شہبازحکومت توشہ خانہ سے ہزاروں قیمتی تحائف کی لُوٹ مارکو کیسے چھپا رہی ہے؟
سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف توشہ خانہ تحائف کی بنیاد پر بیانئے گھڑنے والی شہبازشریف اور اتحادیوں کی حکومت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران لاہورہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ ملک پر حکمرانی کرنیوالوں کوبیرونِ ملک سے ملنے والے ہزاروں قیمتی تحائف اور انہیں کوڑیوں کے بھاؤ گھر لے جانے کی تفصیلات فراہم کرنے سے عالمی تعلقات کے انعقاد میں پاکستان کے مفادات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔شہبازشریف اور اتحادیوں کی وفاقی حکومت کے مطابق فوجی و سویلین حکمرانوں کی جانب سے توشہ خانہ سے تحائف کی مبینہ لُوٹ مار سامنے آنے پر پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور انکے اتحادیوں کی حکومت نے توشہ خانہ تحائف کی تفصیل سامنے لائے جانے سے متعلق یہ حیران کن مؤقف لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ’منیراحمد بنام وفاقِ پاکستان کیس‘ میں اپنایا ہے۔
یاد رہے پاکستان پرحکمرانی کرنیوالے فوجی و سویلین صدور اور وزرائے اعظم بیرون ملک سے ملنے والے ہزاروں قیمتی تحائف کو کوڑیوں کے بھاؤاپنی ذاتی ملکیت میں لے چکے ہیں۔
سال1980ء سے2013ء تک توشہ خانہ سے تحائف کی لوٹ مار کی تفصیل پڑھیں
آصف علی زرداری نے تو لیبیا اور یو اے ای سے تحفے میں ملنے والی تین مہنگی ترین گاڑیوں کو خلافِ قواعد رُولز ریلیکس کروا کر اپنی ذاتی ملکیت میں لے لیا تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق زرداری نے بیرونِ ملک سے تحفے میں ملنے والی جن گاڑیوں کو قبضے میں لیا تھا انکی ڈیوٹی کی مد میں واجب الاداء رقم کو ان جعلی اکاؤنٹس سے ادا کیا گیا تھا،جنہیں مبینہ طور پر رشوت کے حصول کیلئے بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل
شہبازحکومت کے تحریری جواب کے اہم نکات
شہباز شریف کی وفاقی حکومت نے شہریوں کو توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات فراہم نہ کرنے سے متعلق 19جنوری2023ء کو لاہور ہائی کورٹ میں تحریری جواب جمع کرایا۔

وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں مؤقف اپنایا ہے کہ وہ سال2015ء میں وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری شدہ ایک لیٹر کو بنیاد بنا کر حکمرانوں کو ملنے والے تو شہ خانہ تحائف کی معلومات دینے سے انکاری ہے۔
وفاقی حکومت کے تحریری جواب کے مطابق نوازشریف کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران 26نومبر2015ء کو وزیراعظم آفس نے ایک لیٹر میں قراردیا تھاکہ توشہ خانہ تحائف سے متعلق معلومات ’کلاسیفائڈ‘ ہیں۔وزیراعظم آفس نے2015ء کے اس لیٹرمیں قرادیاتھا کہ توشہ خانہ تحائف کی معلومات سے’غیرضروری میڈیا ہائپ‘ پیدا ہو سکتی ہے۔


یہ بھی پڑھیں: صدرالدین ہاشوانی کی جانب سے زرداری کو ہوٹل سے باہر پھینکوائے جانے کی تفصیل
سال2015ء کے اس لیٹر کے مطابق توشہ خانہ تحائف کی معلومات سے جو میڈیا ہائپ پیداہوگی وہ ممکنہ طور پر عالمی تعلقات کے انعقاد میں پاکستان کے مفادات کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے۔اس مذکورہ لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ توشہ خانہ تحائف کی معلومات سامنے آنے پر میڈیا میں غیرضروری اسٹوریز شائع ہو سکتی ہیں جس سے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ ریاستی تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کے تحریری جواب کے مطابق’وزیراعظم آفس کے 2015ء کے لیٹر میں کہاگیا تھا کہ توشہ خانہ تحائف کی معلومات ’فریڈم آف انفارمیشن آرڈی ننس 2002ء‘کے سیکشن 15(1)کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔فریڈم آف انفارمیشن آرڈی ننس 2002ء‘کے سیکشن 15(1)کے مطابق اگرکسی انفارمیشن کے انکشاف سے عالمی تعلقات کے انعقاد کے عمل میں ملکی مفادات کو سنگین اور نمایاں خطرہ کا خدشہ ہو تو ایسی انفارمیشن کے انکشاف کوروکا جا سکتا ہے۔

وفاقی حکومت کے لاہو ر ہائی کورٹ میں دائر جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ2015ء کے اس مذکورہ لیٹر کے علاوہ ’معلومات تک رسائی کے حق کا ایکٹ2017ٗ بھی ایسی معلومات کی فراہمی سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے، جوکسی فرد کی ذاتی رازداری سے متعلق ہوں۔ وفاق کے تحریری جواب کے مطابق ’معلومات تک رسائی کے حق کے ایکٹ2017ٗ کے مطابق ایسی معلومات کی فراہمی کواستثنیٰ حاصل ہے، جس کے انکشاف سے عالمی تعلقات کے انعقاد میں پاکستان کے مفادات کونقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
وفاقی حکومت نے عدالت میں دائراپنے جواب میں مزید بتایا ہے کہ نئی توشہ خانہ پالیسی کی تشکیل کا عمل جاری ہے اورنئی توشہ خانہ پالیسی کی منظوری تک توشہ خانہ تحائف کی معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
