کیا سینئرجرنیلوں نے نوازشریف کومنشیات کی اسمگلنگ کا مشورہ دیاتھا؟
سابق وزیراعظم نوازشریف نے انکشاف کیاتھا کہ 1991ء میں جب وہ وزیراعظم تھے تو فوج کے دو سینئرجرنیلوں نے انہیں حکومتی سرپرستی میں منشیات کی اسمگلنگ کامشورہ دیا تھا۔ اس انٹرویو کے بعد معروف کالم نگار اور دانشور قیوم نظامی نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ’نوازشریف کو یہ مشورہ دینے والے جرنیل اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسددرانی تھے۔
نوازشریف کے انکشاف کی تفصیل
سینئرصحافی سہیل وڑائچ نے نوازشریف اورشریف خاندان کے دیگر افراد کے جلاوطنی کے دوران انٹرویوزکرکے اسے ایک کتاب کی شکل میں شائع کیاتھا۔ اس کتاب کا نام ”غدارکون:نوازشریف کی کہانی،ان کی زبانی“ ہے۔سہیل وڑائچ کی اس کتاب کے صفحہ نمبر171اور صفحہ172پر نوازشریف کی گفتگو کا وہ حصہ شائع کیاگیا ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیاتھا کہ انہیں ’دو سینئر جرنیلوں نے منشیات سرکاری طور پر اسمگل کرنے کی تجویز دی تھی،جسے انہوں نے رَدکردیاتھا۔‘
نوازشریف نے یہ انکشاف سہیل ورائچ کے ایک سوال کے جواب میں کیاتھا،جوپاکستانی ایجنسیوں کی من مانیوں سے متعلق تھا۔ سہیل وڑائچ نے نوازشریف سے پوچھا تھا کہ’پاکستان کے بیشتروزرائے اعظم کو یہ شکایت رہی ہے کہ خفیہ ایجنسیاں ان سے بالابالا ہی سارے کام کرتی ہیں۔اس حوالے سے آپ کا کیاتجربہ رہا؟

سہیل وڑائچ کے اس سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا تھا کہ’پاکستان میں خفیہ ایجنسیاں بہت منہ زورہوچکی ہیں۔صدراوروزیراعظم کو بتائے بغیر کام کئے جاتے ہیں۔دنیا میں کہیں بھی یہ تصور نہیں ہے کہ خفیہ ایجنسیاں حکومت کی اجازت کے بغیرکام کریں کیونکہ آپ دنیا میں یا ملک کے اندرجوبھی کارروائی کریں،اسکی ذمہ داری حکومت پر آتی ہے اور حکومت کو ہی دنیا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار
کتاب ’غدارکون‘کے مطابق نوازشریف نے اسی سوال کے جواب میں مزید کہاتھا کہ’پاکستان میں غلط کام تو خفیہ ایجنسیاں کرتی ہیں اورجوابدہی حکومت کی ہوتی ہے،جسے ان معاملات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ مثلاًمیرے پہلے دورِ حکومت میں ایک بار دو سینئرفوجی جرنیل ملنے آئے،میٹنگ شروع ہوئی تو ایک جنرل نے کہا کہ’ملک کی معاشی حالت سنوارنے کیلئے منشیات کو حکومتی سرپرستی میں بیرون ملک بھجوایا جائے،ہیروئن برآمد کرنے سے ملک کی معاشی تقدیر بدل جائے گی۔‘
نوازشریف کے بقول انہیں فوجی جنرل کی اس تجویز پر حیرانی ہوئی تھی اورانہوں نے سختی سے پوچھا تھا کہ’آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
نوازشریف کے مطابق ان کے لہجے کی اس سختی کی وجہ سے تجویز دینے والے جرنیل نے جھینپتے ہوئے کہا تھاکہ یہ تو صرف تجویز ہے۔ نوازشریف نے مزید بتایا تھاکہ ساتھ بیٹھے دوسرے جنرل نے کہا تھاکہ’تمام ترقی یافتہ ملکوں نے کالے دھن سے ہی ترقی کی ہے۔انگلینڈہویا سوئٹزرلینڈ یہ سب کالے دھن سے ہی امیرہوئے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
نوازشریف نے سہیل وڑائچ کو مزید بتایا تھا کہ’دوسرے جنرل کے بقول امریکہ نے بھی دوسرے ممالک کی دولت لوٹی ہے،اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اورملک کو منشیات کی اسمگلنگ سے خوشحال بنالیں۔
نوازشریف کے مطابق انہوں نے فوجی جرنیلوں کی اس تجویز کو سختی سے ردکردیا تھا۔
اگرچہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے اس انٹرویومیں منشیات کی سرکاری سطح پر اسمگلنگ کا مشورہ دینے والے فوجی جرنیلوں کا نام نہیں لیا تھا اوران سے متعلق کہا تھا کہ وہ ’سینئر فوجی جرنیل‘ تھے۔ تاہم بعد میں کالم نگار اوردانشورقیوم نظامی نے اپنی کتاب’جرنیل اور سیاستدان:تاریخ کی عدالت میں‘،میں دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف سے اپنے پہلے دورِحکومت میں ملاقات کرنیوالے یہ سینئرفوجی جرنیل دراصل اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسددرانی تھے۔

اس حوالے سے قیوم نظامی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ’نوازشریف کے بقول1991ء کے آغاز میں جنرل اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی نے ان سے ملاقات کی تھی اورفوج کی حساس نوعیت کی خفیہ سرگرمیوں کے لئے فنڈزکی کمی کوپوراکرنے کیلئے ڈرگ ٹریڈ میں ملوث ہونے کی اجازت طلب کی تھی اور ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ آپریشن انتہائی خفیہ رہے گا۔‘
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
کتاب میں مزید کہا گیا ہے کہ نوازشریف نے دونوں جرنیلوں کے اس منصوبے کی منظوری دینے سے انکارکردیا تھا۔قیوم نظامی کے مطابق جنرل مرزااسلم بیگ اور جنرل اسددرانی دونوں نے نوازشریف کے اس الزام کو بے بنیاد کہہ کر مسترد کردیاتھا۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
