سانحہ کارساز:بینظیربھٹو کے استقبالی جلوس پرحملے بارے اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ نے کیا انکشافات کئے تھے؟
ینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنیوالے اقوامِ متحدہ کمیشن کے سربراہ ہیرالڈومنیوزنے اپنی کتاب میں بینظیربھٹو کے استقبالی جلوس پر ہونیوالے 18اکتوبر2007ء کے دہشتگردانہ حملوں پر بھی لکھا ہے۔ اس حملے کے حوالے سے انہوں نے اپنی کتاب”گیٹنگ اَوے وِد مرڈر“ میں اہم انکشافات کئے ہیں۔
سانحہ کارساز
بینظیر بھٹو 27دسمبر2007ء کو راولپنڈی میں قاتلانہ حملے میں جان کی بازی ہار گئی تھیں۔ اس جان لیوا حملے سے قبل 18اکتوبر2007ء کو کراچی میں انکے استقبالی جلوس پرحملے ہوئے تھے جن میں لگ بھگ200ہلاکتیں ہوئی تھیں اورپانچ سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ کراچی میں بینظیر بھٹو کے جلوس پر یہ حملے کارساز کے مقام پر ہوئے تھے،اس لئے ان واقعات کو”سانحہ کارساز“ کے نام سے یادکیاجاتا ہے۔
بینظیر بھٹو کے قافلے پرہونیوالے دہشت گردی کے اس حملے کو 15برس سے زائد گزرچکے ہیں مگر آج تک سانحہ کارساز کے ماسٹرمائنڈ،ہینڈلرز اورحملہ کرنے والوں کی کھوج نہیں لگائی جا سکی۔دیگرسانحات کی مانند سانحہ کارسازکے حوالے سے اہم سوالات آج بھی جواب کے منتظر ہیں۔
اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن سربراہ نے سانحہ کارساز پر کیالکھاتھا؟
ہیرالڈومنیوز کا تعلق چلی سے ہے اور وہ اقوامِ متحدہ میں کلیدی عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بینظیربھٹو کی تحقیقات کرنیوالے اقوامِ متحدہ کمیشن کی سربراہی کی تھی۔ اس تحقیقاتی کمیشن نے بینظیربھٹو قتل کیس کی تحقیقات کے بعد سال2010ء میں تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائی۔ اس کے بعدکمیشن کے سربراہ ہیرالڈومنیوز نے اس قتل سے متعلق ”گیٹنگ اَوے وِد مرڈر “کے عنوان سے کتاب لکھی،جس میں اس قتل سے متعلق اہم انکشافات سے پردہ اٹھایاگیا ہے۔

ہیرالڈومنیوز نے اپنی کتاب کے آغاز میں طویل جلاوطنی کے بعد جنرل مشرف سے معاہدہ کے تحت بینظیربھٹو کی وطن واپسی کے اعلان اور اس اعلان سے جنرل کی ناراضی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”بینظیر بھٹو نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک تحریرلکھی جس میں کہا کہ انہوں نے طویل جلاوطنی کے بعد ملک واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ بینظیرنے جنرل مشرف سے اپنے ڈائیلاگ کو جسٹیفائی کیا اوراس امیدکااظہارکیاکہ وہ فوج سے استعفیٰ دیکر جمہوریت کو بحال کردیں گے۔انہوں نے18اکتوبر2007ء کے دن کو اپنی واپسی کا دن مقررکیا۔“
کمیشن سربراہ نے کتاب میں مزید لکھا کہ”اپنی اس تحریر میں بینظیر بھٹو نے مشرف کیلئے سخت الفاظ کا استعمال کیاتھا اورساتھ ہی پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں سے منسلک افراد سے خوف کا اظہارکیاتھا۔“
اس کے بعد ہیرالڈومنیوز نے بینظیربھٹو کی جلاوطن سے واپسی کے اس اعلان پر جنرل مشرف کے ردعمل سے متعلق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”جب بینظیر بھٹو نے اپنا اعلان کردیا تو مشرف غصے میں تھے۔جنرل مشرف کا ماننا تھا کہ بینظیربھٹو کے اس عمل سے اس معاہدہ کی مکمل خلاف ورزی ہوتی تھی،جس کے تحت بینظیر بھٹو نے انتخابات کے بعد ملک واپس لوٹنا تھا۔ جبکہ دوسری جانب بینظیر بھٹو بھی جنرل مشرف کے غصیلے ردعمل سے حیران تھیں کیونکہ انکا خیال تھا کہ اس معاملہ پر کوئی سخت معاہدہ نہیں کیاگیا تھا۔“

بینظیر بھٹو کی جلاوطنی سے واپسی کے اعلان اورنتیجہ میں فوجی سربراہ جنرل مشرف کے اشتعال کو بیان کرنے کے بعد ہیرالڈومنیوز نے بینظیر بھٹو کی18اکتوبر2007ء کو ملک واپسی،کراچی میں انکے بڑے استقبالی جلوس،سیکیورٹی کی راہ میں مشرف حکومت کی جانب سے ڈالی گئی رکاوٹوں اورسانحہ کارساز سے متعلق دیگر اہم حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟
ہیرالڈومنیوز نے کتاب میں لکھا ہے کہ”۔۔۔نوبرس کی جلاوطنی کے بعد بینظیربھٹوبالآخر18اکتوبر2007ء کو ملک واپس لوٹ رہی تھیں۔ ائیرپورٹ پر اور شاہراہ فیصل کے ساتھ بڑے مجمع نے ان کا استقبال کیا۔سپورٹرز کے ہجوم نے مزارِقائد،جہاں بینظیر بھٹو نے تقریر کرنا تھی، کی جانب رواں دواں انکے قافلے کی رفتار کو سست کردیا۔“

ہیرالڈومنیوز نے بینظیر بھٹو کے سیکیورٹی انتظامات میں جنرل مشرف حکومت کی جانب سے ڈالی گئی رکاوٹوں پر لکھا کہ”بینظیربھٹو کا ارادہ تھا کہ سڑک کنارے دھماکہ خیز آلات(آئی ای ڈیز) کو چلانے کیلئے استعمال ہونے والے سیل فون سگنلز کو روکنے کیلئے اپنے ذاتی جیمنگ سامان پر انحصارکیاجائے تاہم جنرل مشرف حکومت نے انہیں ایسے سامان کے استعمال کی اجازت نہ دی بلکہ اس کی بجائے انہیں یہ سروس فراہم کرنے کی پیشکش کی۔بلٹ پروف گاڑیوں کی آمد کو بھی رکاوٹوں کا سامنا کرناپڑا،اس لئے پیپلزپارٹی کو ٹرک بناناپڑا۔“
کتاب میں مزید بیان کیاگیا ہے کہ”جلوس نہایت سست روی سے چل رہاتھا اورکراچی میں رات ہوچکی تھی۔ اس سفر میں بینظیربھٹو نے ایک متجسس عمل دیکھا۔ جیسے ہی ٹرک اسٹریٹ کارنر زمیں پہنچتاتھا تو اسٹریٹ لائٹس ڈِم ہوتیں اورپھر بجھ جاتیں۔ ایک قابلِ بھروسہ ساتھی کو یوٹیلیٹی کمپنی ’کے ای ایس سی‘بھیجا گیا تاکہ وہ کمپنی کو لائٹیں آن کرنے پر قائل کر سکے لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی۔بینظیربھٹو کی پارٹی کے ساتھی اوردوست بے چینی کا شکارہوگئے کیونکہ نظرآرہا تھا کہ جیمنگ آلات کام نہیں کر رہے تھے۔ٹرک میں موجودلوگ اپنے سیل فونز سے کالز کر رہے تھے اورموصول بھی کر رہے تھے۔جنرل مشرف کی’قومی سلامتی کونسل‘کے مشیر سے جیمرز سے متعلق شکایت کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوگئی۔“

اس کے بعد ہیرالڈومنیوز نے بینظیر بھٹو کی جانب سے گھنٹوں پر محیط جلوس میں تھکاوٹ کے باعث آرام کیلئے ٹرک کے نچلے حصہ میں جانے اورساتھ ہی زورداردھماکوں سے متعلق لکھا ہے۔ جیسے ہی بینظیر بھٹو کا ٹرک کارسازفلائی اوورپُل کے قریب پہنچاتھا تو پہلا دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد ایک اوردھماکہ ہواجو پہلے سے کہیں زیادہ زوردارتھا۔ہیرالڈومنیوز کے مطابق اس دھماکہ میں 149ہلاکتیں ہوئیں اور402افراد زخمی ہوگئے۔ جبکہ بینظیربھٹو کی زندگی کو بچانے کیلئے انہیں ٹرک سے نکال کر پچھلی گلیوں سے بلاول ہاؤس پہنچایاگیا۔

ہیرالڈومنیوز نے بتایاہے کہ بینظیربھٹو اس حملے کا ذمہ دارفوج اور انٹیلی جنس سروسز میں ”دھڑوں“ کو سمجھتی تھیں۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ”بینظیربھٹونے فوج اور انٹیلی جنس سروسز کے دھڑوں پر الزام لگایا کہ وہ اس قتل کی سازش میں ملوث تھے۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
