کیا فوج نے مولانا فضل الرحمان کو شہداء اور سپاہیوں کی سینکڑوں ایکڑزمین بطوررشوت دی تھی؟
سابق فوجی صدر جنرل مشرف پر الزام ہے کہ انہوں نے سال2004ء میں مولانا فضل الرحمان کو رشوت میں فوجی جوانوں اور شہداء کے خاندانوں کی سینکڑوں ایکڑاراضی دیکر خریداتھا۔فوج کی سینکڑوں ایکڑاراضی کے بدلے مولانافضل الرحمان نے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کی وردی کی مخالفت ترک کر دی تھی اورانکی فوجی حکومت میں فرینڈلی اپوزیشن کا کرداراداکیاتھا۔یاد رہے سال2004ء میں مشرف کی فوجی حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تھے۔
جے یو آئی ف کے لیڈر مولانافضل الرحمان کے اس میگا اسکینڈل پر سال2008ء میں جنگ گروپ کے اخبار’دی نیوز‘ نے تواتر سے خبریں کی تھیں جس کے بعد جنگ گروپ اور مولانا فضل الرحمان کے مابین قانونی جنگ بھی لڑی گئی تھی۔جنگ گروپ نے مولانا فضل الرحمان کے اس میگا اسکینڈل پر کئی ٹاک شوز میں گفتگو کی تھی۔ دی نیوز کے جس صحافی نے دستاویزات کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کے اس میگا اسکینڈل کو بریک کیا تھا،ان کا نام انصار عباسی ہے۔
میگا اسکینڈل کی تفصیلات
دونومبر2008ء کو جنگ گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز نے خبر لگائی تھی کہ’جمیعت العلماء اسلام کو بطور رشوت سینکڑوں ایکڑ اراضی دی گئی۔‘دی نیوز کی اس خبر میں دستاویزات کا حوالہ دیکربتایا گیا تھا کہ کس طرح فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے سال2004ء میں مولانا فضل الرحمان اور انکی جماعت کے ا کرم درانی کے قریبی افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان میں فوج کی سینکڑوں ایکڑ اراضی دیکر انہیں خریدا تھا۔

رپورٹ میں ایک ریونیوافسر کے حوالے سے بتایاگیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اوراکرم درانی کو فوج کی جو زمین الاٹ کی گئی تھی وہ شہداء کے لواحقین،فوجی افسران اوراین سی اوز کو الاٹ کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار
جنرل مشرف نے اپنے دور میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دسمبر2004ء تک فوجی وردی اتاردیں گے تاہم بعد میں مشرف اپنے وعدے سے مکر گئے تھے اور متحدہ مجلسِ عمل میں شامل بڑی سیاسی و مذہبی جماعت جے یو آئی ف نے مشرف کی وعدہ خلافی پر چُپ سادھ لی تھی۔انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی اس چُپ کی قیمت فوج کی وہ سینکڑوں ایکڑاراضی تھی جو مولانا فضل الرحمان کے رشتہ داروں،ملازمین اور اسٹاف کے نام پر انہیں بطور رشوت دی گئی تھی۔
دی نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ڈاکومنٹس موجود ہیں،جن سے جے یو آئی ف رہنماؤں،جو عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے اسلام کا استعمال کرتے ہیں مگرسودے بازی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے، کی سنگین کرپشن کا انکشاف ہوتا ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنرل مشرف نے قومی اسمبلی میں اس وقت کے اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمان اور انکی جماعت کے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ انداز میں 1200کنال اراضی الاٹ کی تھی۔رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ اگرچہ فوج کی یہ زمین مولانا فضل الرحمان اوراکرم درانی کے قریبی افراد اوررشتہ داروں کے نام الاٹ کی گئی تھی تاہم ڈیرہ اسماعیل خان کے ریونیوڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کی تھی کہ یہ زمین ان دونوں رہنماؤں کے ذاتی قبضے میں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
رپورٹ کے مطابق اس1200کنال زمین کے الاٹمنٹ لیٹرزفوج کے جی ایچ کیوایڈجوٹینٹ جنرل (فلاح و بحالی ڈائریکٹوریٹ) کی جانب سے جاری کئے گئے تھے اور ان پر لیفٹیننٹ کرنل محمد ظفر کے دستخط تھے۔
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے ترجمان نے موقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ زمین نہ تو جے یو آئی ف کے دونوں رہنماؤں کے نام الاٹ کی گئی تھی اور نہ ہی ان کے قریبی ساتھیوں یا رشتہ داروں کے نام پر۔ تاہم رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا تھا کہ اخبار کے پاس موجودڈاکومنٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور اکرم درانی سے منسلک چھ افراد کودو دو سوکنال زمین الاٹ کی گئی تھی۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تعینات ایک سینئرریوینیو افسر نے بھی تسلیم کیاتھا کہ مذکورہ زمین اصل میں جے یو آئی ف کے ان دونوں رہنماؤں کے قبضے میں تھی۔
زمین کن افراد کے نام الاٹ کرائی گئی؟
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان اوراکرم درانی نے جن چھ قریبی افراد کے نام 1200کنال زمین الاٹ کرائی تھی ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
ابراراحمد خان ولد محمد اسماعیل خان
انہیں مفتی ابرارکے نام سے بھی جاناجاتا ہے اور یہ مولانا فضل الرحمان کے پرسنل اسسٹنٹ ہیں۔انکے نام200کنال زمین الاٹ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
شریف اللہ ولد رحمت اللہ
شریف اللہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا لطف الرحمان کے قریبی ہیں اور انہیں خاندان کا فردسمجھاجاتا ہے۔انکے نام بھی200کنال زمین الاٹ کی گئی۔
محمد رمضان ولد فیروزخان
محمد رمضان شریف اللہ اور مولانا برادران کے قریبی ہیں۔انکے نام200کنال زمین الاٹ کی گئی تھی۔
ابرارعلی شاہ ولد اصغر علی شاہ
ابرارعلی شاہ اکرم درانی کے کزن ہیں اور انہوں نے یہ تسلیم بھی کیا۔ابرارعلی نے کہا کہ انکے والد ایک ریٹائر فوجی ہیں اس لئے انہیں یہ زمین ملی۔انکے نام200کنال زمین الاٹ کی گئی تھی۔
محمد اشرف علی خان ولدمحمد شہزاد خان
محمد اشرف علی خان مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا لطف الرحمان کے پرسنل اسٹاف میں شامل ہیں۔انکے نام بھی200کنال زمین الاٹ کی گئی تھی۔
محمد شہزاد خان ولد عالم شیر خان
سابق وزیراعلیٰ صوبہ سرحد(موجودہ خبیرپختونخواہ) اکرم خان درانی نے تسلیم کیاکہ محمد شہزاد خان ان کے انکل ہیں۔اکرم درانی کے مطابق چونکہ انکے انکل ریٹائرڈ سپاہی ہیں،اس لئے انہیں جی ایچ کیو کی جانب سے زمین دی گئی۔انکے نام بھی200کنال زمین الاٹ کی گئی تھی۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
