منگل, نومبر 3, 2026
اعترافی بیانات

سید تسنیم حیدرشاہ کا اعترافی بیان

Share

بیس نومبر2022ء کو سید تسنیم حیدرشاہ نامی شخص کی جانب سے لندن میں میڈیا کے سامنے اعترافی بیان دیا گیا،جس میں انکی جانب سے سینئر صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل اورعمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق ہولناک انکشافات کئے گئے۔ تسنیم حیدرشاہ کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وہ لندن میں ن لیگ کے ترجمان ہیں۔

ذیل میں سید تسنیم حیدرشاہ کے اعترافی بیان کا متن دیا گیاہے:۔

میرا نام سید تسنیم حیدر شاہ ہے۔پی ایم ایل (این) کا سپوکس مین ہوں میں پچھلے چار،پانچ سال سے، برطانیہ میں،میں انکی خدمت کر رہا ہوں،کچھ ایسی باتیں ہیں جو میڈیا کی آنکھ نے نہیں دیکھیں اور جو میری میٹنگز ناصر بٹ اور میاں صاحب کے ساتھ ہوئیں جس میں لندن پلاننگ تیار ہوئی، عمران خان کے قتل کے بارے میں اور جو ارشد شریف کا قتل ہوا اسکے جو سارے ثبوت ہیں وہ میرے پاس ہیں کیونکہ اس میٹنگ میں،میں بیٹھا ہوا تھااور میری بھی ڈیوٹی لگائی گئی کہ آپ عمران خان کا قتل کروائیں اور اس میں میاں شہباز شریف اور مریم نوازنے بھی کافی زور لگایا،بٹ صاحب کہ ساتھ میں نے تین میٹنگزمیاں نواز شریف کے ساتھ کیں جس پر 29 تاریخ کو آخری میٹنگ میں،میں نے ان کو بولا کہ میرے پاس ایسا کوئی شوٹر نہیں ہے جو عمران خان کو قتل کرے،کیونکہ وہ کہتے تھے کہ گجرات کے ایریا میں آپ نے اس کو(عمران خان) کو قتل کروانا ہے،کیونکہ آپ کا ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپکی ڈنڈی پٹی گجرات میں کافی مضبوط ہے کیونکہ ناصر بٹ نے ہمیں بتایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جب بینظیر نے شریف برادران پر زرداری کے قتل کی سازش کا الزام لگایا

تو میں نے ان سے تھوڑا ٹائم لیا ہے کہ آپ ہمیں تھوڑا ٹائم دیں تو انشا ء اللہ میں آپ کو جواب دوں گاتو اس کے بعد ملک صاحب کے گھر میں گیاانتیس تاریخ کو انکو میں نے بتایا کہ عمران خان کے قتل کا منصوبہ بن چکا ہے۔۔۔ اس وقت ارشد شریف کا قتل ہو چکا تھا،تو ناصر بٹ صاحب نے بولا تھا کہ دبئی میں یا کینیا میں آپ کہ پاس کوئی ایسی طاقت موجود ہے تو بتائیں ارشد شریف کا بھی سختی سے مریم نواز نے آرڈر کیا ہوا ہے جو ہماری میٹنگ میں بات ہوئی ہے تو میں نے انہیں بولا کہ میرے پاس نہ تودبئی میں ایسا کوئی شخص ہے نہ کینیا میں۔

یہ بھی پڑھیں: 1990ء کے الیکشن میں سیاستدانوں میں پیسے بانٹنے بارے جنرل اسددرانی کا اعترافی بیان

عمران خان کا جو ہے انشاء اللہ میں کوشش کروں گا کہ آپکو شوٹر دوں،اور انہوں نے بولا کہ وہ جو شوٹر ہیں گجرات کے علاقے میں جب لانگ مارچ چلے گاتو ادھر یہ کام کرنا ہے آخر 29 اکتوبر کو جب انہوں نے مجھے بلایاتو میں انکو بولا کہ میرا کوئی بھی شوٹر یہ کام کرنے کو تیار نہیں۔ میں نے ایک،دو سے پوچھا ہے،اسکے بعد میں نے ملک صاحب کو جا کر بتایا،تو تین تاریخ کو انہوں نے مجھے بتایا کہ وزیر آباد کے علاقے میں ہم جگہ دیں گے اگر آپکے پاس شوٹر ہیں تو وہ عمران خان کو قتل کر دیں۔

    سوال۔۔ جی ملک صاحب آپ کیا کہیں گے؟؟

    جواب۔۔جی سر یہ میرے پاس آئے تھے تقریبا ساڑھے پانچ بجے انتیس اکتوبر کو،اور انہوں نے یہ بتایا تھا


    Share

    Kismat Khan

    ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

    جواب دیں

    آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے