شریف خاندان کا رائیونڈ میں ذاتی جاگیرکوسرکاری دولت سے ڈویلپ کرنے کا میگا اسکینڈل
شریف خاندان پررائیونڈمیں سینکڑوں ایکڑاراضی پر مشتمل ذاتی جاگیر کو اربوں مالیت کے سرکاری وسائل سے ڈویلپ کرنے کا الزام ہے۔شریف خاندان نے مبینہ طور پر سرکاری وسائل کا اندھا دھند استعمال کرکے رائیونڈ میں اپنی رہائش گاہوں کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کیا تھا۔
شریف خاندان پر یہ سنگین الزام انکی موجودہ اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کی قیادت تواتر سے لگاتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی رہنماؤں نے شریف خاندان کی اس کرپشن پر ان گنت تقاریر کی ہیں،آرٹیکلز لکھے ہیں،یہاں تک کہ کتابیں لکھ ماری ہیں۔
بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی اور پریس سیکرٹری رہنے والے پیپلزپارٹی کے سینئررہنما بشیر ریاض نے شریف خاندان کے اس میگااسکینڈل پر اپنی کتاب ’بلائنڈجسٹس‘ میں روشنی ڈالی ہے۔ بشیر ریاض کی یہ کتاب مارچ2000ء میں شائع ہوئی تھی اور بینظیربھٹو نے خود اس کتاب کی تشہیرکی تھی۔

شریف خاندان کی کرپشن داستانوں پر کتاب لکھ کر انہیں تاریخ کا حصہ بنانے والے بشیر ریاض شہبازشریف حکومت کے موجودہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے سینئرایڈوائزرکے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
رائیونڈفارم کو سرکاری وسائل سے ڈویلپ کرنے کا میگا اسکینڈل
پیپلزپارٹی کے سینئررہنما بشیر ریاض کی کتاب بلائنڈ جسٹس کے مطابق رائیونڈ لاہور میں شریف خاندان کی کل زمین 1800ایکڑ سے بھی زائد ہے اور شریف خاندان نے اپنے دورِ اقتدار میں اس وسیع جاگیر کو ریاستی وسائل سے ڈویلپ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے اربوں کے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
اس حوالے سے بشیر ریاض نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ’شریف خاندان کی اس جاگیر کو رائیونڈفارم کے نام سے جانا جاتا ہے اوراسی زمین پر شریف خاندان کی رہائش گاہیں ہیں۔ نوازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعد رائیونڈفارم کو کیمپ آفس قراردیا گیاتاکہ اس کی تعمیروترقی پراٹھنے والے سرکاری اخراجات کو قانونی شکل دی جاسکے۔
کتاب میں کئے گئے انکشافات کے مطابق ’نوازشریف نے اپنی اس جاگیرکو ماڈل فارم بنانے کیلئے کیمپ آفس کی سہولت کا وسیع پیمانے پر ناجائز استعمال کیا۔‘اس حوالے سے انکے خلاف شکایات بھی دائر ہوئیں مگر ان شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پیپلزپارٹی سینئررہنما کی جانب سے کتاب میں کئے گئے دعوؤں کے مطابق شریف خاندان کا یہ رائیونڈفارم کل چھ دیہاتوں پر پھیلا ہوا ہے۔ اس زمین کی اصل لاگت لگ بھگ90کروڑ روپے ہے جبکہ سرکاری خزانے سے اس زمین پر کل60کروڑ روپے لگائے گئے۔جس سے اس کی مارکیٹ ویلیو پانچ ارب تک جا پہنچی ہے۔

یاد رہے بشیر ریاض کی یہ کتاب چونکہ مارچ2000ء میں شائع ہوئی تھی،اس لئے زمین کی لاگت اورمارکیٹ ویلیو سے متعلق یہ اعدادوشمار لگ بھگ 23برس پرانے ہیں۔ شریف خاندان کی اس جاگیر کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کئی گنا زیادہ ہوگی۔
’بلائنڈ جسٹس‘ میں شریف خاندان کی رائیونڈ جاگیر کو سرکاری وسائل سے ڈویلپ کرنے سے متعلق مزید دعویٰ کیا گیا کہ’اسے وزیراعظم کا کیمپ آفس قراردینے کے بعد اس کی دیکھ بھال کا فریضہ پبلک وَرکس ڈیپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) کو سونپا گیا۔پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کوہدایت جاری کی گئی کہ رائیونڈ فارم میں موجود فیملی رہائش گاہوں کی دیکھ بھال بھی کی جائے۔پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے رائیونڈفارم کی دیکھ بھال کیلئے8کروڑ روپے مانگے،جس کی منظوری دیدی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیر بھٹو کے پلاٹ پر قبضے کا اسکینڈل
بشیرریاض کی کتاب میں مزیدبتایاگیا ہے کہ’کیمپ آفس قراردئے جانے کے بعد سوئی ناردرن گیس کمپنی سے کہا گیا کہ رائیونڈفارم کو قدرتی گیس پائپ لائن کا کنکشن دیا جائے،جس کے بعد کمپنی نے فارم کو 7کروڑ روپے کی لاگت سے خصوصی کنکشن فراہم کیا۔اس نئے کنکشن سے شریف خاندان کے علاوہ علاقہ کا کوئی رہائشی فائدہ نہیں اٹھا پایا۔
بشیر ریاض نے بلائنڈجسٹس میں مزید لکھا کہ’شہبازشریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب ڈسٹرکٹ کونسل لاہور سے کہا کہ رائیونڈ فارم تک بیس فٹ چوڑی سڑک بنائی جائے۔بشیر ریاض کے مطابق سڑک کی تعمیر کا کام ایف ڈبلیو او نے کیا جس پر ریاستی خزانے سے32کروڑ روپے کی بھاری رقم لگی۔

بشیر ریاض کے مطابق رائیونڈفارم میں سے ایک نہرگزر رہی ہے۔ اس نہر کی تعمیر کیلئے حکومت ِ پنجاب کے محکمہ آبپاشی سے کہاگیا تھااور اس مقصد کیلئے ’ایم ایس انڈس ایسوسی ایٹس‘ کو 8کروڑ میں ٹھیکہ دیا گیاتھا۔
بشیر ریاض کی کتاب میں مزید کہاگیا ہے کہ’نوازشریف نے واپڈا کو اپنے رائیونڈ فارم کیلئے بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے خصوصی سپلائی لائن فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔واپڈا نے اپنے فنڈز سے اس منصوبے پر پانچ کروڑ لگا کر اسے پایہ تکمیل کو پہنچایا تھا۔اسی طرح نوازشریف نے پی ٹی سی ایل کو حکم دیا تھا کہ شریف خاندان کے بنیادی استعمال کیلئے ٹیلی فون ایکسچینج قائم کی جائے۔اس حکم کی تعمیل پر پی ٹی سی ایل نے 2کروڑ روپے خرچ کر دئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سال 1980ء سے2013ء تک توشہ خانہ سے کس نے کتنے تحائف لئے؟
بشیرریاض نے بلائنڈ جسٹس میں شریف خاندان کی ایک اورواردات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ’شہبازشریف نے ایل ڈی اے سے کہا کہ رائیونڈ کے قریب جوبلی ٹاؤن نامی ہاؤسنگ اسکیم کا اجراء کیا جائے۔اور پھر اسکیم لانچ ہونے سے قبل شریف خاندان نے اس کے ساتھ جڑی ڈیڑھ سو ایکڑزمین خریدلی کیونکہ شریف خاندان کے پاس اسکیم لانچ ہونے بارے ’اِنسائڈرانفارمیشن‘ تھی۔


بشیرریاض کے مطابق نوازشریف نے لاہور کے گردتعمیر ہونیوالے رِنگ روڈکو اپنے رائیونڈ فارم کے قریب گزارنے کیلئے اسکی ری الائنمنٹ کرائی تھی۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
