سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی جانب سے قیمتی ہارچرانے کا اسکینڈل
سال 2010ء میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب آیا تھاجس سے بڑے پیمانے پر تباہی مچی تھی۔2010ء میں آنیوالے اس سیلاب سے کروڑوں پاکستانیوں کی جائیداد،روزگار،فصلیں اور گھر مٹ گئے تھے۔۔اس سیلاب سے 2ہزا ر سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں اور بڑے پیمانے پر قومی انفرااسٹرکچر کونقصان پہنچاتھا۔ سیلاب سے لگ بھگ2کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے اورپاکستان کو اربوں ڈالرز مالیت کا نقصان پہنچا تھا۔
اس سیلاب کے وقت پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔آصف علی زرداری ملک کے صدر جبکہ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے۔ایک طرف جہاں سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی تھی تو دوسری ملکی اشرافیہ کی نظر سیلاب زدگان کو ملنے والی بیرونی امداد پر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نوازنے یواے ای سے تحفہ میں ملنے والی مہنگی کار کو کتنے میں بیچاتھا؟
سال 2010ء میں ترکی کے اس وقت کے وزیراعظم طیب اردگان(بعد میں طیب اردگان ترکی کے صدر بن گئے اور ابھی تک صدر ہیں) کی اہلیہ پاکستان کے دورے پر آئیں۔۔ طیب اردگان کی اہلیہ نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور طیب اردگان کے ہمراہ سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیاتھا۔ اس دورہ کے دوران وہ سیلاب زدہ افراد کے ایک کیمپ میں گئیں تو وہاں بچیوں کی شادیاں ہو رہی تھیں۔طیب اردگان کی اہلیہ نے سیلاب زدہ علاقہ کی بچیوں کی شادی کیلئے بطور تحفہ اپنا گلے کا ہار اتار کر دے دیا۔یہ ہار حکومت پاکستان کو سیلاب سے متاثرہ غریب بچیوں کی شادی میں بطور تحفہ دینے کیلئے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف نے پاکستان کو لندن کے ایک ہوٹل سے چلانے پر 3لاکھ28ہزارڈالرز خرچ کئے
طیب اردگان کی اہلیہ نے اپنا ہار گلے سے اتار کر اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ فوزیہ گیلانی کو دیااور فوزیہ گیلانی سے کہا کہ یہ ہار سیلاب زدہ بچیوں کو انکی شادی پر دیا جائے مگرپیپلزپارٹی کے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور انکی اہلیہ اتنا قیمتی ہار دیکھ کر بے ایمان ہوگئے۔انہوں نے سیلاب زدہ بچیوں کی خوشیوں کیلئے دئے گئے اس ہار کو مبینہ طور پر چوری کر لیا۔
قیمتی ہار کیسے چوری کیا گیا؟
ڈان نیوز کی ایک خبر کے مطابق طیب اردگان کی اہلیہ نے سیلاب زدگان بچیوں کیلئے اپنا ہار دیا تو یہ ہار اس وقت کے نادرا چیئرمین علی ارشد حکیم نے ”سرکاری خزانے“ سے خریدا اور ان پیسوں کو سیلاب زدگان کی بچیوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہار اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حوالے کر دیا گیا۔یوں یوسف رضا گیلانی نے قوم کے پیسوں پر طیب اردگان کی اہلیہ کا ہار ہتھیا لیا اور اسے ذاتی جائیداد بنا لیا۔
چوری شدہ ہار کا معاملہ کیسے سامنے آیا تھا؟
یوسف رضا گیلانی کو جون2012ء میں پاکستانی سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کیس میں نااہل قرار دے دیا اوریوں انکی وزارت عظمیٰ چلی گئی۔یوسف رضا گیلانی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر وزیراعظم ہاؤس سے جاتے جاتے اپنے ساتھ سیلاب زدگان بچیوں کا ہار بھی لے گئے۔2013ء تک یوسف رضا گیلانی کی جماعت پیپلزپارٹی اقتدار میں رہی اس کے بعد عام انتخابات کے نتیجہ میں ن لیگ اقتدار میں آگئی۔ن لیگ اقتدار میں آئی تو طیب اردگان کی اہلیہ کی جانب سے سیلاب زدگان بچیوں کی شادیوں کیلئے دئے گئے ہار کا معاملہ سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس کی پاکستانی جیل سے رہائی کی تفصیلی کہانی
ن لیگی حکومت کے دوران انکشاف ہوا کہ ترک خاتون اول کی جانب سے دیا گیا ہار غائب ہے۔اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کے نوٹس میں آیا کہ ترک خاتون اول کی جانب سے سیلاب زدہ بچیوں کو دیا گیا قیمتی ہار ”غائب“ ہے۔یہ بات سامنے آئی کہ سیلاب زدہ بچیوں کو ترک خاتون اول کی جانب سے دیا گیا ہار ان مصیبت زد ہ غریب بچیوں کو کبھی ملا ہی نہیں تھا۔ان حالات میں کسی کو علم نہیں تھا کہ یہ ہار کہا ں گیا ہے۔
ن لیگی حکومت نے ہار کیسے ڈھونڈا۔۔۔؟
چوہدری نثار علی خان کے پاس وزارت داخلہ تھی۔انہوں نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ ”گمشدہ ہار“ کے معاملہ کی تحقیقات کی جائیں۔سال2015ء میں اس گمشدہ ہار سے متعلق میڈیا میں خبریں آئیں کہ یہ ہار آخر کہاں چلا گیا ہے۔جب ہار کی گمشدگی کے معاملہ کی تحقیقات ہوئیں تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ڈر گئے اور12جون2015ء کو یوسف رضا گیلانی نے اعتراف کر لیا کہ ”گمشدہ ہار“ انکے پاس ہے۔

یہ ہار پانچ سال تک چوری چھپے یوسف رضا گیلانی کے پاس رہاتھا۔پانچ برس بعد ن لیگ دور میں چوہدری نثار علی خان کے احکامات پر ایف آئی اے نے تحقیقات کیں تو یوسف رضاگیلانی نے اعتراف کیاکہ یہ ہار تو انکے پاس ہے۔یہ ہار92نیوز کے ایک پروگرام”ہم دیکھیں گے“ میں صحافی عاصمہ شیرازی کی جانب سے دکھایا بھی گیا تھا۔
گیلانی نے چوری پکڑے جانے پر کیا کہا تھا؟
ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ:۔
”میرے اردگان فیملی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔۔۔طیب اردگان کی اہلیہ میری بہن جیسی ہیں۔۔۔اس لئے یہ ہار میری بہن کا ہے اور میر ے پاس ہے۔جب طیب اردگان کی اہلیہ نے ہار سیلاب زدگان کیلئے عطیہ کیا تھا تو میں یہ ہار لیکر ایک فلڈ ریلیف کیمپ گیا۔اس کیمپ میں آٹھ بچیوں کی شادیاں ہونا تھیں۔میں نے ہار کی قیمت لگوائی۔۔اسکی قیمت2لاکھ روپے تک لگی۔چونکہ ہار ایک تھا جبکہ نوبیاہتا جوڑوں کی تعدادآٹھ تھی تو میں نے فیصلہ کیا کہ ہر شادی کرنیوالے جوڑے کو 2لاکھ روپے دئے جائیں۔مجھے میرے اسٹاف کی جانب سے بتایا گیا کہ ہار کی خریداری کیلئے کسی نے اس رقم کا انتظام کر لیا ہے۔میں یہ ہار خرید کر طیب اردگان کی اہلیہ کو واپس دینا چاہتا تھا۔“
یہ بھی پڑھیں: فوج کی ڈکیت سیاستدانوں بارے فہرست جو ن لیگ نے پارلیمنٹ میں پیش کی تھی
ہار لوٹا ؤ ورنہ کیس درج کر دیا جائے گا
جب یوسف رضا گیلانی نے اعتراف کرلیا کہ ”گم شدہ ہار“ انکے پاس ہے تو ایف آئی اے کی جانب سے گیلانی کو ”دھمکی آمیز نوٹس“ بھیجا گیا کہ ”ہار تین دن کے اندر اندر واپس کرو ورنہ آپ کے خلاف کیس درج کیا جائے گا۔۔۔“ایف آئی اے کے اس دھمکی آمیز نوٹس کے بعد یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ”ایف آئی اے انوسٹی گیشن آفس“ میں جا کر تحریری بیان ریکارڈ کرایا گیا اور ایف آئی اے کو یقین دلایا گیا کہ ”ہار حکومت کو واپس کر دیا جائے گا۔۔“
گیلانی کی جانب سے چوری شدہ ہار کی واپسی
ایف آئی اے کے دھمکی آمیز نوٹس کے بعد یوسف رضا گیلانی نے 26جون2015ء کو اپنے پرنسپل اسٹاف افسر اعتزاز نیازی کو ہار تھمایا اور انہیں کہا کہ یہ ہار جلد از جلد حکومت کو جمع کراؤ۔یوسف رضا گیلانی کا اسٹاف طیب اردگان کی اہلیہ کا گم شدہ ہار کابینہ ڈویژن لے گیا مگر کابینہ ڈویژن نے ہار لینے سے انکار کر دیا۔اسی طرح دفتر خارجہ اور توشہ خانہ نے بھی گیلانی کے اسٹاف (اعتزاز نیازی) سے ہار لینے سے انکار کر دیا۔ان سرکاری محکموں کی جانب سے گیلانی کے اسٹاف کو بتایا گیا کہ انہیں اوپر سے ہار وصول کرنے کے احکامات نہیں ہیں۔۔بالآخر گیلانی کا اسٹاف افسر اعتزاز نیازی یہ ہار لیکر نادرا گیا۔نادرا نے یہ ہار وصول کر لیا اور اعتزاز نیازی کو وصولی کی رسید تھما دی اوراعتزاز نیازی اور یوسف رضا گیلانی نے سکھ کا سانس لیا۔

گیلانی ہار چوری کے کیس سے بچ گئے
جون 2015ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج بخت فخر بہزاد نے ملتان میں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیخلاف ہار چوری پر کیس درج کیا جائے مگر ایف آئی اے نے ہتھ ہولا رکھتے ہوئے گیلانی کو دھمکی آمیز نوٹس بھیجا تھا اور گیلانی نے چوری شدہ ہار واپس کر دیا تھا.یوں یوسف رضا گیلانی ہار چوری کے کیس سے بچ گئے تھے۔یہ یوسف رضا گیلانی کی وہ مبینہ چوری ہے جس کی وصولی نوازشریف حکومت نے کی تھی۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
