منگل, اکتوبر 27, 2026
تاریخی رپورٹس

حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی،غیراخلاقی سرگرمیوں اورطاقت کے نشے پرکیالکھاتھا؟

Share

سال1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوج کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور ملک کے ٹوٹنے کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے حمودالرحمن انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں سینکڑوں گواہان کے دعوؤں کی روشنی میں انکشاف کیاگیا تھا کہ سینئرفوجی افسران کی خواتین اورشراب کی ہوس اور زمینوں اور گھروں کی لالچ نے ناصرف ان میں لڑنے کے جذبے کو مار دیا تھا بلکہ اس کے باعث انہوں نے جنگ کی کامیابی کیلئے درکارپیشہ ورانہ اہلیت کو بھی کھودیا تھا۔کمیشن کی رائے میں اعلیٰ فوجی افسران کیخلاف گواہان کی جانب سے عائد ان الزامات میں وزن تھا۔

حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کا پسِ منظر
سال1971ء میں مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے سرنڈر اورشکست کے ساتھ پاکستان ٹوٹ گیاتھا۔پاکستان کی اس شکست کی وجوہات کوجاننے کیلئے 1971ء میں ملک کے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذولفقار علی بھٹو نے اس وقت کے چیف جسٹس حمودالرحمن کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔ اس کمیشن نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی شکست اورسرنڈرکی وجوہات تلاش کی تھیں اور انہیں رپورٹ کی شکل میں حکومتِ وقت کو جمع کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

حمودالرحمان کمیشن نے تحقیقات کے دوران 200سے زائد گواہان کے بیانات اورشہادتوں کو قلمبند کیا تھا۔حمودالرحمان کمیشن نے دومرحلوں میں تحقیقات کی تھیں۔ کمیشن نے پہلے مرحلے میں تحقیقات کے بعد جولائی1972ء میں رپورٹ جمع کرائی۔ پہلے مرحلے کے دوران کمیشن کو جنگی قیدیوں تک رسائی نہیں تھی،اس لئے جب جنگی قیدیوں کو ملک واپس لایا گیا تو تحقیقات کا دوسرامرحلہ شروع ہوا،جس میں قید سے رہائی پانے والے گواہان کے بیانات اورشہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔کمیشن نے دوسرے مرحلہ کی تحقیقات کے بعد 1974ء میں رپورٹ جمع کرائی تھی۔

رپورٹ کے انکشافات کی تفصیل
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ میں 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی شکست کی وجوہات کے اخلاقی پہلوؤں کو بھی زیرِغورلایا گیا تھا۔ ملک ٹوٹنے اور جنگ ہارنے کی اخلاقی وجوہات بیان کرنے کے جواز سے متعلق کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’جنگ ہارنے کی اخلاقی وجوہات کو بیان کرنا اس لئے ضروری تھا کیونکہ کمیشن کے سامنے پیش ہونیوالے بہت سے معزز گواہان،جن میں ذمہ دار سروس افسران بھی شامل تھے، کی جانب سے دعوے کئے گئے کہ مارشل لاء فرائض کی انجام دہی میں ہونیوالی کرپشن،عورتوں اورشراب کی ہوس،زمین اورگھروں کیلئے لالچ کے باعث بہت سے سینئر فوجی افسران نے لڑنے کا جذبہ کھودیا تھا اور جنگ کی انجام دہی کیلئے اہم فیصلے کرنے کے لئے درکار پیشہ ورانہ اہلیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

Document:  Hamood ur Rehman describing Moral Aspects of Pakistan Defeat

کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان گواہان کی جانب سے یہ بھی کہاگیا کہ’بدنامی کے حامل ان افراد سے بمشکل ہی یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ پاک فوج کو فتح دلاتے۔‘

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کمیشن کے سامنے پیش کئے جانیوالے شواہد کے تجزئے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مسلح افواج کی سینئر رینکس میں اخلاقی گراوٹ کا عمل 1958ء میں اس وقت حرکت میں آیا جب یہ افسران مارشل لاء فرائض میں ملوث ہوئے اور پھر جب 1969ء میں جنرل یحییٰ خان نے ایک اورمارشل لاء نافذکیا تو مسلح افواج کی سینئررینکس میں اس طرح کے رجحانات اور رغبت نے مزید شدت اختیار کی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

کمیشن کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گواہان کی جانب سے عائد شدہ ان الزامات میں وزن ہے کہ سینئرفوجی افسران کی ایک بڑی تعداد نا صرف وسیع پیمانے پر زمینوں اور گھروں کے حصول اوردیگرکاروباری سرگرمیوں میں ملوث تھی بلکہ ان افسران نے انتہائی غیراخلاقی اورعیاشانہ طرزِزندگی اختیار کیا تھا،جس سے انکی پیشہ روانہ صلاحیتیں اورقائدانہ خوبیاں شدید متاثر ہوئیں۔

 Document: Hamood ur Rehman Commission Report

کمیشن رپورٹ میں 1971ء کی جنگ میں ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی کی مبینہ عیاشیوں اور کرپشن سے متعلق بھی سنگین انکشافات کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ’ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر جنرل نیازی پر الزام تھا کہ جب وہ جی او سی سیالکوٹ تھے تو وہ مارشل لاء کیسز کو ہینڈل کرنے کے عمل میں پیسہ بنا رہے تھے۔

رپورٹ میں جنرل نیازی سے متعلق مزید لکھا گیا ہے کہ جب انہیں لاہور میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لگایا گیا تھا توتب بھی ان پر ایسی ہی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟

لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی پر عائد الزامات کے حوالے سے حمودالرحمن کمیشن رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انکے گلبرگ لاہور کی خاتون سعیدہ بخاری کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ رپورٹ کے مطابق سعیدہ بخاری نامی یہ خاتون ’سینورِتا ہوم‘ کے نام سے ’چکلہ‘چلارہی تھیں اور چکلہ چلانے کے ساتھ ساتھ جنرل نیازی کیلئے مبینہ طور پررشوت کی وصولی اور امور کی انجام دہی کیلئے ٹاؤٹ کا کردارادا کر رہی تھیں۔

کمیشن رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر جنرل نیازی کے ایک اور خاتون کے ساتھ بھی تعلقات تھے،جن کا تعلق سیالکوٹ سے تھا اور جس کا نام’شمینی فردوس‘تھا۔ رپورٹ کے مطابق شمینی فردوس نامی یہ خاتون بھی لاہور کی سعیدہ بخاری والا کردارادا کر رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ جنرل اے اے کے نیازی پر الزام تھا کہ انہوں نے مشرقی پاکستان میں قیام کے دوران بری شہرت کی حامل خواتین کے ساتھ تعلقات کے باعث ناخوشگوارشہرت حاصل کر لی تھی اور وہ رات کو ایسی جگہوں پرموجود ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ انکی کمانڈ کے جونیئرافسران بھی ایسی جگہوں پر تواتر سے جاتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل نیازی پر مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان پان کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا بھی الزام تھا۔

حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کے مطابق جنرل نیازی اور انکے جونیئر افسران کے خلاف کمیشن کے سامنے یہ الزامات درج ذیل گواہان نے لگائے تھے۔
عبدالقیوم عارف،گواہ نمبر6
منورحسین،ایڈووکیٹ سیالکوٹ،گواہ نمبر13
عبدالحفیظ کاردار،گواہ نمبر25
میجر سجادالحق،گواہ نمبر164
اسکواڈرن لیڈر سی اے واحد،گواہ نمبر 57
لیفٹیننٹ کرنل حفیظ احمد،گواہ نمبر 147

سیکس امور میں ملوث ہونے کے تباہ کن شواہد
حمودالرحمان کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کمیشن کی جانب سے مشرقی پاکستان میں سرنڈر کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کے دوسرے مرحلے میں جنرل نیازی کے سیکس امور اور پان کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے تباہ کن شواہد ریکارڈ پر آئے۔ رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوسرے مرحلے میں درج ذیل گواہان نے جنرل نیازی کے خلاف جو بیانات ریکارڈ کرائے،وہ اہمیت کے حامل ہیں:۔

لیفٹیننٹ کرنل منصورالحق،گواہ نمبر260
لیفٹیننٹ کیڈر اے اے خان،گواہ نمبر 262
بریگیڈیئر آئی آر شریف،گواہ نمبر269
محمد اشرف،سابق ایڈیشنل ڈی سی ڈھاکہ،گواہ نمبر 275
لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان،گواہ نمبر276

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

رپورٹ کے مطابق جنرل نیازی سے متعلق ان میں سے ایک گواہ نے یہ بیان دیا کہ’فوجی جوان یہ کہا کرتے تھے کہ جب کمانڈرخود زانی ہے تو پھر انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے۔ سیالکوٹ اور لاہور میں تعیناتی کے دوران بھی جنرل نیازی کی ایسی ہی شہرت تھی۔‘

کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنرل نیازی کی جانب سے ایسٹرن کمانڈ میں اپنی پوزیشن کا ناجائز استعمال کرکے پان کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی باد ی النظر میں بنیاد ٹھوس شواہد پرہے۔ کمیشن کے مطابق اب یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ آیا یہ امور زیرِبحث افسر کے خلاف انکوائری کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے