ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار،امریکی جاسوس کی کتاب سے انکشافات
امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس کی جانب سے لکھی جانیوالی کتاب’داکنٹریکٹر‘ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے اسکی رِہائی کو یقینی بنانے کیلئے مقتولین کے ورثاء کوحراست میں لیکراُن پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ دیت کی رقم قبول کرکے ریمنڈڈیوس کو معاف کردیں اوریوں مارچ2011ء میں پاکستانی جیل سے انکی رہائی ممکن ہوپائی تھی۔
یاد رہے ریمنڈڈیوس نے 27جنوری2011ء کو لاہور میں دو پاکستانیوں کو قتل کر دیا تھا۔ قتل کے بعد انکی مدد کیلئے آنیوالی امریکی قونصلیٹ کی گاڑی نے بھی ایک بے گناہ پاکستانی کو کچل کر موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ریمنڈڈیوس کی گرفتاری کے بعد جیل میں انہیں وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا جسے دیکھ کر ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے ایک پاکستانی کی بیوہ نے انصاف کی فراہمی کے عمل سے مایوس ہوکر خودکشی کرلی تھی۔یوں امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں چند روز میں چارگھر اجڑ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟
بعد میں اعلیٰ پاکستانی حکام اور اداروں نے مقتولین کے ورثاء سے بات چیت کرکے ریمنڈڈیوس کو دیت کی رقم کی ادائیگی کے بدلے معاف کروا کررِہا کروا دیا تھا۔ریمنڈڈیوس کی رہائی کیلئے مقتولین کے ورثاء کو زبردستی خون بہا کی جورقم دی گئی تھی وہ 23لاکھ چالیس ہزارڈالرز تھی۔ خواجہ آصف کے مطابق قاتل ریمنڈڈیوس کی رہائی کیلئے دیت کی یہ رقم بھی حکومتِ پاکستان نے ادا کی تھی۔
ریمنڈڈیوس نے اپنی رِہائی کے بعد لکھی جانیوالی کتاب’داکنٹریکٹر‘میں ان تمام کرداروں پرروشنی ڈالی تھی،جنہوں نے اسکی رِہائی کو یقینی بنانے کیلئے سرتوڑکوششیں کی تھیں۔ان کرداروں میں ایک کردار پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کا ہے۔
آئی ایس آئی بارے ریمنڈ ڈیوس کی کتاب سے انکشافات
ریمنڈ ڈیوس کے بقول انکی رہائی کیلئے مقتولین کے ورثاء کو خون بہا کی رقم قبول کروانے والوں میں جن افراد اوراداروں کا کردار اہم تھاان میں اس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری،نوازشریف،پاکستان کے امریکہ میں اس وقت کے سفیر حسین حقانی،عظمیٰ بخاری کے والد اورریمنڈ ڈیوس کے وکیل سید زاہد حسین بخاری اورپاک فوج شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
ریمنڈڈیوس نے اپنی رہائی کی ڈیل کو ’دیت ڈیل‘قراردیا اوراسے مذکورہ بالا افراداوراداروں کی مجموعی کاوش قرار دیا۔ ریمنڈ ڈیوس کے بقول جب اس کے ہاتھوں قتل ہونیوالے پاکستانی شہریوں کے ورثاء کو دیت کی رقم کی ادائیگی کے بدلے انہیں رِہا کرنے کا منصوبہ بن گیا تو اسے حتمی شکل دینے اوراسکی انجام دہی کا فریضہ آئی ایس آئی کو سونپ دیا گیا تھا۔
اس حوالے سے ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب’دا کنٹریکٹر‘ میں لکھا ہے کہ’اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا اس ڈیل کو کامیاب بنانے کیلئے پرعزم تھے۔داکنٹریکٹر کے مطابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل پاشانے مقتولین کے ورثاء کے وکیل اسد منظور بٹ کو بھی تبدیل کرایا تھا اور انکی جگہ راجا ارشاد کو لائے تھے جو آئی ایس آئی کے زیادہ ممنون تھے۔اسدمنظور بٹ دیت کی ڈیل کے خلاف تھے۔
ریمنڈڈیوس نے اپنی کتاب میں مزید لکھا ہے کہ اسدمنظوربٹ کو ہٹائے جانے کے باوجود وہ مقتولین کے ورثاء سے ملتے رہے اور انہیں دیت کی رقم قبول نہ کرنے پرزور دیتے رہے تھے۔
داکنٹریکٹرکے مطابق چونکہ دیت ڈیل کے عوض انکی رِہائی کے پلان کا تمام تر انحصارمقتولین کے 18ورثاء کی رضامندی پر تھا،اس لئے آئی ایس آئی کے ایجنٹس کی جانب سے مقتولین کے ورثاء پر دیت کی منظوری کیلئے جتنا ضروری تھا اتنا دباؤ ڈالا گیا۔ریمنڈ ڈیوس کے مطابق اپنے وکیل اسدمنظوربٹ کی سپورٹ کے باعث مقتولین کے بیشترورثاء نے دیت ڈیل کے تحت اسکی رِہائی کی مخالفت کی تھی۔ دیت ڈیل پلان کو قبول نہ کرنیوالوں میں مقتول محمد فہیم کا بھائی بھی شامل تھا۔

امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس نے اپنے بھائی کے قتل کے عوض دیت کی رقم قبول نہ کرنے کا اصرار کرنیوالے مقتول محمد فہیم کے بھائی کے گھر کی خستہ حالی کامذاق اڑاتے ہوئے’دا کنٹریکٹر‘ میں لکھا ہے کہ ’محمد فہیم کے بھائی کے خستہ حال گھر اسلام پسند سیاست دان آکر ان پر زور دیتے تھے کہ وہ دیت کی رقم کی بجائے انصاف مانگیں۔ ریمنڈڈیوس کے مطابق محمد فہیم کا بھائی کئی ہفتوں تک دیت کی رقم کے عوض اسکی رِہائی کی ڈیل پر رضامند نہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
کتاب کے مطابق واقعہ کے روزاسکی مدد کو آنے والی امریکی گاڑی کے نیچے آکر جاں بحق ہونیوالے پاکستانی شہری کے بھائی مشہودالرحمان بھی دیت ڈیل کو ماننے سے انکاری تھے۔ ریمنڈڈیوس کے بقول مشہودالرحمان نے کہا تھا کہ’میں پیسے نہیں لے سکتا۔یہ خاندان کی عزت کا سوال ہے۔ انصاف کیلئے کچھ ہونا چاہئے۔‘
آئی ایس آئی نے مقتولین کے ورثاء کو ’غائب‘کردیاتھا
’دا کنٹریکٹر‘ کے مطابق 14مارچ2011ء کو آئی ایس آئی حکام کو مداخلت کرکے مقتولین کے تمام ورثاء کو حراست میں لینا پڑا تاکہ انہیں ان اسلام پسندوں کی رسائی سے دور رکھا جائے جو انہیں خون بہا وصول نہ کرنے پر اکسا رہے تھے۔ ریمنڈڈیوس کے مطابق16مارچ2011ء کو ان کا ٹرائل تھا اور اس ٹرائل سے قبل مقتولین کے ورثاء کا سابق وکیل اسدمنظوربٹ ورثاء سے بذریعہ فون بھی رابطہ کرنے میں ناکام رہا۔امریکی جاسوس کے بقول مقتولین کے ورثاء کے ہمسائیوں نے تصدیق کی تھی کہ ورثاء غائب ہوچکے تھے۔
ریمنڈڈیوس کے مطابق 16مارچ2011ء کے ٹرائل سے قبل رات کو آئی ایس آئی کے ایجنٹس مقتولین کے ورثاء کو کوٹ لکھپت جیل لے گئے جہاں انہیں ’دیت ڈیل‘ منظور کرنے کا کہاگیا۔اگروہ امریکی جاسوس کو معاف کرنے پررضامند ہوگئے تو بدلہ میں انہیں بھاری رقم دی جائے گی اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو۔۔ریمنڈڈیوس کے بقول دیت ڈیل پر راضی نہ ہونے کے نتائج کو مقتولین کے ورثاء پر اگلی صبح کچھ یوں واضح کیا گیا کہ انہیں کمرہ عدالت سے باہر کئی گھنٹوں تک گن پوائنٹ پر رکھا گیا اورانہیں خبردارکیاگیا کہ اس بارے میڈیا کوکچھ نہیں بتانا۔

کتاب ’داکنٹریکٹر‘کے مطابق اسدمنظور بٹ صبح صبح عدالت پہنچے تو ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہوا۔ اسدمنظوربٹ نے اس بارے میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں کیس کی کارروائی میں شرکت نہیں کرنے دی گئی تھی اور انہیں اپنے سابقہ کلائنٹس تک رسائی نہیں دی گئی تھی۔بٹ کے مطابق انہیں اور انکے ساتھی کو چارگھنٹوں تک جبری حراست میں رکھا گیاتھا۔
یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل
ریمنڈڈیوس کے مطابق اسدمنظور بٹ کو انکے سابقہ کلائنٹس سے بات کرنے یا ملنے نہیں دیا گیا تھا۔ ریمنڈڈیوس کے مطابق دیت ڈیل کوزبردستی منظور کرنے پر مقتولین کے ورثاء کمرہ عدالت میں صدمے میں تھے۔اس حوالے سے انہوں نے ’داکنٹریکٹر‘میں لکھا ہے کہ’ایک ایسے وکیل(اسدمنظوربٹ) تک رسائی سے انکار جس نے ایک ماہ سے زائد عرصہ تک انکی راہنمائی کی تھی اورایسی ڈیل پرمجبور کئے جانے کے بعد،جس کیلئے ان میں سے بیشتر تیار نہیں تھے،کا صدمہ 16مارچ2011ء کو کمرہ عدالت میں انکے چہروں پر عیاں تھا۔کچھ خواتین کی آنکھوں میں آنسوتھے جبکہ کچھ سسکیاں لے لے کر رو رہی تھیں۔
داکنٹریکٹر میں مزیدلکھا گیا ہے کہ’کمرہ عدالت میں مقتولین کے ورثاء کے نئے وکیل راجا ارشاد نے جج کو ایک دستخط شدہ ڈاکومنٹ پیش کیا جس میں بتایاگیا تھا کہ مقتولین کے تمام18ورثاء ریمنڈڈیوس کو معاف کرنے اوردیت قبول کرنے پررضامند تھے۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
