منگل, اکتوبر 27, 2026
تاریخی رپورٹس

جب ڈِسکو میں ہلڑبازی پر صدرالدین ہاشوانی نے زرداری کو ہوٹل سے باہرپھینکوادیاتھا

Share

پاکستان کے ناموربزنس مین اورہوٹل انڈسٹری کے معروف ترین نام صدرالدین ہاشوانی نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ میریٹ ہوٹل کراچی کے ڈسکو میں ہلڑبازی اوربدمعاشی کرنے پر انہوں نے ہوٹل کے جی ایم سے کہہ کر آصف علی زرداری کو ہوٹل سے باہر پھینکوادیا تھا۔صدرالدین ہاشوانی کے مطابق آصف علی زرداری نے ہوٹل سے باہرپھینکوائے جانے کے اس سلوک کو کبھی نہیں بھلایا۔ انہوں نے یہ انکشاف اپنی سوانح حیات ’ٹرتھ آلویزپری ویلز‘میں کیا ہے۔

زرداری کو ہوٹل سے باہرپھینکوانے کی تفصیل
صدر الدین ہاشوانی نے ’ٹرتھ آلویز پری ویلز‘ میں لکھا ہے کہ ’انکے کراچی میں موجود میریٹ ہوٹل کی جان ڈسکو میں تھی جس میں ہرشام نوجوان کھنچے چلے آتے تھے۔ میریٹ ہوٹل کے ڈسکو میں آصف علی زرداری نے ہلڑبازی کی تھی۔اس حوالے سے صدرالدین ہاشوانی نے لکھا ہے کہ 1983ء کی ایک شام جب وہ گھر پر تھے تو انہیں ہوٹل کے جی ایم سے رات ساڑھے11بجے کال موصول ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

صدرالدین ہاشوانی کے مطابق جی ایم نے فون پر انہیں بتایا تھا کہ ڈسکو میں دوافراد اور انکے آدمیوں میں جھگڑا ہوگیا ہے،جس سے افراتفری پیداہوگئی ہے۔ جی ایم کے مطابق ہوٹل میں فائرنگ ہورہی تھی اورخوف و ہراس کے باعث خواتین بھاگ رہی تھیں۔

صدرالدین نے لکھا ہے کہ میں حیران تھا کہ جی ایم مجھے فون کرکے پوچھ رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ یقینا اسے معلوم تھا کہ ایسی صورتحال میں کیاکرنا ہے۔ صدرالدین کے مطابق انہوں نے جی ایم سے کہا کہ ’آپ کے پاس باؤنسرز(گارڈز) کا دستہ ہے۔ اسکے علاوہ انکے پاس کراٹے میں بلیک بیلٹ کی سروس موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

ہاشوانی کے مطابق انہوں نے جی ایم کو ہدایت کی تھی کہ ہلڑبازی کرنیوالوں کو پکڑ کر باہرپھینک دیا جائے۔اسکے علاوہ انہوں نے ہوٹل کے جی ایم کو ہدایت کی کہ اگرضرورت پڑے تو بدنظمی پیداکرنیوالوں کی پیٹھ پر ککس ماری جائیں۔

Document: Sadruddin Hashwani describes the incident in his memoir Truth Always Prevails

صدرالدین ہاشوانی کے مطابق انہوں نے ہوٹل کے جی ایم کو یہ ہدایات دیں اورسوگئے۔ اس کے بعد ہاشوانی نے کتاب میں مزید لکھا ہے کہ اگلی صبح انہیں سندھ کے معمولی وڈیرے حاکم علی زرداری کافون آیا۔ حاکم علی زرداری نے فون پر گرجتے ہوئے ہاشوانی سے کہا کہ ’آپ نے کیا کردیا ہے؟آپ کو میرے بیٹے کے ساتھ ایسا کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟

صدرالدین ہاشوانی نے لکھا ہے کہ انکے ہوٹل کی ڈسکو میں لڑنے والے دونوجوانوں میں سے ایک حاکم علی زرداری کا پلے بوائے بیٹا آصف علی زرداری تھا جبکہ دوسرے نوجوان کا تعلق زہری قبیلے سے تھا،جس کے پاس مشہوربلوچ قبیلے کی سربراہی تھی۔ہاشوانی کے مطابق ہوٹل کے جی ایم نے انکی ہدایات کے مطابق زرداری اوردوسرے نوجوان کو ہوٹل سے باہر پھینک دیا تھا اور اس عمل میں باؤنسرز (گارڈز) نے ان دونوں نوجونوں کو مارا بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

صدرالدین ہاشوانی نے لکھا ہے کہ زرداری کو ہوٹل سے باہرپھینکنے پر وہ اپنے ہوٹل کے جی ایم اورانکی ٹیم کو مایوس نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انکے مطابق انہوں نے فون پر حاکم علی زرداری سے کہا کہ اگر آپ کے بیٹے کایہ کردار ہے تو پھر آپ اسے گھر پر کیوں نہیں رکھتے؟اسے اسلحہ کے ساتھ مہذب معاشرے کو پریشان کرنے کیلئے ہوٹلوں میں مت بھیجئے۔ صدرالدین ہاشوانی کے مطابق انہوں نے حاکم علی زرداری سے مزید کہا کہ ’اپنے ہوٹل میں ہم اچھے لوگوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کرتے۔ بلکہ میں تو سویپر سے بھی ہاتھ ملاتا ہوں۔

Document: Truth Always Prevails

صدرالدین ہاشوانی نے کتاب میں مزید لکھا ہے کہ حاکم علی زرداری کی وہ فون کال تلخ انداز میں ختم ہوئی تھی۔ ہاشوانی نے لکھا ہے کہ اس واقعہ کے چار برس بعد دنیا اوربالخصوص کراچی کے تمام مردوں میں سے بینظیر بھٹو نے شادی کیلئے آصف علی زرداری کا انتخاب کرلیا۔ ہاشوانی کے مطابق انہیں پتہ چلا کہ زرداری 1983ء کی اس شام کے واقعہ کو نہیں بھولا تھا اور انہیں تاحال یہ رنجش یاد ہے۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے