سپریم کورٹ نے’حنیف عباسی بنام عمران خان کیس‘میں تحریک انصاف کیخلاف فارن فنڈنگ کے الزامات پر کیا فیصلہ دیا تھا؟
حنیف عباسی بنام عمران خان کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے3رکنی بینچ نے کی تھی۔
بینچ میں شامل ججوں کے نام کچھ یوں تھے:۔
جسٹس میاں ثاقب نثار
جسٹس عمر عطا بندیال
جسٹس فیصل عرب
کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے 15دسمبر2017ء کو سنایا تھا
حنیف عباسی کی اس پٹیشن میں عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو بھی فریق بنایا گیا تھا
اس کیس میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری تھے جبکہ تحریک انصاف کے وکیل انور منصور خان تھے
حنیف عباسی کے اس کیس میں حنیف عباسی کے وکیل محمد اکرم شیخ تھے
تحریک انصاف پر غیر ملکی فنڈز لینے کے الزامات
حنیف عباسی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ تحریک انصاف فارن ایڈڈ(foreign-aided)سیاسی جماعت ہے۔ پٹیشن میں الزام لگایا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ ذرائع سے غیر ملکی فنڈز وصول کئے ہیں۔
حنیف عباسی کے وکلاء نے کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی جماعت تحریک انصاف پر درج ذیل الزامات لگائے تھے:۔
تحریک انصاف پولیٹیکل پارٹیز آرڈر (PPO)کے آرٹیکل 2(c)(iii)کے تحت فارن ایڈڈ(foreign-aided)سیاسی جماعت ہے
تحریک انصاف نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر (PPO)کے تحت ممنوعہ فنڈز وصول کئے ہیں۔
2010ء میں عمران خان نے امریکہ میں فنڈریزنگ کیلئے ’پی ٹی آئی یوایس اے این اے ایل ایل سی“ نامی کمپنی کو بطور ایجنٹ تعینات کیاتھا۔یہ کمپنی امریکی ریاست ٹیکساس میں بنائی گئی اوراسے امریکہ کے ”فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (“FARA”)کے تحت رجسٹرڈ کرایا گیا تھا۔
ٹیکساس میں بنائی گئی اس کمپنی کے 2ڈائریکٹرز پاکستانی جبکہ5ڈائریکٹرز امریکی شہری ہیں۔اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ تحریک انصاف کی اس ایجنٹ کمپنی کے وہ ڈائریکٹرز جو امریکی شہری ہیں انکے پاس دہری شہریت ہے تو دہری شہریت رکھنے والا بھی غیر ملکی ہی ہے یوں تحریک انصاف فارن ایڈڈ سیاسی جماعت بن جاتی ہے۔
سال2013ء میں ایک اور کمپنی جس کا نامPTI USA LLC تھا کو عمران خان نے امریکہ میں فنڈ ریزنگ کیلئے؎ ایجنٹ تعینات کر دیاتھا۔۔یہ کمپنی امریکی ریاست کیلی فورنیا میں بنائی گئی۔۔۔۔اس کمپنی کو ایک امریکی شہری نے بنایا تھا۔تحریک انصاف کی جانب سے امریکی ریاست کیلی فورنیا میں فنڈز اکٹھا کرنے کیلئے کمپنی بنانے کا مقصد ڈونرز کی اصل شناخت چھپانا تھا۔
ان دونوں کمپنیوں نے غیر ملکیوں سے فنڈز لئے
2010ء سے2013ء کے عرصہ کے دوران امریکہ میں بنائی جانیوالی ان دونوں کمپنیوں نے 23لاکھ ڈالرز اکٹھے کرکے تحریک انصاف کو پاکستان منتقل کئے۔
2013ء سے2015ء کے عرصہ میں تحریک انصاف کی ان فارن ایجنٹس کمپنیوں نے امریکہ میں 10لاکھ ڈالرز اکٹھے کرکے پاکستان میں تحریک انصاف کو بھجوائے۔
ابراج کیپیٹل لمیٹڈ دبئی(کے الیکٹرک کی مالک کمپنی) نے7مئی2013ء کو طارق شفیع کو ساڑھے5کروڑ روپے بھیجے۔۔۔طارق شفیع ”کریسنٹ انڈسٹریل کیمیکل لمیٹڈ“ نامی کمپنی کے سی ای او ہیں۔۔۔ بعدازاں طارق شفیع نے ساڑھے5کروڑ کی یہ رقم تحریک انصاف کو منتقل کر دی۔
26مارچ2013ء کو طارق شفیع کو ”ہاربر سورسز انک،دبئی“ نامی کمپنی سے 5کروڑ88لاکھ روپے بھیجے گئے۔۔طارق شفیع نے یہ رقم تحریک انصاف کو منتقل کر دی۔
(حنیف عباسی کے وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ میں دستاویزات بھی جمع کرائی گئی تھیں۔۔۔)
عمران خان کو نااہل کیا جائے،حنیف عباسی کی پٹیشن میں استدعا
فارن ایڈڈ پارٹی
حنیف عباسی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن میں استدعا کی گئی تھی کہ تحریک انصاف کو فارن ایڈڈ پارٹی ڈیکلئر کیا جائے
ممنوعہ فنڈز
عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھاکہ تحریک انصاف نے ”ممنوعہ ذرائع“ سے فنڈز نہیں لئے۔۔یوں عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط بیانی کی۔۔۔۔جس وجہ سے عمران خان صادق اور امین نہیں رہے۔اس لئے عمران خان کو عوامی عہدہ رکھنے کیلئے آئین کے آرٹیکل 62اور63کے تحت نااہل قرار دیا جائے
تحریکِ انصاف کے وکیل کے دلائل
تحریک انصاف کے وکیل انور منصور خان نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ:۔
”پولیٹیکل پارٹیز آرڈر“یاPPOکے تحت فارن ایڈڈ سیاسی جماعت سے مراد وہ جماعت ہے جسے کسی اور ملک کی حکومت یا سیاسی جماعت یا پھر دیگر ممالک کے شہریوں سے مالی یا دیگر قسم کیaidملے۔۔پی پی اوکے تحت فارن ایڈڈ سیاسی جماعتیں وہ ہیں جو پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کیخلاف کام کریں۔پی پی اوکے تحت ممنوعہ کنٹریبیوشن اور عطیات کیلئے سزا ایسے فنڈز کو ضبط کرنا ہے۔
غیر ملکی شہریوں میں دہری شہریت رکھنے والے لوگ نہیں آتے۔۔“(مطلب ایسے پاکستانی جن کے پاس پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکی شہریت تھی اور انہوں نے PTIکو فنڈز دئے تھے۔۔اور وہ غیر ملکی نہیں ہیں)۔
تحریک انصاف کی جانب سے سال2010ء سے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرائے گئے۔۔ان میں فارن فنڈز سے متعلق بھی تفصیلات شامل تھیں۔۔۔الیکشن کمیشن آف پاکستان پی ٹی آئی کے ان اکاؤنٹس کی سکروٹنی کرتا رہا ہے۔۔انکو منظور کرتا رہا ہے اور اسکے بعد پی ٹی آئی کو انتخابی نشان الاٹ کرتا رہا ہے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی اکاؤنٹس کو درست سمجھا اور انہیں منظور کیا،یوں پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کو الیکشن کمیشن ایک بار منظور کر چکا ہے۔اس لئے اس معاملہ کو نئے سرے سے نہیں کھولا جاسکتا۔ایک بار الیکشن کمیشن ان اکاؤنٹس کی اسکروٹنی کرلے تو یہ کام دوبارہ نہیں کیا جا سکتا۔
تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کاآڈٹ ایسے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کرتے رہے ہیں جنہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان ”A“ کلاس قرار دیتا ہے۔۔اگر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس مشکوک یا خلاف قانون ہوتے تو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی جاتی۔
امریکہ میں غیر ملکی سیاسی جماعتوں کو فنڈز اکٹھا کرنے کی اجازت ہے لیکن امریکہ کے ”فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (“FARA”) کے تحت یہ ضروری ہے کہ غیر ملکی سیاسی جماعتیں امریکہ میں فنڈز ”ایجنٹ“ کے ذریعے اکٹھا کریں۔
پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی ایک غیر ملکی کمپنی ضرور ہے مگر یہ کمپنی امریکہ میں پی ٹی آئی کی ایجنٹ ہے۔۔یہ کمپنی اپنے فنڈز پی ٹی آئی کو پاکستان میں نہیں بھیجتی بلکہ’پی ٹی آئی پاکستان کے بی ہاف(behalf)پر یہ فنڈزاکٹھا کرتی ہے اور بعد میں یہ فنڈز پاکستان بھیجے جاتے ہیں۔۔اس لئے یہ فنڈز قانون کے مطابق ممنوعہ فنڈز کی فہرست میں نہیں آتے۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی امریکہ کے ”فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (“FARA”)کے تحت فارن ایجنٹ تعینات کیا جا چکا ہے۔
سال2012ء میں حکومت پاکستان بھیFARAکے تحت بطور ڈونر رجسٹرڈ ہوچکی ہے۔ایم کیو ایم،پیپلزپارٹی،ن لیگ اور APMLکے انگلینڈ میں رجسٹرڈ ایجنٹ ہیں۔
پی ٹی آئی پر فارن فنڈنگ الزامات پر سپریم کورٹ نے کیا کہا تھا؟
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف بارے اٹھائے گئے سوالا ت کے کچھ یوں جواب دئے تھے:۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھاہے کہ:۔
