ملک کے50سینئر ترین وکلاء کے کنونشن کےاعلامیہ کے اہم ترین نکات کی تفصیل
پندرہ اپریل2023ء کو لاہور میں 50سینئر وکلاء کا اہم ترین کنونشن ہوا اور درج ذیل اعلامیہ جاری کیا گیا:۔
”۔۔۔۔اس کنونشن کا ماننا ہے کہ قوم کی زندگی میں پہلے کبھی بھی عدلیہ اورایگزیکٹو،عدلیہ اور مقننہ،سیاسی جماعتوں کے مابین،سیاسی قیادت اورووٹرز کے مابین،ججوں کے مابین،بار اور بینچ میں،ملٹری اور سول سوسائٹی یا سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے مابین تعلقات اس نہج پر نہیں پہنچے،جیسا کہ آج ہیں۔اگر درج بالا سے کوئی زیادہ تقسیم ہے تو وہ فاقہ کرتے،بے گھر،بیروزگار پاکستانی عوام اور اس طاقتور معاشی و سیاسی اشرافیہ کے مابین ہے،جن کے پاس اندرون و بیرون ملک بھاری اور بے حساب اثاثے اور بین الاقوامی نقل و حمل کی سہولت ہے۔یہ اشرافیہ،جو کہ ٹاپ بزنس ہاؤسز،صنعت کاروں،پراپرٹی ٹائیکونز،جاگیرداروں،سینئرجرنیلوں اور بیوروکریٹس پر مشتمل ہے،گلی میں موجود افراد کیلئے درد یا حساسیت کا مظاہرہ ہی نہیں کرتی۔اشرافیہ نے اپنے لئے الگ تھلگ اور محفوظ نظام بنا لیا ہے جہاں وہ نمودونمائش پر مبنی پرآسائش زندگیاں گزارتے ہیں۔انکی آسائشوں پر اخراجات اور عوام کی مصیبتوں سے مکمل بے رخی سوائے ناشائستگی کے کچھ نہیں۔ایک ایسی قوم کی حیثیت سے جو مسلسل سات دہائیوں کی فضول اخراجات کے ہنگامے کو جاری رکھے ہوئے ہے،ہم نے درحقیقت خود پر اتنی آمدن خرچ کر لی ہے جو آئندہ چارنسلیں سخت محنت سے کمائیں گی کیونکہ عالمی نظام اسی جانب بڑھتا نظر آرہا ہے۔ہمارے پڑپوتے/پڑپوتیاں وہ قرض ادا کررہے ہونگے جو ہم نے اکٹھا کیا ہے جبکہ انکے ہم عصر وہ پھل کھائیں گے جو انکے باپ دادا نے انکے کیلئے بچایا ہوگا۔
جو جامع المیہ ہمارے سامنے ہے،اس میں ہم ایک ایسی المناک صورتحال پر فوکس کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں،جس کا ہمیں سامنا ہے۔
حکومت کا سپریم کورٹ کے آرڈر/آرڈرز کو ماننے سے انکار۔۔
حکومت کا آئین میں واضح انداز میں بیان شدہ نوے روز کے دورانئے میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کرانے سے انکار۔۔
ہمارے سامنے یہ ایشو ہے کہ آیا 90روز کا یہ دورانیہ لازمی ہے یا نہیں۔۔؟
ہماراماننا ہے کہ یہ لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟
ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ انتخابات وہ حقیقی ایشو ہے جس سے وزیراعظم شہباز شریف بچنا چاہتے ہیں جبکہ دیگر امور جن میں بینچوں کی تشکیل،روسٹر فِکسیشن وغیرہ شامل ہیں،واضح distractionsہیں جن کا مقصدالیکشنز کے حقیقی ایشو سے توجہ ہٹانا ہے۔
عدالتی عمارت پر نمایاں حملہ، چاہے یہ اندر سے ہو یا اسکے بغیراور اسکے ذمہ داران چاہے وہ خود ججز ہوں،ایڈمنسٹریٹرز ہوں یا سیاسی جماعتیں ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟
آئینی تنازعات،جس نے body politicکو فریکچر کر دیا ہے اور یہاں تک کہ ججوں میں پھوٹ ڈال دی ہے اور یہ پھوٹ زیادہ تر بینچوں کی تشکیل،روسٹر فِکسیشن اور ججوں کے politicians wearing robes یا عدالت کے بطور“imperialist”عدالت، جیسے سوالات پر ہے۔ ان تمام ایشوز کو کسی اور ادارے کی بجائے اور ناشائشہ جلدبازی کی بجائے ججوں کی جانب سے خود غوروخوض کے بعد حل کرنے کی ضرورت ہے۔
اس صورتحال میں مقننہ اور کچھ سیاسی جماعتوں کا کردار بھی منفی،تقسیم کرنیوالااورموقع پرستانہ رہا ہے،اور:۔
۔۔۔عدلیہ میں پھوٹ اصولوں کی بجائے پارٹیوں سے ذاتی تعلقات اورذاتی انا کے باعث نظر آتی ہے
۔۔۔اس پھوٹ نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس سے تباہ کن نتائج کے ساتھ1997ء میں جج ذاتی تعلقات اور انا کی بنیاد پر تقسیم ہوئے تھے۔موجودہ صورتحال اس سے بھی بدتر لگتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
۔۔۔آج ججوں کی پولرائزیشن اس قدر ہے کہ آج محض بینچ کی تشکیل سے ہی ایک شہری کیس کا نتیجہ بتا نے کا اہل ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ تنازع پیدا کیا جا سکا کہ یکم مارچ کو حتمی فیصلہ،جس پر ابھی عمل کیا جانا ہے، جاری کرنیوالے سپریم کورٹ بینچ میں سات یا پانچ جج تھے۔ایک دھڑے کا ماننا ہے کہ یہ سات جج تھے جبکہ دوسرے کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پانچ جج تھے کیونکہ صرف پانچ ججوں نے فریقین کے دلائل سنے اور یوں وہ 3-2سے حتمی آرڈرجاری کرنے کے مجاز تھے۔
ایک تقسیم شدہ ا ورکمزورسپریم کورٹ اس قابل نہیں کہ شدید توہین کے اقدامات اور عدالت کی بے توقیری کے اقدامات جیسا کہ بڑے بل بورڈز دکھانے کا عمل جو سپریم کورٹ کے سِٹنگ ججوں کے پورٹریریٹس پر مشتمل ہوں اوربڑے عوامی جلسوں میں انہیں برا بھلا کہنے،پر توجہ دے سکتی۔
انتخابات کا معاملہ
موجودہ پیچیدہ معاملہ کی جڑپنجاب اور کے پی اسمبلی کے انتخابات ہیں۔انکا جلد ازجلد انعقاد ہونا چاہئے۔
۔۔۔کیونکہ پنجاب کیلئے 90روز14اپریل2023ء کو ختم ہوگئے جبکہ کے پی کیلئے 18اپریل2023ء کو ختم ہونگے
۔۔۔یوں پنجاب اور کے پی کے ہر ووٹر کا نوے روز کے طے شدہ دورانئے میں ووٹ ڈالنے کابنیادی حق پیدا ہوگیا ہے
۔۔۔اپنے اسٹیٹس اور رینک سے قطع نظر تمام پاکستانی اس مقصد کی تکمیل کیلئے اپنا فرض نبھانے کے پابند ہیں
۔۔۔کابینہ کی جانب سے قانون سازی کا راستہ اختیار کرنا malafideنظر آتا ہے،جس کا مقصد الیکشن سے بچنے کا طریقہ نکالنا ہے۔ عدالت کو اس کا جائزہ لینا چاہئے،انہیں بلانا چاہئے جو الیکشن کو تاخیر کرنے یا اس سے بچنے کیلئے ذرائع فراہم کر رہے ہیں۔ اگر مقننہ کو ادارہ جاتی عزت فراہم کرنا ہے تو وہ جنہوں نے قانون سازی کے عمل سے باہر عدالت کے احکامات کے مطابق اقدامات کو روکنے کیلئے فیصلہ کیا جن میں دیگر کے ساتھ وزیراعظم،وزیرقانون اور وزیرداخلہ شامل ہیں کو بلایا جانا چاہئے تاکہ ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور آئین کی خلاف ورزی کے الزام اور عدالتی احکامات کی توہین کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار
پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات سے بچنے کیلئے حکومت ایک نیا عجیب بہانہ ڈھونڈ لائی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایک ہی روز تمام اسمبلیوں کے انتخابات کرانا ہمیشہ زیادہ آسان رہا ہے یہاں تک کہ پانچ اسمبلیوں میں سے کوئی ایک اسمبلی اپنی مدت کی تکمیل سے تین برس قبل ہی ٹوٹ جائے۔ اس سے جو ایشوز پیدا ہوتے ہیں وہ وفاق اور جمہوریت کیلئے خطرے سے پُر ہیں،جیسا کہ:۔
کیا تحلیل شدہ اسمبلی والے صوبے کو تین برس تک منتخب شد نمائندوں کی حکومت سے محروم رکھا جائے گا؟ یا
دیگر چار اسمبلیوں کو بھی اکٹھے توڑا جائے گا تاکہ تمام پانچ اسمبلیوں میں انتخابات ایک ہی روز ہوں؟
کیا اس کو وَن یونٹ کی تجدید نہیں سمجھا جائے گا،جس کے خلاف عوام،بالخصوص چھوٹے صوبوں کی عوام نے 1956ء سے1969ء تک جدوجہد کی،یہاں تک کہ وہ وفاقی ڈھانچہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے جس بارے 1973ء کے آئین میں فراہم کیا گیا ہے۔
لہذٰا ہمارا ماننا ہے کہ:۔
۔۔۔آئین کے احکامات کے مطابق اور جیسا کہ سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے آرڈر جسے 4اپریل کے آرڈر کے ساتھ پڑھا جائے،میں بتایا گیا ہے،پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات فوری کرائے جائیں۔
۔۔۔سپریم کورٹ کے اندرونی ایشوز کو جج خود باہمی عزت و احترام سے نمٹائیں
۔۔۔عدالت یا اس کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کوئی بھی قابلِ اجازت قانون سازی عدالت کی آزادی،عظمت اوراتھارٹی کو تباہ کرنے کیلئے نہیں کی جانی چاہئے۔(امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ماخوذ)
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
اس لئے ہمارا ماننا ہے کہ بحیثیت وکلاء ہم پاکستانی عدالتوں کے افسران ہیں اور یوں آئین و قانون کے مطابق ہم عدالتوں کے کام کرنے میں بنیادی اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ اس لئے ہمیں ہر وقت ایک مضبوط عدالت درکار ہے جو آئین اور ججوں کی جانب سے اٹھائے گئے حلف کے تحت کام کررہی ہو۔ جب تک عدالتیں ایسا کرتی رہیں گی،ہم ہمیشہ انہیں بغیرتحفظات کے سپور ٹ کرتے رہیں گے۔
اعتزا ز احسن

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
