مریم نوازنے یواے ای سے تحفے میں ملنے والی بی ایم ڈبلیوکارکوکتنے میں بیچاتھا؟
سابق وزیراعظم عمران خان کو تحائف فروخت کرنے پر طعنہ مارنے والی مریم نوازماضی میں متحدہ عرب امارات سے تحفہ میں ملنے والی مہنگی کار فروخت کرنے اور اس سے اپنے اثاثے بڑھانے کا اعتراف کر چکی ہیں۔متحدہ عرب امارات سے تحفہ میں موصول شدہ اس مہنگی کار سے متعلق مریم نوازاورانکے خاوند کیپٹن صفدر کی جانب سے متضاد مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے۔ تحفے کی گاڑی بیچنے والی مریم نوازگھڑی بیچنے پر عمران خان سے رسیدیں مانگ رہی ہے۔

بی ایم ڈبلیو کارکی فروخت کا اسکینڈل
دستاویزات کے مطابق مریم نوازکو متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان سے ایک مہنگی بی ایم ڈبلیوکارتحفے میں ملی تھی،جسے بعد میں مریم نواز نے کروڑوں روپے مالیت میں فروخت کر دیاتھا اور اسے اپنے اثاثوں میں اضافہ کی وضاحت کیلئے استعمال کیاتھا۔ مریم نوازکی جانب سے بیرونِ ملک سے تحفے میں ملنے والی مہنگی گاڑی کی فروخت سے متعلق انکشافات سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کی جانب سے کیاگیا تھا۔ پاناما لیکس جے آئی ٹی کی رپورٹ کو 2017ء میں سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیاتھا۔
یہ بھی پڑھیں: سال 1980ء سے2013ء تک توشہ خانہ سے کس نے کتنے تحائف لئے؟
جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیاگیا تھا کہ مریم نواز نے اپنے اثاثوں میں ایک بی ایم ڈبلیو کارظاہر کی تھی اور اس سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ انہیں یہ کار متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کی جانب سے تحفے میں ملی تھی۔
دستاویزات کے مطابق مریم نوازنے تحفہ میں ملنے والی بی ایم ڈبلیو کار کی کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 35لاکھ کی رقم بھی اداکی تھی۔تاہم جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا کہ جس وقت مریم نوازنے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 35لاکھ کی ادائیگی کی تھی اس وقت ان کا کوئی واضح ذریعہ آمدن ہی نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی جانب سے قیمتی ہارچرانے کا اسکینڈل
یوں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مریم نوازکو تحفے میں ملنے والی اس گاڑی کی کسٹم ڈیوٹی آخر کس نے بھری تھی اور اگر مریم نے خود بھری تو انکے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے تھے؟

مریم نوازکو دبئی کے حکمران خاندان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی اس مہنگی کار سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے ’کارکی وصولی کے بعدمریم نواز نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ گاڑی 2کروڑ80لاکھ روپے مالیت میں فروخت کر دی تھی۔ اس گاڑی کی فروخت کو ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ظاہر کرنے کے بعد مریم نوازکے اثاثے بھی بڑھ گئے تھے۔ تاہم حیران کن انداز میں مریم نوازکی جانب سے بعد کے برسوں میں دائر کی جانیوالی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں یہ کار ایک بارپھر موجود تھی۔
ٹیکس چوری اور اثاثے چھپانے کا عمل
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق مریم نواز اور انکے خاوند کیپٹن صفدر کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں تحفے میں موصول شدہ اس کار سے متعلق متضاد دعوے کئے جاتے رہے۔جے آئی ٹی دستاویزات کے مطابق مریم نواز اور انکے شوہر نے اس بی ایم ڈبلیو کار کی قیمت سے متعلق اپنی اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں متضاددعوے کئے تھے۔ کیپٹن صفدر نے اس کار کی قیمت 60لاکھ روپے ظاہر کی۔وہ سال2016ء تک اسکی ملکیت کو ظاہر کرتے رہے جو کہ ٹیکس چوری اور اثاثے چھپانے کے مترادف ہے۔
بھاری تحائف کی وصولی
جے آئی ٹی رپورٹ میں مریم نواز سے متعلق مزید لکھا گیا ہے کہ’سال2008ء سے مریم نوازنے کروڑوں روپے مالیت کے بھاری تحائف کی وصولی شروع کی،جن سے وہ زرعی زمین خریدتی رہیں۔

مریم نواز کی جانب سے بھاری تحائف کی وصولی پر کہاگیا ہے کہ’سال2009ء سے2016ء کے عرصہ میں مریم نواز نے اپنے والد نوازشریف اور بھائیوں حسین نواز اورحسن نواز سے بھاری تحائف وصول کئے،جس سے ان کے اثاثوں کی مالیت7کروڑ35لاکھ روپے سے بڑھ کر 83کروڑ روپے تک جاپہنچی۔اس عرصہ میں مریم نواز نے 80کروڑ روپے سے 1431کنال زمین خرید ی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ زرعی زمین اور اسکی آمدن کو ٹیکس چھوٹ حاصل ہے،اس لئے ہر برس بھاری رقوم کو زرعی آمدن کے طور پر ظاہر کرنے سے انہیں اپنے فنڈز کو قانونی بنانے کا موقع ملا۔‘

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