”۔۔۔۔پی پی اوکے آرٹیکل 15کے مطابق اگر وفاقی حکومت یہ سمجھے کہ کوئی جماعت فارن فنڈڈ جماعت ہے اوروہ جماعت پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف ہو یا دہشت گردی میں ملوث ہو تو وفاقی حکومت اس جماعت/پارٹی کے خاتمہ کیلئے آفیشل گزٹ میں نوٹیفیکشن شائع کرے گی۔۔۔اور اس نوٹیفیکیشن کے شائع ہونے کے15دن کے اندر یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیج دے گی۔۔سپریم کورٹ دیکھے گی کہ وفاقی حکومت نے کسی جماعت پر پابندی یا اسکی تحلیل کا فیصلہ ٹھیک کیا یا نہیں۔۔۔اگر سپریم کورٹ یہ سمجھے کہ وفاقی حکومت نے کسی سیاسی جماعت پر پابندی یا اسکی تحلیل کا فیصلہ درست کیا تھا تو سپریم کورٹ وفاقی حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھے گی جس کے بعد وہ سیاسی جماعت ختم/تحلیل ہوجائے گی۔۔۔
یہ وفاقی حکومت کا کام ہے کہ وہ کسی جماعت کیخلاف موجود مواد یا شواہد کی روشنی میں یہ بات معلوم کرے کہ وہ سیاسی جماعت ’پی پی او‘ کے آرٹیکل 2(c) کے تحت فارن ایڈڈ سیاسی جماعت ہے یا نہیں۔۔۔اگر وہ جماعت فارن ایڈڈ ہے تو وفاقی حکومت اسکے خلاف پی پی او(PPO)کے آرٹیکل15کے تحت کارروائی کرے گی۔وفاقی حکومت کی کارروائی کے بعد حکومت کی جانب سے اس سیاسی جماعت بارے کئے گئے فیصلہ کا ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا۔۔سپریم کورٹ اس سیاسی جماعت کی قسمت بارے حتمی فیصلہ کرے گی۔کسی جماعت کو فارن ایڈڈ(foreign-aided)جماعت ڈیکلئر کرنے کیلئے یہ واضح قانونی طریقہ ہے۔۔اس کے بغیر کسی بھی جماعت کوفارن ایڈڈ جماعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ہم قانونی طریقہ کار کو بائی پاس کرکے تحریک انصاف کو فارن ایڈڈسیاسی جماعت قرار نہیں دے سکتے۔“
تحریک انصاف پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی
سپریم کورٹ کے فیصلہ میں لکھا گیا کہ:۔
”۔۔۔حنیف عباسی کے وکیل نے سپریم کورٹ میں تسلیم کیا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر(PPO)کے آرٹیکل15کے تحت اگر تحریک انصاف کیخلاف ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ فارن ایڈڈ سیاسی جماعت ہے تو PTIکو تحلیل کرنے کیلئے وفاقی حکومت اعلان کرے گی اور بعد میں وفاقی حکومت کو اس فیصلہ بارے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجنا پڑے گا۔۔۔سپریم کورٹ کو وفاقی حکومت کے اس ریفرنس پر تحریک انصاف پر پابندی یا اس جماعت کو ختم کرنے کا حتمی اختیار حاصل ہے۔اس کے علاوہ تحریک انصاف پر پابندی کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔“
کیاپی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈز لئے؟ممنوعہ فنڈز لینے کی سزا کیا ہے؟
سپریم کورٹ فیصلہ کے مطابق:۔
”۔۔۔پی پی اوکا آرٹیکل6یہ کہتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو کسی غیر ملکی حکومت،ملٹی نیشنل یا کسی پبلک یا پرائیویٹ کمپنی،فرم یا ٹریڈ یا پروفیشنل ایسوسی ایشن سے کی گئی کنٹری بیوشن ممنوعہ ہوگی۔۔۔اور کوئی بھی کنٹری بیوشن یا ڈونیشن جو پی پی او(PPO)کے تحت ممنوعہ ہواسے بحق ریاست ضبط کیا جائے گا۔۔(سزا)پی پی او کے تحت سیاسی جماعتیں افراد سے عطیات لے سکتی ہیں۔
کسی سیاسی جماعت کی جانب سے وصول شدہ فنڈز ممنوعہ ہیں یا نہیں اس چیز کو معلوم کرنے کا فورم الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے
فنڈز ’ممنوعہ‘ثابت ہونے کی صورت میں ضبط کئے جائیں گے۔۔۔ممنوعہ فنڈز لینے والی جماعت کو بین(ban)نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ یہ مناسب نہیں سمجھتی کہ وہ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قانونی دائرہ کار میں مداخلت کرے۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
