منگل, نومبر 3, 2026
تاریخی رپورٹس

بینظیر بھٹو قتل کیس: سابق ایف آئی اے سربراہ طارق کھوسہ کی کتاب سے انکشافات

Share

بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے سابق سربراہ طارق کھوسہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ پیپلزپارٹی دورِ حکومت میں بینظیر بھٹو قتل کیس کے اہم کرداروں اورگواہان تک پہنچنے سے قبل ہی انہیں ڈرون حملوں یا دیگر طرح سے ماردیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت نے ایف آئی اے تحقیقات کاروں کو اہم دستاویزات تک رسائی بھی نہیں دی تھی۔

بینظیر بھٹو قتل کیس اور پیپلزپارٹی کا اقتدار
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو 27دسمبر2007ء کو راولپنڈی لیاقت باغ میں قتل کردیاگیا تھا۔اس قتل کے فوری بعد سال2008ء کے انتخابات کے نتیجہ میں بینظیر بھٹو کی اپنی جماعت پیپلزپارٹی برسرِ اقتدار آگئی۔پیپلزپارٹی سال2008ء سے سال2013ء تک اقتدار میں رہی۔2013ء کے عام انتخابات کے بعد ن لیگ کی حکومت بن گئی۔یہ حکومت 2018ء تک رہی۔ایک بار پھر اپریل2022ء میں پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا۔یوں بینظیر بھٹو کے قتل کے فوری بعد پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے مسلسل دس برس تک حکومت کی۔ اور ابھی بھی پیپلزپارٹی کئی جماعتوں کے ساتھ شریکِ اقتدار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ کارساز پر اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے کیالکھاتھا؟

اِن حکومتوں کے دوران تفتیش کے تمام تر وسائل پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو دستیاب تھے۔اس لئے بینظیر بھٹو کے قتل کا معاملہ حل کرنے اور اس قتل کے پیچھے اصل سازش کو بے نقاب کرنے کی تمام تر ذمہ داری پیپلزپارٹی اور ن لیگ پر عائد ہوتی تھی مگر ایک دہائی سے زائد عرصہ کے اقتدار میں ان دونوں جماعتوں کی جانب سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا۔

حقیقت یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کی اپنی جماعت پیپلزپارٹی پر انکے قتل کیس کو حل کرنے کے عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام ہے۔پیپلزپارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں اس قتل کی تفتیش کے دوران تحقیقاتی اداروں اور ایجنسیوں سے وہ تعاون نہیں کیا جس کا تقاضا تحقیقاتی افسران اور اداروں کی جانب سے کیاگیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

پیپلزپارٹی کی اپنی حکومت کے دوران بینظیر بھٹو قتل کیس کے کئی اہم گواہ اور مشتبہ ملزمان مار دئے گئے تھے۔ بینظیر کی جماعت انکے نام پر سیاست تو کرتی ہے مگر اس قتل کے معمہ کو سلجھانے میں اس جماعت کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر پھرتی،تیزی یا سنجیدگی نہیں دکھائی گئی تھی بلکہ سنجیدگی دکھانے والے افسران کو ہی ذمہ داری سے ہٹادیاگیاتھا۔اس کی بڑی مثال ایف آئی اے کے سابق سربراہ طارق کھوسہ ہیں،جو اس کیس میں پیپلزپارٹی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود کامیابی سے پیش رفت کو یقینی بنا رہے تھے اور افسران کو واضح ہدایات دے رہے تھے تاہم اس کے باجود پیپلزپارٹی حکومت نے انہیں ایف آئی اے سے ہٹا دیا تھا۔

طارق کھوسہ کے انکشافات
طارق کھوسہ ایف آئی اے کے سابق سربراہ ہیں۔وہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے بھائی ہیں۔بینظیر بھٹو قتل کیس سے متعلق ان کے دور میں ایف آئی اے نے اہم پیش رفت کر لی تھی اور تحقیقاتی ایجنسی واضح طور پر اس بڑے کیس کو حل کرنے کی جانب بڑھ رہی تھی لیکن عین وقت پر پیپلزپارٹی حکومت نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔طارق کھوسہ نے اپنی کتاب”دا فالٹرنگ سٹیٹ‘ میں اس قتل کیس کی تحقیقات سے متعلق اہم انکشافات کئے تھے۔انہوں نے اپنی کتاب ”دا فالٹرنگ سٹیٹ“ کے صفحہ270پر بینظیر قتل کیس کی تحقیقات پر لکھا تھا۔

