منگل, نومبر 3, 2026
عدلیہ

جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں شریف خاندان پر کیا الزامات لگائے تھے؟

Share

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے 11جولائی2019ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیان حلفی جمع کرایا تھا،جس میں نوازشریف،حسین نواز اور انکی جماعت کے دیگر افراد پر سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے۔

ارشد ملک کے بیانِ حلفی کا مکمل متن کچھ یوں ہے:۔

”۔۔۔میں محمد ارشد ملک،بالغ مسلمان،جج احتساب عدالت نمبر2،اسلام آباد،یہ اقرارکرتا ہوں اورحلفیہ بیان دیتا ہوں کہ:۔

فروری2018ء میں،میری بطور جج احتساب عدالت نمبر2،اسلام آباد میں تقرری کے فوری بعدمجھ سے میرے دو واقف کاروں مہرجیلانی اورناصرجنجوعہ نے رابطہ کیا،جن سے میری ملاقات ہوئی۔اس ملاقات کے دوران ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ن لیگ حکومت میں ایک بااثر شخص سے مخصوص اور ذاتی سفارش کی تھی جس کے بعد مجھے احتساب عدالت نمبر2،اسلام آباد کا جج تعینات کیا گیا تھا۔اپنے اس دعویٰ میں وزن پیداکرنے کیلئے ناصر جنجوعہ نے اپنے ہمراہ آنیوالے ایک اور فرد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ:”میں نے کچھ ہفتے قبل آپ کو بتایا نہیں تھا کہ محمد ارشد ملک کو احتساب عدالت کا جج تعینات کیا جارہا ہے۔۔“

بہرحال اس وقت میں نے اس دعویٰ سے متعلق زیادہ نہیں سوچالیکن میں نے ناصرجنجوعہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کو میرا نام تجویز کرنے سے قبل کم ازکم میرے خیالات جان لینا چاہئے تھے۔۔ میں اس عہدہ کا خواہاں نہیں تھاکیونکہ میں ضلع میں سیشن جج کے طور پر تعیناتی کا خواہشمند تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صدرالدین ہاشوانی کی جانب سے زرداری کو ہوٹل سے باہر پھینکوائے جانے کی تفصیل

اگست2018ء میں ’فلیگ شِپ ریفرنس‘ اور ’ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس‘ کو ٹرائل کیلئے میری عدالت ٹرانسفر کر دیا گیا۔جس دوران ’فلیگ شِپ ریفرنس‘ اور ’ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس‘ کا ٹرائل چل رہا تھا تو اس عرصہ میں ’ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنس‘ میں میاں نوازشریف اور دیگر ملزمان کو بری کرنے کیلئے میاں نوازشریف کے ساتھیوں اورحامیوں کی جانب سے مطالبات،ترغیبات اور دھمکیوں کے ساتھ مجھ سے کئی مواقع پر رابطے کئے گئے۔۔ان میں سے چند مخصوص رابطوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

Affidavit of Muhammad Arshad Malik, Judge Accountability Court No II, Islamabad

پہلا موقع

ایک سماجی ملاقات،جس میں ناصر جنجوعہ اور مہرجیلانی بھی شریک ہوئے تھے،کے دوران ناصرجنجوعہ مجھے ایک طرف لئے گئے اوروہاں میری منت سماجت کی کہ میں فلیگ شپ ریفرنس اور ہِل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس میں ملزمان کو بری کرنے کے فیصلے دوں۔ ناصر جنجوعہ نے مجھے بتایا کہ وہ شخص نوازشریف تھے جن کے سامنے انہوں نے مجھے اسلام آباد احتساب عدالت کا جج لگانے کیلئے میرا نام تجویز کیا تھا۔۔۔اور یہ کہ ان حالات میں جب تک نوازشریف کے حق میں فیصلہ نہیں دے دیا جاتا تو یہ میرے لئے ذاتی طور پر بہت نقصا ن دہ ہوگا۔۔۔اس وقت میں نے ناصر جنجوعہ کو یہ جواب دیا کہ”اللہ بہتر کرے گا۔۔۔انصاف اللہ کا منصب ہے اور اللہ ناانصافی نہیں کرتا۔۔۔“

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

دوسرا مواقع
جب فلیگ شِپ ریفرنس اور ہل میٹل اسٹیبلمشنٹ ریفرنس کے ٹرائل دلائل کے مرحلے میں تھے تو اس وقت ایک بار پھر ناصر جنجوعہ اور مہرجیلانی نے مجھ سے رابطہ کیا۔اس بار ناصر جنجوعہ نوازشریف کا حوالہ دیکر ”مالی پیشکش“ کے ساتھ آئے۔مجھے بتایا گیا کہ میں ’فلیگ شِپ ریفرنس اور ہل میٹل اسٹیبلمشنٹ ریفرنس‘ میں ملزمان کو بری کروں تو اس صورت میں، میں جو مانگوں میاں نوازشریف وہ دینے کو تیار ہیں۔ناصر جنجوعہ نے کہا کہ مجھے اپنی پسند کے کسی بھی ملک میں اپنے نمائندے کے ذریعے ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ میں نے یہ کہہ کر جواب دیا کہ میں نے اپنی زندگی کے 56برس چھ مرلہ کے گھر میں اطمینان بخش انداز میں گزار دئے ہیں اور مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔ میں ان دونوں ریفرنسز کا فیصلہ اپنے حلف کے مطابق کروں گا۔

ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس فوری طور پریوروکرنسی میں کیش موجود ہے،جو کہ دس کروڑ روپے پاکستانی کے برابر بنتی ہے۔۔اس کیش میں سے دو کروڑ پاکستانی روپے کے برابریوروکرنسی میں اس وقت ان کی باہر پارک شدہ کار میں پڑے ہیں۔۔۔ناصر جنجوعہ نے مجھے مزید ترغیب اور لالچ دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایک تنخواہ دار شخص ہیں،جس کا خاندان ہے اورذمہ داریاں ہیں مگر ذرائع معمولی ہیں۔۔اس لئے مستقبل کیلئے خود کو محفوظ بنانے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔۔“

تاہم میں نے میرٹ کا ساتھ دیتے ہوئے اس پیش کش شدہ رشوت کو لینے سے انکار کر دیا۔

تیسرا موقع
اس رشوت کی پیشکش سے انکار کے فوری بعد مجھے ناصر بٹ کی جانب سے جسمانی نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی۔۔اس کا ذکر میں نے 7جولائی2019ء کی پریس ریلیز میں بھی کیا ہے۔یہ دھمکی ناصر بٹ نے دھمکی آمیز لہجے میں یہ کہتے ہوئی دی تھی کہ ان پر میاں نوازشریف کے بہت سے احسان ہیں کیونکہ میاں صاحب نے اپنے بے پناہ سیاسی دباؤ کا استعمال کرکے ان کی جانب سے کئے گئے چار سے پانچ قتل کیسز میں انہیں سزا سے بچایا تھا۔۔اس لئے میاں صاحب جن ٹرائلز کا سامنا کررہے ہیں،ان میں ان کی مدد کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

میں اپنے ذہن میں بالکل واضح تھا کہ میں نے ان مذکورہ مطالبات،ترغیبات اور دھمکیوں کے باوجود اِن ریفرنسز کا فیصلہ میرٹ پر اور ہر ریفرنس میں موجود شواہد کے حساب سے کرنا ہے۔۔میں نے فلیگ شپ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنسز میں فیصلے دسمبر 2018ء کے آخری ہفتے میں دئے اور میاں نوازشریف کو ہل میٹلز ریفرنس(العزیزیہ ریفرنس) میں سزا سنائی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کر دیا۔۔۔۔اس کے بعد کچھ عرصہ کیلئے خاموشی ہوگئی تاہم ’رشوت اوردھمکیوں کی ناکام شدہ کوششوں کی جگہ ’بلیک میلنگ‘ نے لے لی۔

فروری2019ء کے وسط میں،میری خرم یوسف اور ناصربٹ سے ملاقات ہوئی۔گفتگو کے دوران ناصر بٹ نے مجھ سے پوچھا کہ:’کیا ناصرجنجوعہ نے مجھے ’ملتان والی ویڈیو‘ دکھائی ہے؟“ مجھے اس جملہ کی فوری سمجھ نہ آئی اور پوچھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔۔اس کے بعد ناصر بٹ نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ چند دن میں آپ کو وہ ویڈیو دکھا دی جائے گی۔۔اس کے فوری بعد میاں طارق اور ان کا بیٹا مجھ سے ملنے آئے(میاں طارق سے میری پرانی واقفیت ہے۔۔یہ واقفیت اس وقت سے ہے جب میں سال2000ء تا2003ء کے عرصہ میں ملتان میں بطور ’ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج‘ رہا تھا)۔

میاں طارق نے مجھے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی سازبازشدہ غیر اخلاقی ویڈیو دکھائی جو ’کمپرومائزنگ پوزیشن‘میں تھی اور کہا کہ یہ آپ ہیں جو یہ سب اس وقت کر رہے تھے جب آپ ملتان میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔یہ میرے لئے حیران کن تھا۔مجھے ویڈیو دکھانے کے بعد ناصر بٹ اور ناصرجنجوعہ نے مجھ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا اور بلیک میل کرنا شروع کردیا اور کہا کہ میں میاں نوازشریف کی مددکرنے کیلئے کچھ کروں۔ناصر جنجوعہ نے مجھے تجویز دی کہ چونکہ ہل میٹل اسٹیبلمشنٹ ریفرنس میں سزا پہلے ہی دی جا چکی ہے،اس مجھے میاں نوازشریف کی تسلی کیلئے ایک آڈیو پیغام ریکارڈکرنا چاہئے،جس میں مجھے یہ کہنا ہوگا کہ اگرچہ میاں نوازشریف کے خلاف جرم ثابت کرنے کیلئے کوئی شواہد نہیں تھے لیکن میں نے میاں نوازشریف کو’ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس‘ میں بااثرحلقوں کے بے پناہ دباؤ پر سزا دی۔

ناصرجنجوعہ نے مجھے یہ یقین دہانی کراکرمزید ورغلایاکیا کہ یہ آڈیو پیغام صرف اور صرف میاں نوازشریف کی تسلی اور استعمال کیلئے ہوگا اور یہ کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میاں نوازشریف کی جانب سے سنے جانے کے بعد اس آڈیوریکارڈنگ کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ میں نے انکارکیا لیکن ناصرجنجوعہ نے جملے دہرانے پراصرارکیا۔۔۔اس کے کچھ عرصہ بعد ناصر بٹ میرے پاس دوبارہ آئے اور کہا کہ آپ کے تعاون نہ کرنے کے باوجود ناصرجنجوعہ نے آپ کی آوازکوریکارڈ کرلیا ہے۔ناصربٹ نے مزید کہا کہ میاں صاحب نے آپ کے آڈیو پیغام کو سن لیا ہے لیکن چونکہ وہ مطمئن نہیں ہوئے تو اس لئے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میں (ناصربٹ) آپ کو جاتی امراء لے آؤں جہاں میں میاں نوازشریف کے سامنے اپنے بیان کو دہراؤں گا۔۔۔۔ناصر بٹ نے ایک بار پھر ”ملتان کی ویڈیو“ کو بطور دھمکی استعمال کیا۔میں ناصر بٹ کے ساتھ غالباً6جون2019ء کو جاتی امراء گیا،جہاں میاں نوازشریف نے ذاتی طور پر ہمارااستقبال کیا۔اس ملاقات میں ناصر بٹ نے میاں نوازشریف کے سامنے یہ دعویٰ کرکے گفتگو کا آغاز کیا کہ میں نے ناصربٹ کے سامنے تسلیم کرلیا ہے کہ نوازشریف کو سزا عدلیہ اور فوج کے دباؤ پر دی گئی تھی۔۔تاہم جب میں بولا تو میں نے شائستگی سے میاں نوازشریف کے سامنے وضاحت کی کوشش کی کہ’ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس‘ میں سزا میرٹ پر تھی اور یہ کہ پراسیکیوشن ان کے خلاف کافی شواہد لایا تھا۔۔جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں مطلوبہ شواہد کی کمی کی وجہ سے انہیں بری کیا گیا تھا۔

میاں نوازشریف واضح طور پر میرے جواب پر ناخوش ہوگئے اور ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔۔ملاقات ختم ہوگئی۔۔۔جاتی امرا سے واپسی کے سفر پر ناصر بٹ واضح طور پر مایوس اورمضطرب تھے۔انہوں نے غصہ میں مجھ پر وعدہ نہ نبھانے کا الزام عائد کیا۔۔انہوں نے کہا کہ جاتی امراء ملاقات میں جو کچھ ہوا اس کے ازالے کیلئے وہ ’ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس‘کے فیصلہ کے خلاف اپیل کے گراؤنڈز کیلئے میری مدد چاہتے ہیں۔ ناصربٹ نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی وکلاء کی خدمات لے لی تھیں جنہوں نے اپیل کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔۔اب وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ میں اس پرنظرثانی کروں اور اپنا ’اِن پٹ‘ دوں۔۔یہ چیز میاں نوازشریف کے سامنے بری الذمہ ہونے کیلئے مددگار ہوگی۔۔۔میں جس بلیک میلنگ کا شکار ہوریا تھا اس کے پس منظر میں،میں نے یہ مطالبہ مان لیا۔۔۔چند روز بعد ناصر بٹ اپیل کے ڈرافٹ میمورینڈم کے ساتھ میرے پاس آئے،جس پر ہچکچاہٹ کے ساتھ میں نے نظرثانی کی اور ناصر بٹ کے مطالبے کے مطابق میں نے چند آنزرویشنز دیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ کارساز پر اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے کیالکھاتھا؟

ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کے فیصلہ کے حوالے سے مریم نوازشریف اور ن لیگ کی سینئرقیادت کی 6جولائی2019ء کی پریس کانفرنس دیکھنے پر مجھے محسوس ہوا کہ جس ملاقات میں،میں نے اپیل کے ڈرافٹ میمورینڈم پر تبصرہ کیا تھا،اسے خفیہ طور پر ریکارڈ کیا گیا تھاکیونکہ اس ملاقات کے ایڈیٹ شدہ اور سازباز شدہ حصوں کو مذکورہ پریس کانفرنس میں چلائی گئی آڈیو/ویڈیو ٹیپ کا حصہ بنایا گیا تھا۔

28مئی2019ء کومیں اپنے خاندان کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گیا۔یکم جون2019ء کو عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعدمسجدِنبوی کے باہر مجھ سے ناصربٹ ملے اور مجھ سے کہا کہ میں حسین نوازشریف سے ملنے کیلئے ا ن کے ساتھ جاؤں۔جب میں نے اس ملاقات سے انکار کیا تو ایک بار پھر مجھے مسائل کی دھمکی دی کہ پاکستان میں مجھے شرمندہ کرنا اس کی فون کال کی ایک کلک کا کام ہے۔

واضح طور پر حسین نواز کا لہجہ اور طرزِ عمل جارحانہ اور دھمکی آمیز تھا۔حسین نوازنے مجھے 50کروڑ روپے کیش رشوت کے ساتھ یہ پیشکش کی کہ مجھے او رمیرے پورے خاندان کو برطانیہ،کینیڈا یا میری پسند کے کسی اور ملک میں سیٹل کیا جائے گا جہاں میرے بچوں کیلئے نوکریاں اور منافع بخش کاروبار ہوگا۔حسین نوازنے کہا کہ اس کے بدلے میں مجھے صرف یہ کرنا ہے کہ میں اس گراؤنڈ پر استعفیٰ دے دوں کہ ’میں میاں نوازشریف کو بغیر شواہد کے دباؤ کے نتیجہ میں سزا دینے کے جرم کے احساس سے مزید ڈیل نہیں کر سکتا۔“۔حسین نواز نے کہا کہ ایسے استعفیٰ پر دستخط کرنے کے بعد وہ سب کچھ دیکھ لیں گے اور اسی بلیک میلنگ کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ وہی وہ واحد فرد ہیں جو مجھے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔۔۔انہوں نے مجھ پر فوری جواب کیلئے دباؤ ڈالا۔میں نے حسین نوازشریف کی اس پیش کش کو رد کر دیا۔میں 8جون2019ء کو پاکستان واپس آگیا،جس کے بعد ناصر بٹ نے مجھے کئی فون کالز کیں اورمجھ پر زوردیا کہ میں مدینہ پاک میں حسین نواز کی جانب سے کی گئی پیشکش پر دوبارہ غور کروں۔۔۔ان کالز میں ناصربٹ نے مجھے نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ناصر بٹ نے مجھے یہی پیغام خرم یوسف کے ذریعے بھی دلوایا لیکن میں نے دونوں کو نفی میں جواب دیا۔۔۔پھر میں نے ناصر بٹ کی کالز لینا بند کردیں۔

واضح طور پر جب یہ محسوس کرلیا گیا کہ میں ان کی ناجائز ڈیمانڈز کو ماننے والا نہیں تو بدلے میں 6جولائی2019ء کو پریس کانفرنس کی گئی جس میں مجھ پرجھوٹے اور بدنیتی پر مبنی الزامات عائد کئے گئے اور مجھ سے غلط بیانات منسوب کئے گئے،جن کا میں نے 7جولائی2019ء کی پریس ریلیزمیں بھی حوالہ دیا ہے۔یہ پریس ریلیز میں ”ویک اینڈ“پر جاری کرنے پر اس لئے مجبور ہوا کیونکہ 6جولائی2019ء کی جھوٹی اور مذموم پریس کانفرنس کو باربار میڈیا پر دہرایا گیا۔

Judge Arshad Malik’ Press Release dated 7th July, 2019

یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟

یہ کہ میں ایک بار پھردہراتا ہوں کہ ’ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنس میں فیصلے پوری طرح میرٹ پر دئے گئے تھے۔۔یہ فیصلے بغیر کسی دباؤ،خوف یا نوازش کے دئے گئے۔۔ان فیصلوں کی بنیاد دستیاب شواہد پر تھی۔۔ان فیصلوں میں عدلیہ کا نام اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقررشدہ انصاف کے پیمانے کو برقراررکھا گیا۔۔

محمد ارشد ملک
جج احتساب عدالت2،اسلام آباد
11جولائی2019ء


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے