ڈی ایچ اے کو 881ایکڑسرکاری زمین 18پیسے کے ریٹ پر الاٹ کئے جانے کا انکشاف
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 881ایکڑسرکاری زمین محض 18پیسے فی مربع میٹر سالانہ کے نرخ پر الاٹ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اس زمین کا منظورشدہ سرکاری نرخ 80روپے64پیسے فی مربع میٹر سالانہ تھا اور اس ریٹ میں ہر برس 7فیصد اضافہ ہونا تھا۔ تاہم ڈی ایچ اے کو یہ زمین صرف18پیسے فی مربع میٹر سالانہ کے حساب سے الاٹ کر دی گئی۔
میگا اسکینڈل کی تفصیل
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اس میگا اسکینڈل کا انکشاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس میں آڈٹ حکام کی جانب سے شیئرکی جانیوالی سرکاری دستاویزات میں ہوا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ نے مختلف ادوار میں کل تین ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو 1261ایکڑسرکاری زمین محض 10سے18پیسے فی مربع میٹرسالانہ کے حساب سے الاٹ کی،جس سے ہربرس قومی خزانے کو 8ارب12کروڑ روپے مالیت کا بھاری نقصان ہورہا ہے۔کوڑیوں کے بھاؤ جس ہاؤسنگ سوسائٹی کو سب سے زیادہ سرکاری زمین الاٹ کی گئی،وہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی(ڈی ایچ اے) ہے۔ تین ہاؤسنگ سوسائٹیز کو الاٹ شدہ کل 1261ایکڑزمین میں سے 881ایکڑ زمین صرف ڈی ایچ اے کو الاٹ کی گئی جو کہ کل الاٹ شدہ زمین کا لگ بھگ 70فیصد ہے۔

دستاویزات کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ بورڈ نے مختلف علاقوں میں رینٹ کے نرخ 26مارچ2003کو طے کئے۔ان منظور شدہ نرخوں کی روشنی میں سال2006-07ء میں ’کیماڑی ٹاؤن شِپ‘ اور کیماڑی ویلجز کے لئے لیز ریٹ 80روپے64پیسے فی مربع میٹر سالانہ تھے اور اس ریٹ میں ہربرس 7فیصد اضافہ بھی شامل ہونا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیربھٹو کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کا اسکینڈل
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)نے مختلف ادوار میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو زمین کی جو الاٹمنٹ کی اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
ڈی ایچ اے
کراچی پورٹ ٹرسٹ بورڈ نے 12جولائی2005ء کو جنرل مشرف دور میں ایک قرارداد کے ذریعے کیماڑی ٹاؤن شِپ اورکیماڑی ویلج ایریا کراچی میں موجود اپنی881ایکڑ سرکاری زمین ’ڈی ایچ اے‘ کو 18پیسے فی مربع میٹرسالانہ کے نرخ سے الاٹ کی۔ڈی ایچ اے کو یہ زمین99سالہ لیز پرالاٹ کی گئی۔
ایم ایس یونائٹڈ ورکرزفرنٹ
کراچی پورٹ ٹرسٹ بورڈ نے 18اکتوبر2006ء کو ایک قرارداد کے ذریعے ہاکس بے پر موجود اپنی250ایکڑ سرکاری زمین ’کے پی ٹی ہاؤسنگ سوسائٹی‘ کی ’ایم ایس یونائٹڈ ورکرز فرنٹ‘ کو10پیسے فی مربع میٹر سالانہ کے ریٹ پر 99سالہ لیز پر دے دی۔

کے پی ٹی آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ
کراچی پورٹ ٹرسٹ بورڈ نے 16جون1996ء کی ایک قراردادکے ذریعے ’ایم ٹی خان روڈ کراچی‘ پر موجود اپنی 130ایکڑ سرکاری زمین’کے پی ٹی آفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ‘کو10پیسے فی مربع میٹرسالانہ کے ریٹ پر99سالہ لیز پر دے دی۔
قومی خزانے کو8ارب12کروڑ روپے سالانہ نقصان
سرکاری دستایزات کے مطابق ان تین ہاؤسنگ سوسائٹیز کو منظورشدہ نرخ سے سستے داموں 1261ایکڑزمین کی الاٹمنٹ سے قومی خزانے کو سالانہ 8ارب12کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس حوالے سے دستاویزات میں کہاگیا ہے کہ”ہاؤسنگ سوسائٹیز کیلئے جو لیز رینٹ طے کیاگیا وہ ان ایریاز کیلئے منظور شدہ ریٹ،جو کہ80روپے64پیسے فی مربع میٹرسالانہ تھا،سے بہت کم تھا،جس سے سالانہ8ارب12کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اگر اس میں سالانہ اضافے کا حساب ڈال دیں تو نقصان کی رقم کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔“
ڈی ایچ اے اوردیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز کو کوڑیوں کے بھاؤ سرکاری زمین الاٹ کرنے کے اس اسکینڈل کے حوالے سے سرکاری دستاویزات میں مزید کہاگیا ہے کہ”الاٹمنٹ کا یہ عمل ملازمین و افسران کی دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز کو مساوی مواقع کی فراہمی کے بغیرکیاگیا۔“
ایک سو اڑتیس ارب روپے سے زائد نقصانات
کراچی پورٹ ٹرسٹ نے ڈی ایچ اے کو جولائی2005ء جبکہ دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو یہ زمین 2006ء اور1996ء میں الاٹ کی تھی۔ دستاویزات کے مطابق زمین کی الاٹمنٹ کے اس عمل سے قومی خزانے کو ہر برس 8ارب12کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہورہا ہے۔ اگر2005ء سے سال2022ء تک ان نقصانات کا تخمینہ لگائیں تو17برس سے زائد کے اس عرصہ میں نقصانات کی مالیت 138ارب روپے سے زائد بن جاتی ہے۔
ڈی ایچ اے کو زمین کی الاٹمنٹ پر انتظامیہ کا جواب
آڈٹ حکام کی دستاویزات کے مطابق ’کراچی پورٹ ٹرسٹ انتظامیہ کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ’ڈی ایچ اے کیماڑی ٹاؤن شِپ اورکیماڑی ویلج کی ڈومین میں نہیں آتی۔اس لئے اس پر ان علاقوں کا ریٹ لاگو نہیں ہوتا۔“

تاہم ڈیپارٹمینٹل آڈٹ کمیٹی(ڈی اے سی)کی جانب سے چھ جولائی2020ء کو وزارتِ میری ٹائم افئیرزکو ہدایت کی گئی کہ ڈی ایچ اے اورملازمین کی ہاؤسنگ سوسائٹی کو کم نرخوں پر کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین کی الاٹمنٹ کے عمل کی وزارت کی سطح پر ’فیکٹ فائنڈنگ انکوائری‘ کی جائے تاکہ اس الاٹمنٹ کے پراسس کی ذمہ داری کا تعین ہوسکے۔
رقم کی وصولی کی سفارش
آڈٹ حکام کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردہ دستاویزات میں کہاگیا ہے کہ’آڈٹ یہ سفارش کرتا ہے کہ ذمہ داری کا تعین کیا جائے اوررقم وصول کی جائے۔‘

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
