اکلوتازندہ بیٹا دبئی پہنچا تو مطمئن ہوگئی مگر پاکستانی حکومت نے اسے دبئی سے بھی نکلوادیا،ارشد شریف کی والدہ کا چیف جسٹس کے نام خط
کینیا میں قتل ہونیوالے سینئرصحافی ارشدشریف کی والدہ رفعت آراء علوی نے 2نومبر2022ء کو چیف جسٹس آف پاکستان کے نام دردبھرا خط لکھ کر انصاف مانگا ہے اور چیف جسٹس سے اس کیس کا نوٹس لینے کی التجاء کی ہے۔
شہید کی والدہ کے خط کا مکمل متن
ارشد شریف کی والدہ نے چیف جسٹس عمرعطابندیال کے نام جو خط لکھا ہے،اس کا مکمل متن کچھ یوں ہے:۔
بنام،معزز چیف جسٹس پاکستان،جسٹس عمرعطابندیال صاحب
”میں،شہیدصحافی ارشدشریف کی والدہ،آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ کینیا میں 23اکتوبر2022ء کو ہونیوالے میرے بیٹے کے ظالمانہ اوربے رحمانہ قتل پر موجودہ حکومت کی اپروچ اور رویے کا فوری نوٹس لیں تاکہ مجھے،ارشد کی بیوہ اور پانچ یتیم بچوں کو انصاف مل سکے۔ہم انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔“

میرے شہید بیٹے ارشدشریف نے اپنی زندگی میں 12جولائی2022ء کو آپ کو خط لکھا تاکہ آپ کے نوٹس میں اپنی زندگی کو درپیش خطرات اور موجودہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں بغاوت اور دیگر الزامات کی بنیاد پر اپنے خلاف درج شدہ کئی کرمنل کیسز کولایا جاسکے۔ اس سب کی بنیاد پر میرے شہید بیٹے کو 10اگست2022ء کو ملک چھوڑکردبئی میں پناہ لینا پڑی۔
یہ بھی پڑھیں:ارشدشریف نے زندگی کو خطرات بارے ساڑھے تین ماہ قبل فوجی قیادت کو آگاہ کر دیاتھا
جب میرا بیٹا دبئی پہنچ گیا تو میں مطمئن تھی اورمیری پریشانی کم ہوگئی کیونکہ میں نے سوچا کہ میرے اکلوتے زندہ رہ جانیوالے بیٹے کی زندگی اب خطرے سے باہر تھی اوراب وہ بغاوت کے جھوٹے اورفضول کیسز سے محفوظ تھا تاہم پاکستانی حکومت نے میرے بیٹے کو نکالنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی حکومت پردباؤ ڈالا اور اسے مجبور کردیا جس کے نتیجے میں میرا بیٹا فوری کینیاچلا گیا۔ اور دو ماہ بعد اسے کینیا میں بے رحمی سے قتل کر دیاگیا۔
اس کیس کی اصل وجوہات کو چھپایا جارہا ہے،جنہیں درج ذیل کے تناظر میں سامنے لایا جانا چاہئے:۔
ایک۔ کینیا کی پولیس نے تین سے چار دفعہ اپنے مؤقف اوربیانات میں تبدیلی کی ہے۔
دو۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے 28اکتوبر2022ء کوکینیا روانگی سے قبل وفاقی وزراء نے میرے شہیدبیٹے کی وفات سے متعلق مختلف من گھڑت کہانیاں بیان کرنا شروع کردیں،جو کہ میڈیا کے ریکارڈ پر دستیاب ہیں۔
تین۔وزیراعظم نے اپنے بیان میں اعلان کیاتھا کہ اعلیٰ اختیارکے حامل عدالتی کمیشن کی تشکیل کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا جائے گاتاہم بدقسمتی سے اپنے اس بیان کے برعکس ایک ریٹائرڈ جج عبدالشکورپراچہ اور دو وفاقی حکام کو کمیشن کے ارکان بنایا گیا ہے،جس سے حکومت کی بدنیتی ظاہرہوتی ہے۔
میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے شہید بیٹے کے قتل کیس کو متنازع ہونے سے بچائیں اورپاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت سے شہیدارشدشریف کو انصاف فراہم کریں۔میں آپ سے یہ درخواست بھی کرتی ہوں کہ قانون کے مطابق ایکشن لیں اوراعلیٰ اختیارکا حامل عدالتی کمیشن تعینات کریں تاکہ شہید کے خاندان کے افراد اورصحافی کمیونٹی میں موجودعدم تحفظ کے احساسات کا مداوا ہو۔
میرے بیٹے کے قتل کیس کو بددیانتی اورسیاسی منافقت کا کیس بننے سے بچائیں۔ پاکستان کے چیف جسٹس کی حیثیت سے میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اس بے رحمانہ قتل کا نوٹس لیں اورسپریم کورٹ کے سینئرججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن تشکیل دیں تاکہ وہ اس گھناؤنے قتل کے پسِ پردہ اصل مقصد کاتعین کرے اور اس جرم میں ملوث افرادکی شناخت ہوسکے۔قتل کے پسِ پردہ اصل مقصد اورمجرمان کا تعین اورانہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے سے ہی شہید کے خاندان اور صحافی برادری کی اذیت کا خاتمہ ہوگا۔ بصورت دیگر میں اپنا کیس اللہ تعالیٰ کے سپردکرتی ہوں اور اس کے انصاف کی منتظرہوں۔

مجھے امید ہے کہ اس کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر میرے خط کودرکار توجہ ملے گی اور اسے میرے شہید بیٹے کے اُس خط کی مانند نظرانداز نہیں کیاجائے گا،جو اس نے اپنی زندگی کو درپیش خطرات سے حکام کو مطع کرنے کیلئے لکھاتھا۔ یہ میرا پہلا اورآخری خط ہے،جس میں،میں قانون کے مطابق انصاف کی التجا کرتی ہوں۔“
ایک غمگین اوردردمیں مبتلاء ماں
رفعت آراء علوی

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
