منگل, اکتوبر 27, 2026
اسکینڈلز

ایف ڈبلیواو کی ملکیتی کمپنی نے سویلین حکام کے احکامات روندکرڈی ایچ اے اوربحریہ ٹاؤن کوفائدہ پہنچایا،دستاویزات میں انکشاف

Share

پاک فوج کے ادارے فرنٹیئروَرکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیواو) کی ایک ملکیتی کمپنی ’ایم ایس اسکور‘نے ملک کی بااثرترین ہاؤسنگ سوسائٹیوں ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کو فائدہ پہنچانے کیلئے سویلین ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی ہدایات کوپاؤں تلے روند دیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایف ڈبلیو او کی اس ملکیتی کمپنی ’ایم ایس اسکور‘نے سندھ میں کنٹریکٹ معاہدہ کے برخلاف ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کو انٹرچینجز کی مدد سے ایم نائن موٹروے تک رسائی فراہم کرکے بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچایا۔

FWO Official website says M/S SCORE is a wholly owned subsidiary of FWO

ایف ڈبلیواو کی ملکیتی کمپنی ’ایم ایس اسکور‘ کے اس اسکینڈل کا انکشاف 11نومبر2022ء کو پارلیمنٹ میں شیئرکی جانیوالی دستاویزات میں ہوا ہے۔یہ دستاویزات وزیرِمواصلات اسدمحمود کی جانب سے سندھ سے پیپلزپارٹی کے ایم این اے جام عبدالکریم بجاڑکی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیئر کی گئی ہیں۔وزارتِ مواصلات کی جانب سے پارلیمنٹ میں شیئر کی جانیوالی یہ دستاویزات پاک فوج کے ایک ادارے ایف ڈبلیو او کی ملکیتی کمپنی کے سامنے سویلین ادارے این ایچ اے کی مکمل بے بسی کو ظاہرکرتی ہیں۔

اسکینڈل کی تفصیلات
پیپلزپارٹی کے ایم این اے کی جانب سے وزارتِ مواصلات سے تحریری طور پر پوچھاگیا تھا کہ ’آیا متعلقہ حکام کے نوٹس میں ہے کہ مختلف رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کی جانب سے کراچی حیدرآبادموٹروے پر این ایچ اے کی سینکڑوں کنال زمین پر قبضہ کرلیا گیا ہے اورقبضہ کے بعد رئیل اسٹیٹ کمپنیاں اس زمین پر این ایچ اے کی منظوری کے بغیر اپنی ہاسنگ اسکیموں کیلئے انٹرچینجز اوردیگر روڈنیٹ وَرکس بنا رہی ہیں؟

The Question from MNA Jam Abdul Karim Bijar regarding encroachments of NHA land on Karachi-Hyderabad Motorway(M-9).

اگر ایسا ہورہا ہے تو ابھی تک این ایچ اے کی جانب سے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی اوربجائے کارروائی کے این ایچ اے ایک خاموش تماشائی بن چکا ہے جو کہ ایسے غیرقانونی اقدام کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔مزید یہ کہ سرکاری زمین واگزارکرانے کیلئے حکومت کی جانب سے کیا اقدامات اٹھائے جارہے ہیں؟‘

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف نے پاکستان کو لندن کے ایک ہوٹل سے چلانے پر 3لاکھ28ہزارڈالرزخرچ کئے

اس سوال کے جواب میں وزارتِ مواصلات کی جانب سے تحریری طور پر پارلیمنٹ کوآگاہ کیا گیا کہ کراچی حیدرآبادموٹروے(ایم نائن) کا انتظام25برس کیلئے ایف ڈبلیو اوکی ملکیتی کمپنی’ایم ایس اسکور‘ کے پاس ہے اور اس کمپنی نے ایم نائن موٹروے کے ساتھ موجود دوہاؤسنگ سوسائٹیوں ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کو بذریعہ انٹرچینجز ایم نائن موٹروے تک رسائی دے رکھی ہے۔ دستاویزات کے مطابق ڈی ایچ اے اوربحریہ ٹاؤن کو موٹروے کی سہولت کا فائدہ دینے کیلئے این ایچ اے سے کوئی منظوری نہیں لی گئی۔

Minister for Communications Asad Mahmood written response

وزارت کی دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایم نائن موٹروے کی کل لمبائی 136کلومیٹر ہے،جو کراچی میں سہراب گوٹھ سے شروع ہوکرجام شوروانٹرچینج سے پہلے ختم ہوجاتی ہے۔

دستاویزات میں بتایاگیاہے کہ کراچی حیدرآبادموٹروے(ایم نائن)کے ساتھ بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ڈویلپ کی جارہی ہیں۔ سہراب گوٹھ سے ڈی ایچ اے سٹی کراچی نامی ہاؤسنگ سوسائٹی سیمی اَربن علاقہ میں آتی ہے۔ اس علاقہ میں ایم نائن موٹروے پر ٹریفک بہت زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری خزانے سے ذاتی گھر بنانیوالے پاکستان کے5جاگیرداروزرائے اعظم

وزارتِ مواصلات کی دستاویزات میں مزید بتایاگیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی اورڈی ایچ اے سٹی کراچی کے رہائشیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے ’ایف ڈبلیواو‘ کی کمپنی ’ایم ایس اسکور‘ نے ان دونوں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو لُوپس اورانٹرچینج کے ساتھ’اَنڈرپاس‘فراہم کرکے موٹروے تک رسائی دی ہے۔اس سلسلہ میں بحریہ ٹاؤن کراچی کے سامنے اَنڈرپاس تعمیر کیاگیا ہے جبکہ ’ڈی ایچ اے سٹی‘ کے سامنے انٹرچینج تعمیرکیاگیا ہے۔

Minister for Communications Asad Mahmod’ written response which describes how FWO’ owned company M/S SCORE facilitated DHA and Bahria Town ignoring NHA

سرکاری دستاویزات کے مطابق بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کی سہولت کیلئے ایم نائن موٹروے پران انٹرچینجز کی تعمیر کا کام سال2017ء میں ن لیگ کے دورمیں شروع ہوا تھا جبکہ یہ کام سال2020ء میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران پایہ تکمیل کو پہنچاتھا۔

دستاویزات کے مطابق اس کام کے آغاز پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی(این ایچ اے) کی جانب سے بارہا اس کا ’سنجیدہ نوٹس‘ لیاگیا۔اس سلسلہ میں ’ایف ڈبلیواو‘کی کمپنی ایم ایس اسکورکو خط لکھے گئے اورکمپنی حکام سے میٹنگز کی گئیں کہ این ایچ اے کی منظوری تک تعمیراتی کام نہ کیاجائے۔تاہم ایف ڈبلیو او کی ملکیتی کمپنی نے ان سب ہدایات اورمنت ترلوں کو نظراندازکردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

دستاویزات کے مطابق’نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ایم ایس اسکورکو معاہدہ پرعملدرآمد کی ہدایت کی تاہم ایف ڈبلیواو کی کمپنی ایم ایس اسکور نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی ان ہدایات کو بھی نظراندازکردیا اوران دونوں طاقت ورہاؤسنگ سوسائٹیوں کے سامنے انٹرچینجز بناکر انہیں سال2020ء میں ٹریفک کیلئے کھول دیاگیا۔‘

دستاویزات کے مطابق این ایچ اے کی منظوری کے بغیر بنائی گئی ان سہولیات سے فائدہ اٹھا کرڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کے رہائشی ایم نائن موٹروے پر باقاعدگی سے سفرکررہے ہیں۔

Last Portion of Communications Ministry Document

دستاویزات کے مطابق ایف ڈبلیو او کی ملکیتی کمپنی ایم ایس اسکور کا کہنا ہے کہ ایم نائن موٹروے پر ان ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے سامنے انٹرچینجز اس لئے بنائے گئے تاکہ بحریہ ٹاؤن کراچی اور ڈی ایچ اے سٹی کراچی کے رہائشیوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔یہ دونوں میگاپراجیکٹس ہیں جن میں ہزاروں گھر،اسپتال،اسکول،کالج اوردیگرسہولیات بنائی جارہی ہیں۔

دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ نیشنل ہائی وے کونسل نے سال2019ء میں انٹرچینج سے موٹروے تک رسائی کیلئے ایک ریگولیشن پالیسی کی منظوری دی تھی اور این ایچ اے کی جانب سے ایف ڈبلیو او کی ملکیتی کمپنی ایم ایس اسکورکو بارہامشورہ دیا گیا کہ اس کیس کو ریگولرائزیشن کیلئے بھیجیں،تاہم ایم ایس اسکور نے اس کیس کو ابھی تک ریگولرائزیشن کیلئے نہیں بھیجا۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے