شریف خاندان کااثرورسوخ:جب ریاست کو لینے کے دینے پڑگئے
شریف خاندان سے مبینہ لُوٹ مار اور کرپشن کے پیسوں کی وصولی اب تک ناممکن رہی ہے۔ماضی میں جب کبھی اس خاندان سے وصولیاں کرنے کی کوششیں کی گئیں یا ریاست کچھ وصول کرنے میں کامیاب بھی ہوئی تو یہ طاقت ور خاندان عدلیہ یا بااثرشخصیات کی مدد سے ریاست سے اپنے اثاثے اوردولت واپس لینے میں کامیاب رہا۔ یہاں تک کے ریاست کو اپنے پلے سے رقم دیکر اس خاندان کو راضی کرنا پڑا۔
شریف خاندان کی طاقت کے اس پہلو سے متعلق چند تاریخی حقائق کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
اتفاق فاؤنڈری کی واپسی
ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے شریف خاندان کی اتفاق فاؤنڈری کو نیشنلائز کردیا تھا لیکن بعد میں فوجی آمر ضیاء الحق نے نا صرف اتفاق فاؤنڈری شریف خاندان کوواپس کی بلکہ بقول پیپلزپارٹی قیادت کے، ایک مارشل لاء ریگولیشن کے تحت اتفاق فاؤنڈری کے ذمہ واجب الاداء بھاری واجبات بھی معاف کر دئے گئے۔

پاکستان ریلوے سے ذاتی کاروبارکوپروان چڑھانے کا عمل
نوازشریف اور ان کے خاندان نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان ریلوے کو اپنے ذاتی کاروبار کی ترویج کیلئے استعمال کرنا شروع کیا۔شریفوں نے ریلوے کو رعایتی نرخوں پر اتفاق فاؤنڈریز کا اسکریپ ڈھونے پر لگادیاتھا۔ پاکستان ریلوے کی مدد سے شریف خاندان کی اتفاق فاؤنڈری کیلئے اِمپورٹ شدہ اسکریپ کو رعایتی قیمت پر لاہور لایا جاتا تھا۔شریف خاندان کے اس عمل سے پاکستان ریلوے کو نقصان جبکہ شریفوں کے ذاتی کاروبارکو فائدہ پہنچ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار
سال1988ء میں بینظیر بھٹو حکومت میں آئیں تو انہوں نے شریف خاندان کی اس لوٹ مار پر کارروائی کی۔ 1989ء میں بینظیر حکومت کی جانب سے جوناتھن جہاز پر لدے ’اتفاق فاؤنڈری کے’اسٹیل اسکریپ“ کو لاہور میں فاؤنڈری تک لے جانے کیلئے ریلوے ویگنیں مہیا نہ کی گئیں تو شریف خاندان نے پاکستان ریلویز پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔

اس حوالہ سے نواز شریف نے اپریل2016ء میں کہا تھا کہ”سیاست میں آنے کے بعد ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔1989ء میں ہماری اتفاق فاؤنڈری کیلئے خام مال لانے والے بحری جہاز ”جوناتھن“ کو ایک برس تک سامان اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔‘
تاہم نوازشریف اور ان کے خاندان نے کامیابی سے بینظیر بھٹو حکومت کے اس عمل کو سیاسی اور مالی طور پر کیش کرایا۔اس معاملہ میں شریف خاندان نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر اپنے حق میں فیصلہ لیا اور قومی خزانے سے آٹھ کروڑ ہتھیا لئے۔پاکستان ریلوے خسارے میں گئی تاہم شریف خاندان کا ذاتی کاروبار ترقی کرتا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟
بینظیر بھٹو نے تواسکریپ کی اِمپورٹ کے اس معاملہ میں شریف خاندان پر اسمگلنگ تک کا سنگین الزام لگایا تھا۔ انکے بقول شریف خاندان اسکریپ کی آڑ میں اسمگلنگ کا گھناؤنا دھندہ کرتاتھا۔ اس حوالے سے بینظیر نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ”ضیاء الحق دور میں نواز شریف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے اتفاق فاؤنڈریز کے اندر ڈرائی پورٹ شروع کی تھی۔اس کا مقصد اسمگلنگ تھا۔نواز شریف کی جانب سے کہا جاتا تھا کہ انکی اتفاق فاؤنڈری کی ڈرائی پورٹ کیلئے آنیوالے کنٹینرز میں ”اسکریپ“ لایا جارہا ہے جبکہ حقیقت میں ان کنٹینرز میں ”اسمگل شدہ سامان“ آتا تھا۔‘
بینظیر بھٹو نے اس حوالے سے مزید کہا تھا کہ ’نواز شریف کی جانب سے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے پاکستان ریلوے سے کہا گیا تھا کہ رعایتی نرخوں پر اتفاق فاؤنڈری کا سامان کراچی سے لاہور لایا جائے۔جب(انیس سو اٹھاسی میں) پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو پاکستان ریلوے کی جانب سے نواز شریف کو بتایا گیا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران قانون سب کیلئے ایک جیسا ہے۔اس لئے نواز شریف کو ریلوے کو ادائیگیاں کرنا پڑیں گی۔نواز شریف کو پاکستان ریلوے کی یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔

بینظیر نے اس معاملہ پر مزید کہا تھا کہ’آپ کو معلوم ہے اس کے بعد نواز شریف نے کیا کیا تھا؟نواز شریف نے بحری جہاز جوناتھن کو پراپیگنڈا کیلئے سمندر میں کھڑے کئے رکھا۔اور اس کو ’پبلسٹی اسٹنٹ‘کے طور پر استعمال کیااور جب پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہوگئی تو نواز شریف عدالت گئے اور ریاستی گٹھ جوڑ سے جوناتھن جہاز کے معاملہ پر نواز شریف نے آٹھ کروڑ روپے لے لئے۔نواز شریف اس بات کا جواب دیں کہ وہ عوام کے وہ آٹھ کروڑ روپے واپس کر دیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
مشرف سے ڈیل،نیب کو ادائیگیاں اوربعدمیں واپسی
جنرل مشرف دور میں جب شریف خاندان پر مشکل وقت آیا تو اس خاندان نے ڈیل کی اور بیرون ملک چلتا بنا۔ اس ڈیل کے وقت نوازشریف ہائی جیکنگ اور ہیلی کاپٹر کیسز میں سزا یافتہ تھے۔اس کے علاوہ ان کے اور انکے خاندان کے افراد کیخلاف کئی کیسز زیرالتوا تھے۔شریف خاندان نے ملک چھوڑنے سے پہلے نیب کو ادائیگیاں کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اورحمزہ شہباز کو پاکستان میں بطور ضمانت چھوڑ دیا گیا۔وہ پاکستان میں شریف خاندان کے’بی ہاف‘پر نیب کو ادائیگیاں کرتے رہے۔

شریف خاندان کچھ عرصہ تو معاہدہ کے مطابق نیب کو ادائیگیاں کرتا رہا مگر2002ء میں اس خاندان کی جانب سے کہا گیا کہ ان کے پاس پیسے کم ہیں،اس لئے وہ مزید ادائیگیاں نہیں کر سکتے۔اس حوالہ سے دی نیوزنے جولائی2002ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔دی نیوز کی اس رپورٹ میں کہاگیاتھا کہ’جلاوطن سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان نے یہ کہتے ہوئے، کہ ان کے پاس پیسے کم ہیں، فوجی حکومت کو اربوں روپے کی مزید ادائیگیاں کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ان ادائیگیوں پر دسمبر دوہزار میں بارگین(جلاوطنی کی ڈیل) کے وقت اتفاق ہوا تھا۔دی نیوز کی جانب سے نیب چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل منیر حفیظ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس رپورٹ کی تصدیق کی۔‘
دی نیوز کی رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ’تاہم چیئرمین نیب نے یہ کہا کہ پاکستان میں شریف خاندان کے ترجمان حمزہ شہباز کو سخت پیغام دیا گیا ہے۔ حمزہ شہباز کو نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں بلایا گیا اور انہیں کہا گیا کہ جس طرح حکومت کے ساتھ طے کیا گیا تھا،اس کے مطابق بقایا ادائیگیاں کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
نیب چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگرچہ حمزہ شہباز نے ادائیگیوں کے انتظام کیلئے کچھ وقت مانگا مگر انہوں نے یہ یقین دہائی کرائی کہ وہ مستقبل میں بقایا ادائیگیاں بروقت کریں گے۔چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ یہ بڑا مسئلہ نہیں ہے اور نیب اس پر پہلے ہی قابو پاچکا ہے۔کسی کو ایک پیسہ ہضم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جیسا حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق وہ جلاوطن شدہ شریف فیملی سے ایک ایک پائی وصول کریں گے۔
دی نیوز کی رپورٹ میں مزید کہاگیا تھا کہ’اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی فیملی نے فوجی حکومت کو بتایا تھا کہ ان کے پاس بقایا رقم کی ادائیگی کیلئے پیسے نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق شریف خاندان کا یہ مؤقف تھا کہ کاروبار کو مؤثر انداز سے دیکھنے کیلئے چونکہ ان کے خاندان سے کوئی موجود نہیں تھا تو اس لئے انکا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔لیکن ذرائع کے مطابق نیب نے اس بہانے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور حمزہ شہباز سے کہا گیا ہے کہ وہ بقایا رقم کی باقاعدہ ادائیگی کو یقینی بنائیں۔‘
شریف خاندان کے ضبط شدہ اثاثوں کی واپسی
نیب نے مشرف دور میں جرمانوں کی عدم ادائیگی پر شریف خاندان کے کئی اثاثے ضبط کر لئے تھے۔ ان میں حدیبیہ پیپر ملز کے شیئرز بھی شامل تھے۔ نیب کی جانب سے شریف خاندان کے جو اثاثے قبضے میں لئے گئے تھے،ان میں دس کروڑ روپے مالیت کے شیئرز،ساڑھے گیارہ کروڑ روپے مالیت کے پرائز بانڈز،مری میں زمین اور شریف خاندان کے دیگر کاروباری یونٹس کے کاغذات شامل تھے۔
شریف خاندان وطن واپس آیا تو انہوں نے پہلے جنرل مشرف کی جانب سے برطرف ججوں کی بحالی کی مہم چلائی اور عدلیہ کے بحال ہونے کے بعد اس خاندان نے نیب سے اپنے ضبط شدہ اثاثے واپس لینے کیلئے عدالتوں میں درخواستیں دائر کر دیں۔لاہور ہائی کورٹ نے اکتوبر 2011ء میں شریف خاندان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے نیب کو حکم دیا کہ شریف خاندان کے قبضے میں لئے گئے تمام اثاثے انہیں لوٹا دئے جائیں۔یوں ایک بار پھر شریف خاندان سے کی گئی وصولیاں ریوَرس ہوگئیں۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