اس حوالے سے طارق کھوسہ نے اپنی کتاب ”دا فالٹرنگ سٹیٹ“ میں لکھا ہے کہ’اقوامِ متحدہ کے جس کمیشن نے بینظیر قتل کیس کی تحقیقات کی تھیں اس کے چلی کے سربراہ ہیرالڈو منیوزنے یہ نتیجہ اَخذ کیا کہ ’بینظیر بھٹو کے قتل میں مضمرات کے پیچیدہ جال میں سے سچ کو پوری طرح سے نکالنے کے قابل غالباً کوئی حکومت نہیں ہوگی یا کوئی حکومت ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگی۔ہیرالڈومنیوز نے مزید لکھا ہے کہ یہ بدقسمت قتل پاکستان میں استثنیٰ کی طویل تاریخ میں ایک اور غیر حل شدہ کیس ہوگا۔‘

طارق کھوسہ کے مطابق انہوں نے ہیرالڈو منیوزکے اِس ذاتی احوال کو،جو ان کی کتاب ”گیٹنگ اوے وِد مرڈر‘میں بیان کیا گیا ہے،کو بہت افسردگی سے پڑھا کیونکہ 6اگست2009ء کو ایف آئی اے،جو کہ اس وقت انکی کمان میں تھی، کو بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ طارق کھوسہ کے مطابق کیس کی تفتیش پنجاب پولیس سے ایف آئی اے کو سوپنی گئی تھی۔مزید تحقیقات کرنے اورممکنہ مشتبہ افراد سے تفتیش کرنے کیلئے’اسپیشل انوسٹی گیشن گروپ‘ کو مختلف قانون نافذکرنے والے اداروں اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟

طارق کھوسہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے مشن نے کیس کی تحقیقات جولائی2009ء میں شروع کی تھیں جبکہ وفاقی حکومت نے 6اگست2009ء کو مزید تحقیقات کا کام ایف آئی اے کو سونپ دیا تھا۔

Document: Tariq Khosa Book The Faltering State page regarding Benazir Murder Investigations

طارق کھوسہ نے کتاب میں تحقیقات کے حوالے سے مزید لکھا ہے کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ گاڑی میں سفر کرنے والے تمام افراد کی گواہی کو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیاگیا:ان میں ڈرائیورجاوید،ایس ایس پی سیکیورٹی امتیاز حسین،مخدوم امین فہیم،ناہید خان،صفدر عباسی اورذاتی خدمتگاررزاق شامل تھے۔سینیٹر صفدرعباسی اوران کی اہلیہ ناہید خان نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی لیڈر کا خاتمہ کرنے کیلئے شارپ سنائپر فائر اور انٹیلی جنس آپریشن ہوا تھا۔پیپلزپارٹی کی ترجمان شیری رحمان نے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو کا انتقال بُلٹ انجری سے ہوا تھا۔اِن بیانات اور سیکیورٹی گارڈ خالدشہنشاہ کے مشکوک طرزِعمل کی مکمل تحقیقات کی ضرورت تھی۔خالد شہنشاہ کو ٹی وی فوٹیج میں بینظیر بھٹو کے ریلی سے نکلنے سے قبل اسٹیج کے قریب مشکوک اشارے کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

طارق کھوسہ نے لکھا ہے کہ’انہوں نے وزیرداخلہ رحمان ملک،جو بینظیر بھٹو کے چیف سیکیورٹی آفیسر(سی ایس او) تھے، سے معاونت طلب کرکے تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کیلئے انہوں نے12اگست2009ء کو ان کے بااعتماد ایف آئی اے کے اسٹاف اسسٹنٹ ڈائریکٹرکے ذریعے ایک نوٹ بھیجا،جس میں درج ذیل دستاویزات مانگی گئیں۔

ایک۔اس خط کی کاپی جو بینظیر بھٹو نے 16اکتوبر2007ء کو جنرل مشرف کو بھیجا تھا،جس میں تین مشکوک افراد کے نام تھے۔
دو۔بینظیر بھٹو کی جانب سے مارک سِیگل اور دیگر افراد کو بھیجی گئی اُن ای میلز کی نقول جن میں جنرل مشرف سے خطرات کا ذکر تھا۔
تین۔بینظیر بھٹو کی اصل وصیت کی ایک کاپی
چار۔بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے مابین جس حتمی معاہدہ کا تبادلہ ہوا تھا،اس کی ایک کاپی۔۔۔اور۔۔
پانچ۔سیکیورٹی سے متعلقہ امور پر چیف سیکیورٹی آفیسر رحمان ملک اورحکومتِ پاکستان و حکومتِ سندھ کے مابین خط و کتابت کی نقول۔

Document: The Faltering State page 272

ایف آئی اے کے سابق سربراہ طارق کھوسہ کے مطابق درج بالا دستاویزات کے مطالبے پررحمان ملک کی جانب سے کوئی ریسپونس نہیں آیا تھا۔

طارق کھوسہ نے ’دافالٹرنگ سٹیٹ‘میں مزید لکھا ہے کہ’اسی دوران پانچ گرفتار شدہ ملزمان اعتزاز شاہ،شیرزمان،حسین گُل،محمد رفاقت اور رشید احمد سے تفتیش اور چند دیگر اہم ترین لیڈزسے ہمیں مالاکنڈ کے رہائشی عبادالرحمان کی گرفتاری کا اشارہ دیا۔ہمارا مانناتھا کہ عبادالرحمان نے بینظیر بھٹو کے قتل میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔تاہم یہ بنیادی منصوبہ ساز خیبرایجنسی میں مئی2010ء میں اولین ڈرون حملے میں مارا گیا یاپاکستان کے جنگی طیاروں کی جانب سے کئے گئے حملے میں ماردیاگیاتھا۔‘

طارق کھوسہ نے لکھا ہے کہ’ایک اور مشتبہ شخص القاعدہ کے نمبر تین رہنمااورمالی و آپریشنل چیف مصطفی ابویزیدعرف شیخ سعید المصری تھے،جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انہوں ’مجاہدین کو شکست دینے کا عزم کرنے والے امریکہ کے سب سے قیمتی اثاثے کے خاتمہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 22مئی2010ء کو شمالی وزیرستان میں سی آئی اے کے ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

طارق کھوسہ نے کتاب میں مزید لکھا ہے کہ’بینظیر بھٹو قتل کیس کے ایک اور اہم مشتبہ شخص یا گواہ خالد شہنشاہ،جو کہ سیکیورٹی گارڈ تھے اور جن کی خدمات مبینہ طور پر پارٹی قیادت کے بااعتمادساتھی نے لی تھیں،کو بینظیر بھٹو کے قتل کے چند ماہ بعدکراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔‘

Document: The Faltering State page 273

طارق کھوسہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ’وزیرِداخلہ رحمان ملک کی موجودگی میں 28اکتوبر2009ء کوایف آئی اے تحقیقاتی ٹیم کا ایک اہم اجلاس ہوا۔اس اجلاس میں،انہوں نے واضح احکامات دئے کہ تمام تر شواہد اور لیڈزکواقوام ِ متحدہ کی ٹیم کے سامنے رکھا جائے۔

طارق کھوسہ کے مطابق’اقوام ِ متحدہ کے کمیشن کی جانب سے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول پنجاب پولیس کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے طرزِعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھاتاہم کمیشن کی رپورٹ میں نوٹ کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے تشکیل کردہ دوسری جے آئی ٹی تحقیقات کرنے میں زیادہ زوردار تھی۔‘

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

طارق کھوسہ نے اس حوالے سے اپنی کتاب میں آگے جاکر لکھا ہے کہ’25نومبر2009ء کو اس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک کی رہائش گاہ پر ایک اہم اجلاس ہوا تھا،جس میں ایف آئی اے کے تحقیقات کاروں نے پیش رفت پر نظرثانی کی تھی اورمتعلقہ ایجنسیوں سے کہا تھا کہ مرکزی ملزم عبادالرحمان کو خیبرایجنسی سے پکڑا جائے۔مزید شواہد کے حصول کیلئے انہیں اکوڑہ خٹک میں مدرسہ حقانیہ کے دورہ کی بھی منظوری دی گئی۔افسرا ن کو بنیادی سورسز سے شواہد حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور امریکہ جانے کا کام سونپا گیا تاکہ ان شواہد کی مدد سے اس سازش پر مزید روشنی ڈالی جا سکے۔‘

Document: The Faltering State page 274

طارق کھوسہ نے لکھا ہے کہ ’کیس کی تحقیقات کرنے والے افسران کے آگے بڑھنے کیلئے واضح سمت کا تعین ہوجانے کے چند دنوں کے اندر ایف آئی اے سے ان کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔

طارق کھوسہ نے بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے مزید لکھا ہے کہ’اقوامِ متحدہ کمیشن نے مئی2010 ء میں اپنی رپورٹ جمع کرائی توانہوں نے اس وقت کے وزیراعظم کے نام ایک خفیہ خط میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے نتائج اورسفارشات پر بطور پروفیشنل تبصرہ کیا تھا۔تاہم انکے بقول سیاسی و سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ان کی سفارشات کو تاریخ کے کوڑدان کے حوالے کر دیا۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے