطور ادارے ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس الیکشن سیل کی غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔یہ ادارے کی بجائے ان افراد کا عمل ہے۔

فیصلہ میں مزید کہا گیا تھا کہ”اُس وقت حبیب بینک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو یونس حبیب نے مذکورہ حکام کے احکامات اور ایماء پر سرکاری خزانے سے چودہ کروڑ روپے کا انتظام کیا اور یہ رقم فراہم کی،جس میں سے چھ کروڑ روپے کی رقم سیاست دانوں میں تقسیم کی گئی۔جنرل ریٹائرد اسد درانی کی جانب سے ان سیاست دانوں کی نامکمل تفصیلات فراہم کی گئی ہیں،جن میں یہ پیسے تقسیم کئے گئے تھے۔مکمل تحقیقات کے بغیر عدالت کی ان کارروائیوں میں ان کے خلاف کوئی ناموافق حکم نامہ جاری نہیں کیا جا سکتا۔‘

فیصلہ میں کہا گیا کہ”۔۔انیس سو نوے کے انتخابات میں مبینہ طور پراپنی انتخابی مہم پر خرچ کیلئے عطیات لینے والے سیاست دانوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جانا چاہئے۔۔اس لئے ایف آئی اے کو ’کرمنل سائیڈ‘ پر ان تمام سیاست دانوں کے خلاف تحقیقات شروع کرنی چاہئیں اور اگر کافی شواہد ملتے ہیں تو ان سب کو قانون کے مطابق ٹرائل کا سامنا کرنا چاہئے۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے