آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل
ماضی کے کئی حکمران بیرونِ ملک سے ملنے والے مہنگے ترین تحائف کو کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر توشہ خانہ سے اپنی ملکیت میں لے چکے ہیں۔لُوٹ مار کے ان اسکینڈلز میں سب سے بھیانک مثال آصف علی زرداری کی ہے جنہیں بطور صدر ِ پاکستان بیرونِ ممالک سے مہنگی ترین بلٹ پروف گاڑیاں تحفے میں ملی تھیں اور اس وقت کے رُولز کے مطابق انہوں نے یہ گاڑیاں ریاست کو جمع کرانا تھیں تاہم ایسا کرنے کی بجائے زرداری نے معمولی سی رقم کی ادائیگی کے بعدان گاڑیوں کواپنی ذاتی ملکیت اور قبضے میں لے لیا۔
بطورصدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو لیبیا اور متحدہ عرب امارات سے تین بلٹ پروف گاڑیاں تحفے میں ملی تھیں۔زرداری نے ان گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسزکی ادائیگی بھی خود نہیں کی بلکہ اس کیلئے ان جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کیا گیا جنہیں مبینہ طور پر رشوت اورکمیشن کے حصول کیلئے بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کا وہ ایک شاہی حکم جو پی آئی اے کو320کروڑ روپے میں پڑا
تحقیقات کے مطابق جن جعلی اکاؤنٹس سے آصف علی زرداری کی گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی ادا کی گئی تھی،ان میں ابتداء میں بحریہ ٹاؤن نے فنڈز جمع کرائے تھے جبکہ بعد میں جعلی اکاؤنٹس نے اسی رقم کو زرداری کی گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی کی مد میں ادا کر دیاتھا۔یوں زرداری نے مبینہ طور پر گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی اور ٹیکسز کی دائیگی کیلئے منی لانڈرنگ کی دولت کا استعمال کیا۔
جے آئی ٹی کے انکشافات
زرداری کے توشہ خانہ اسکینڈل کی تفصیلات کو جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کی جانب سے تفصیل سے سامنے لایا گیا ہے۔ اس حوالے جے آئی ٹی رپورٹ میں کئے جانیوالے انکشافات کی تفصیل کو یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق:۔
”۔۔۔۔آصف علی زرداری جب صدر تھے تو انہیں متحدہ عرب امارات اور لیبیا سے تین گاڑیاں تحفے میں ملی تھیں تو انہوں نے جعلی اکاؤنٹس سے جرائم کی دولت کا استعمال کرکے توشہ خانہ کی ان گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی اوردیگر ٹیکسز کی ادا ئیگی کی اور گاڑیوں کو اپنے نام پر رجسٹرڈ کروالیا۔۔یہ گاڑیاں آج بھی زرداری کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔۔انہوں نے توشہ خانہ سے یہ گاڑیاں انکی تخمینہ شدہ قیمت کا صرف15فیصدادا کرنے کے بعد اپنے قبضہ میں لے لیں۔

آصف علی زرداری کو 2008ء میں بطورصدرِ پاکستان دوگاڑیاں متحدہ عرب امارات جبکہ ایک گاڑی لیبیا سے تحفے میں دی گئی تھی۔ تحائف کی”قبولیت اور ڈِسپوزل کے طریقہ کار“کے پیرا6 اورپیرا11کے تحت صدرِ پاکستان کو تحفے میں ملنے والی ان گاڑیوں کو کابینہ ڈویژن کے سینٹرل پُول میں جمع کرایا جانا تھا تاہم اس وقت کے وزیراعظم نے خصوصی ریلیکسیشن دی جس کے بعد آصف علی زرداری نے ان مہنگی گاڑیوں کو انکی تخمینہ شدہ قیمت(assessed value) کی صرف 15فیصد ادا ئیگی کے بعد اپنے ذاتی قبضے اورملکیت میں لے لیا۔بعد میں ان تینوں گاڑیوں کو آصف علی زرداری کے نام پر رجسٹرڈ کرلیاگیا اور زرداری کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی میں بھی ان گاڑیوں کوڈیکلئر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوز بنوائی تھیں؟
زرداری نے توشہ خانہ سے جن گاڑیوں کو اپنی ملکیت میں لیا انکی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
بی ایم ڈبلیو760بلٹ پروف۔۔دوگاڑیاں
لیکسس570بلٹ پروف۔۔۔ایک گاڑی
ان گاڑیوں کو ’اسلام آباد ایکسائز اورٹیکسیشن آفس‘ نے 6جون2009ء کو گڈز ڈیکلیئریشن یا اِمپورٹ دستاویزات کی فراہمی کے بغیر رجسٹرڈ کرلیا۔ گُڈزڈیکلیئریشن کو اِمپورٹ ڈیوٹی کے واجب الاداء ہونے کے باعث جاری نہیں کیا جاسکا تھا۔

پاکستان کسٹمز کے ریکارڈ کے مطابق ان گاڑیوں کیلئے اِمپورٹ ڈیوٹی کی مد میں کل 4کروڑ83لاکھ روپے کی رقم ادا کی جانا تھی مگرآصف علی زرداری نے اِمپورٹ ڈیوٹی کی مد میں جعلی اکاؤنٹس سے صرف 3کروڑ71لاکھ روپے جمع کرائے تھے۔آصف علی زرداری نے اِمپورٹ ڈیوٹی کی مد میں جو رقم جمع کرائی وہ بھی انہوں نے اپنی دولت سے نہیں بلکہ جعلی اکاؤنٹس سے جمع کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: فوج کی مبینہ ڈکیت سیاستدانوں بارے فہرست جو مسلم لیگ ن نے پارلیمنٹ میں پیش کی تھی
آصف علی زرداری کی جانب سے ان تین گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی کی مد میں تاحال 1کروڑ11لاکھ روپے جمع نہیں کرائے گئے مگر توشہ خانہ کی گاڑیاں انکے نام رجسٹرڈہوچکی ہیں اورانکے زیرِ استعمال ہیں۔
ان گاڑیوں کی قیمت کی مد میں آصف علی زرداری نے توشہ خانہ میں اپنے سِلک بینک اکاؤنٹ سے ساڑھے91لاکھ جبکہ انصاری شوگر ملز کے نیشنل بینک اکاؤنٹ سے 1کروڑ11لاکھ روپے جمع کرائے تھے۔
زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل کیسے پکڑا گیا تھا؟
جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق:۔
”۔۔۔جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا تھا کہ سال2014ء میں 3کروڑ71لاکھ روپے مالیت کی ایک ادائیگی ’کولیکٹر آف کسٹمزکے نام جاری کی گئی تھی۔ یہ انکشاف ایک جعلی کاروباری کمپنی جس کا نام ’ایم ایس لکی انٹرنیشنل‘ ہے اورجو کمپیوٹر ہارڈوئیر ٹیکنیشن عدنان جاوید کے نام پر تھی،کی تحقیقات کے دوران ہوا تھا۔تحقیقات سے پتہ چلا کہ 3کروڑ71لاکھ روپے کی جو رقم”کولیکٹر آف کسٹمز“ کو ادا کی گئی ہے،اسے ابتداء میں ’بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کی جانب سے ’ایم ایس لکی انٹرنیشل‘نامی جعلی کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا گیا تھا۔
اس کے بعد اس رقم کو ’کولیکٹر آف کسٹمز‘ کے نام پر جاری کر دیا گیا۔جے آئی ٹی کی تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ بعد ازاں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جعلی اکاؤنٹ میں جمع کرائی جانیوالی اس رقم کو ان تین گاڑیوں کی ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی کیلئے استعمال کیا گیا جنہیں سال2008ء میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کو لیبیا اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے تحفے میں دیاگیا تھا۔“
منی لانڈرنگ اورتوشہ خانہ
جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی کی جانب سے زرداری کے توشہ خانہ اسکینڈل سے متعلق آخر میں کہا گیا ہے کہ”ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری جب پاکستان کے صدر تھے تو انہوں نے توشہ خانہ کی گاڑیوں کی اِمپورٹ ڈیوٹی کی ادائیگی کیلئے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی کمائی کا استعمال کیا۔ انہوں نے یہ گاڑیاں صرف 15فیصد قیمت ادا کرکے اپنی ملکیت میں لی تھیں۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
