نوازشریف نے پاکستان کو لندن کے ہوٹل سے چلانے پر 3لاکھ 28ہزار ڈالرزخرچ کئے،دستاویزات میں انکشاف
سال2016ء میں بطوروزیراعظم نوازشریف علاج کی غرض سے لندن گئے تو وہاں ڈیڑھ ماہ قیام کیا۔ اس طویل قیام کے دوران نوازشریف اور انکے درباری وفد نے لندن کے ایک ہوٹل میں ’کیمپ آفس‘ سجا لیا اورسرکاری طور پر پاکستان کو لندن کے اس ہوٹل سے چلایا جاتا رہا۔ وزارتِ خارجہ کی دستاویزات کے مطابق نوازشریف کی جانب سے لندن میں کیمپ آفس پر ملک کے قیمتی زرِمبادلہ سے تین لاکھ 28ہزار ڈالرز خرچ ہوئے تھے۔پاکستانی کرنسی میں ڈالر کے موجودہ ریٹ کے حساب سے یہ رقم سوا7کروڑ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ لندن کے چرچل ہوٹل سے ڈیڑھ ماہ ملک کو چلاتے ہوئے بیمار نوازشریف اور انکے وفد نے 28462ڈالرز،جو ڈالر کے موجودہ ریٹ کے حساب سے ساڑھے62لاکھ روپے بنتے ہیں،صرف کھانے پینے پر خرچ کردئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کا وہ ایک شاہی حکم جو پی آئی اے کو320کروڑ میں پڑا
یاد رہے شریف خاندان لندن میں ذاتی پرآسائش فلیٹس کا مالک ہے اور یہ وہ متنازع جائیدادیں ہیں جن کی خریداری کے ذرائع سے متعلق آج تک شریف خاندان کسی فورم پر وضاحت نہیں دے سکا۔اس کے علاوہ لندن میں نوازشریف کا آفس بھی ہے۔ تاہم سرکاری ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ سال2016ء میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے لندن میں اپنی ذاتی رہائش گاہ اور آفس کی بجائے لندن کے چرچل ہوٹل میں کیمپ آفس بنایا،جس پر مقروض ملک کے خون پسینے کے کروڑوں روپے اڑادئے گئے۔نوازشریف نے لندن کا یہ طویل دورہ پاناما اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد کیاتھا۔

لندن ہوٹل میں اخراجات کی تفصیل
دسمبر2018ء میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں شیئر کی جانیوالی دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف 22مئی2016ء کو ایک خصوصی طیارے سے لندن گئے تھے اورعلاج کی وجہ سے ان کا دورہ لندن طول پکڑگیا۔ نوازشریف کو لندن لے جانیوالا خصوصی طیارہ ایک ہفتہ لندن رکنے کے بعد 29مئی2016ء کوپاکستان واپس بھیج دیاگیا۔وزارتِ خارجہ کی دستایزات کے مطابق نوازشریف کا 22مئی کولندن میں شروع ہونے والا قیام9جولائی2016ء کو اختتام پزیر ہوا اور انہیں ایک خصوصی طیارے سے وطن واپس لایا گیا۔

وزارتِ خارجہ کی دستاویزات کے مطابق لندن میں قیام کے دوران اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے چرچل ہوٹل میں ’کیمپ آفس‘ قائم کردیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق اس کیمپ آفس کو انتظامی و پروٹوکول تقاضوں کیلئے قائم کیاگیا تھا۔ کیمپ آفس میں استعمال کیلئے جو سامان کرائے پر لیاگیا،اس میں وَرک اسٹیشن،شریڈر،پرنٹر،فوٹوکاپی مشین اورفیکس مشین شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیر بھٹو کے پلاٹ پر قبضے کا اسکینڈل
سرکاری دستاویزات کے مطابق 22مئی سے9جولائی2016ء کے عرصہ میں نوازشریف کے لندن میں قیام کے دوران قومی خزانے سے تین لاکھ 28ہزار ڈالرز خرچ ہوئے۔

لندن کے ہوٹل میں کیمپ آفس سے ملک چلانے پر ہونیوالے اِن اخراجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کے وفد کے ڈیلی الاؤنس پر 29777ڈالرز خرچ ہوئے
ٹراسپورٹ کرائے پر لینے کی مد میں 28981ڈالرز خرچ کئے گئے
ائیرکرافٹ چارجز کی مد میں 56658ڈالرز خرچ کئے گئے
آئی ٹی سامان کرائے پر لینے کی مد میں 5841ڈالرز خرچ کئے گئے
موبائل ٹیلی فون کرائے پر لینے کی مد میں 3520ڈالرز خرچ کئے گئے
کھانوں کے انتظام پر 28462ڈالرز خرچ کئے گئے
ہوٹل اکاموڈیشن پر 173562ڈالرز خرچ کئے گئے
اخبارات پر 165ڈالرز خرچ کئے گئے
دیگر متفرق اخراجات کی مد میں 961ڈالرز خرچ ہوئے
وی وی آئی پی فلائٹ پر ساڑھے تین کروڑکے اخراجات
سال2016ء میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے اس دورہ لندن کے اخراجات صرف یہیں تک محدود نہیں تھے بلکہ ان اخراجات میں دورہ سے واپسی کے روزیعنی9جولائی2016ء کو تین کروڑ45لاکھ روپے کا اضافہ ہوگیا اور یوں اس دورہ سے واپسی اور لندن کے ہوٹل میں کیمپ آفس کے اخراجات ساڑھے10کروڑ روپے سے بھی تجاوز کرگئے۔

وزارتِ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق 9جولائی2016ء کو سابق وزیراعظم نوازشریف کو لندن سے واپس پاکستان لانے کیلئے ’وی وی آئی پی‘ فلائٹ کا انتظام کیاگیا،جس پر قومی خزانے سے تین کروڑ45لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
