منگل, نومبر 3, 2026
تاریخی رپورٹس

ارشد شریف کیخلاف ایف آئی آراندارج کا حکم آئی ایس آئی آفس سے جاری ہوا،رپورٹ میں انکشاف

Share

ارشد شریف قتل کیس میں حقائق کا کھوج لگانے والی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ میں اعتراف کیاگیا ہے کہ ملک بھر کے مختلف اضلاع میں ایف آئی آرز کے اندراج کا عمل ہی وہ چیز تھی جس نے ارشد شریف کوملک چھوڑنے پرمجبورکردیاتھا۔فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق کراچی کے میمن گوٹھ تھانے کے ایس ایچ او نے حقائق کی کھوج لگانیوالی ٹیم کو بتایاکہ اسے کراچی میں آئی ایس آئی آفس بلواکرارشدشریف کیخلاف ایف آئی آردرج کرنے کاحکم دیاگیا تھا۔

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات حکام کے مجبور کرنے کے باعث ارشد شریف کو دبئی چھوڑنا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

ایف آئی آرز درج کرانیوالوں کی تلاش
ارشد شریف قتل کیس پر بنائی جانیوالی دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ان عوامل کی بھی تحقیقات کی ہیں، جن کے باعث ارشد شریف کو ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔ اس حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ارشد شریف کے خلاف پاکستان میں درج ہونیوالے کیسز کا ڈیٹا اکٹھا کیا اورکیسز درج کرانیوالے افراد کو بلانے کیلئے نوٹس جاری کروائے۔

Fact Finding Report part detailing Compelling circumstances for Arshad Sharif to leave Pakistan

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’معلوم ہوا کہ ارشد شریف کیخلاف16کیسز درج ہوئے تھے۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ارشد شریف کے خلاف درج ہونیوالے نو کیسز کی کاپیاں حاصل کیں۔‘

یہ بھی پڑھیں: سانحہ کارپر اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے کیا لکھا تھا؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیم نے ارشد شریف کیخلاف کیسز درج کرانیوالوں اورمتعلقہ صوبوں کے پولیس سربراہان کو خطوط لکھ کر کہا کہ ایف آئی آر درج کرانیوالوں کو نوٹس بھیجے جائیں کہ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔ تاہم خطوط کے باوجود ارشد شریف کیخلاف کیسز کا اندراج کرانیوالے صرف دو افراد فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔ان دو میں سے ایک نے اعتراف کیا کہ اسے آئی ایس آئی آفس بلوا کر ارشدشریف کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا کہاگیا تھا۔

Details of 9 FIRs registered against Arshad Sharif that compelled him to leave Pakistan

رپورٹ میں ارشد شریف کیخلاف دھڑادھڑ مقدموں کے اندراج سے متعلق بتایا گیا ہے کہ دو دن میں ارشد شریف کیخلاف چھ ایف آئی آرز کاٹی گئی تھیں۔ 19مئی2022ء کو ارشد کیخلاف تین کیسز جبکہ اس سے اگلے روز یعنی 20مئی2022ء کو مزید تین کیسز درج کر دئے گئے تھے اور یہ سب کچھ درکار قانونی احتیاط کے بغیر کیاجارہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے خلاف زیادہ تر کیسز نجی افراد کی جانب سے درج کرائے گئے تھے اور لگ بھگ تمام ایف آئی آرز کے مندرجات ایک جیسے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف آرمی چیف جنرل باجوہ اورپاک فوج کیخلاف جھوٹے پراپیگنڈے میں ملوث تھا۔

آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا الزام
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کیخلاف ایف آئی آر درج کرانیوالے جو دو افراد ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے ان میں سے ایک کراچی کے میمن گوٹھ تھانے کا ایس ایچ او ملک محمد عتیق الرحمان تھا۔ عتیق الرحمان نے 29نومبر2022ء کو ٹیم کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرایاتھا۔ رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او عتیق الرحمان کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو بتایا گیا کہ انہیں ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے کال کرکے کراچی میں آئی ایس آئی دفتر پہنچنے کا حکم دیا تھا۔

Statement of SHO PS Memon Goth Karachi.

ایس ایچ او عتیق الرحمان کے مطابق جب وہ عرفان بہادرکے حکم پر آئی ایس آئی آفس پہنچے تووہاں تین افسران موجود تھے۔ ایس ایچ او سے کہا گیا کہ ارشدشریف،عمادیوسف و دیگر افراد کیخلاف کیس درج کیا جائے۔ایس ایچ او عتیق الرحمان کے مطابق آئی ایس آئی آفس میں انہیں کہا گیا کہ ارشد شریف،عمادیوسف اور شہبازگل نے اے آروائی پر پروگرام کیاتھاجس میں انکی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کے نچلے افسران کو اشتعال دلایاگیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی دفتر میں موجود افسران نے ان افراد کے نام بتائے جنہیں ایف آئی آر میں نامزدکرنا تھا۔عتیق الرحمان کی جانب سے ٹیم کو مزید بتایا گیا کہ عمادیوسف کو آئی ایس آئی افسران نے گرفتار کیا تھا اورگرفتاری کے بعد انہیں میمن گوٹھ تھانے نہیں لایاگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟

ایس ایچ او عتیق الرحمان نے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کوریکارڈ کرائے گئے بیان میں مزید بتایا تھا کہ انہوں نے ایس ایس پی ملیرسے کہاتھا کہ کسی کے خلاف بغاوت کے کیس کے اندراج کیلئے حکومت کی اجازت درکار ہوتی ہے،جس پر ایس ایس پی نے جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ اجازت بعد میں لے لی جائے گی۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

One thought on “ارشد شریف کیخلاف ایف آئی آراندارج کا حکم آئی ایس آئی آفس سے جاری ہوا،رپورٹ میں انکشاف”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے