زرداری کی جانب سے بینظیربھٹو کے پلاٹ پر قبضے کا ہوشربا اسیکنڈل
دستاویزات کے مطابق آصف علی زرداری نے مبینہ طور پر اپنے فرنٹ مین اورفرنٹ کمپنی کے ذریعے کراچی میں اپنی ہی اہلیہ بینظیربھٹو کے مہنگے ترین پلاٹ پر قبضہ کرلیاتھا اور بعد میں بینظیر بھٹو کی وفات کے بعد کراچی کے علاقے کلفٹن میں موجود اس پلاٹ کو 95کروڑ روپے میں فروخت کردیاتھا۔
اس میگا اسکینڈل کا انکشاف سال2018ء میں سپریم کورٹ کی جانب سے زرداری و دیگرملزمان کے مبینہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی رپورٹ میں ہواتھا۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب بینظیربھٹو کی وفات کوگیارہ برس سے زائد کا عرصہ ہوچکا تھا۔بینظیربھٹو زندہ ہوتیں تو انہیں بھی معلوم ہوجاتا کہ کراچی میں 1998ء میں انکے مہنگے ترین پلاٹ پر قبضہ کرنے والا کون تھا۔
پلاٹ پر قبضے کی کہانی
جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ میں اربوں مالیت کی منی لانڈرنگ کے شواہد کو سامنے لایاگیا تھا اوران شواہد کی بنیاد پر نیب جولائی2021ء تک جعلی اکاؤنٹس کیس ملزمان سے 33ارب روپے کی بھاری رقم وصول بھی کر چکی ہے۔جعلی اکاؤنٹس کیس کا مرکزی ملزم آصف علی زرداری اورانکا خاندان ہے،جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے مبینہ فرنٹ مینوں اورفرنٹ کمپنیوں کی مدد سے اربوں کی رشوت وصول کی۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ میں شواہد کا انبار موجود ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں جہاں کئی چونکا دینے والے انکشافات کئے گئے وہاں ایک لرزہ خیز انکشاف یہ بھی تھا کہ آصف علی زرداری نے سال1998ء میں اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے کراچی میں موجود بینظیر بھٹو کے ایک مہنگے پلاٹ پر قبضہ کرلیا تھا اور بعد میں سال2008ء میں حکومت میں آنے کے بعد اس پلاٹ کو رہائشی سے کمرشل کروایا اور ساتھ ہی اس کے رقبے میں اضافہ کروالیا۔ سال2013ء میں اسے منی لانڈرنگ کیلئے استعمال ہونے والے بینک کے مالک کو 95کروڑ مالیت میں فروخت کر دیا۔
جے آئی ٹی کے سامنے یہ انکشاف اس وقت ہوا جب وہ منی لانڈرنگ میں استعمال ہونیوالے ایک بنک(سمٹ بنک)کے معاملات کی چھان بین کر رہی تھی۔
دستاویزات میں کیاکہاگیا ہے؟
جے آئی ٹی کی جانب سے رپورٹ کی شکل میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات اورشواہد کے مطابق ”سمٹ بینک کا ہیڈکوارٹر جس ٹاور میں ہے،اسے بخت ٹاورکہاجاتا ہے جو کلفٹن کراچی میں ایک پلاٹ پر موجود ہے،جسے ”جی ٹو پلاٹ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔کراچی،کلفٹن میں واقع اس ”جی ٹو پلاٹ“ کی تاریخ یہ ہے کہ یہ 3832 اسکوائریارڈ رقبے پر محیط ایک رہائشی پلاٹ تھا،جسے شبنم بھٹو اوررخسانہ بھٹو نامی خواتین نے 1980ء میں سمیاایازالدین سے خریداتھا،جس کے بعد 16ستمبر1980ء کو یہ پلاٹ شبنم بھٹو اور رخسانہ بھٹو کے نام منتقل ہوگیا تھا۔“
یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل
بعد میں سال1998ء میں اس پلاٹ کو شبنم بھٹو اوررخسانہ بھٹو سے بینظیربھٹو نے خریدلیا اور اسے اپنے نام منتقل کرانے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ”۔۔بینظیربھٹو نے 24مارچ1998ء کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے اس پلاٹ کو اپنے اوربھٹو خاندان کے فردکے نام کرانے کیلئے ’کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی(کے ڈی اے)کودرخواست کی۔چھ ماہ گزرجانے کے بعد کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے 25ستمبر1998ء کو بینظیر بھٹو کو ایک خط لکھا گیا،جس میں انہیں مطلع کیا گیا کہ ’سید حسین فیصل شاہ‘نامی ایک شخص نے شبنم بھٹو اوررُخسانہ بھٹو کے ساتھ کئے گئے سیل معاہدہ کی بنیاد پر ’جی ٹوپلاٹ‘ کے ٹرانسفر کیلئے اپلائی کر رکھا ہے۔“

جے آئی ٹی دستاویزات کے مطابق خواجہ انورمجید(زرداری کے مبینہ فرنٹ مین) سیدحسین فیصل شاہ نامی شخص کے اٹارنی کا کردارادا کر رہے تھے اورانہوں نے ہی اس پلاٹ کے ٹرانسفر کیلئے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے خط و کتابت کی اوریکم فروری2002ء کو پلاٹ کا ٹرانسفرہوگیا۔(یعنی پلاٹ کو زرداری کے مبینہ فرنٹ مین انورمجید نے اپنے فرنٹ مین سید حسین فیصل کے نام کرالیا۔)

اس کے بعد جے آئی ٹی دستاویزات میں مزید بتایاگیا ہے کہ”پچیس اپریل2002ء کو یہ پلاٹ ’ریجنٹ سروسزپرائیویٹ لمیٹڈ“ نامی کمپنی(زرداری کی مبینہ فرنٹ کمپنی) کے نام ٹرانسفرکردیاگیا۔یہ کمپنی اس ٹرانسفر کے عمل سے صرف دوروز قبل یعنی 23اپریل2002ء کو بنائی گئی تھی اور اس کے ڈائریکٹرز میں سیدحسین فیصل شاہ،خواجہ عبدالغنی مجیداورخواجہ مصطفی ذوالقرنین مجید شامل تھے۔اس کے بعد19اکتوبر2002ء کو کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ’جی ٹوپلاٹ‘ کی لیز کو ’ریجنٹ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ‘ نامی کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ کردیاگیا۔“
دستاویزات میں مزید انکشاف کیاگیا ہے کہ”ناقابلِ وضاحت انداز میں 12نومبر2008ء کو(پیپلزپارٹی حکومت کے دوران)’جی ٹو پلاٹ‘ کے ایریا کو 3832اسکوائریارڈز سے بڑھا کر 4ہزاراسکوائریارڈزکردیاگیا۔“
دستاویزات کے مطابق’26نومبر2008ء کو ’ریجنٹ سروسزپرائیویٹ لمیٹڈ‘نامی کمپنی کو ’جی ٹوپلاٹ‘ کو رہائشی سے کمرشل دکانیں،فلیٹ،دفاتراور شوروم کیلئے استعمال کرنے کا ”این او سی“ دے دیاگیا۔‘
زرداری کی واردات کیسے پکڑی گئی؟
جے آئی ٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران ’سید حسین فیصل شاہ‘ نے’جی ٹوپلاٹ‘کی خریداری سے انکارکردیا۔ان کی جانب سے جے آئی ٹی کو بتایاگیا کہ اس وقت وہ طالب علم تھے جب ان کے انکل غلام قادر،جوکہ اس وقت پی آئی اے میں ڈائریکٹرتھے،کی جانب سے انہیں کہاگیا کہ ’انورمجیدکے گھر جاکرکچھ کاغذات پر دستخط کرآؤ۔‘

دستاویزات کے مطابق ’جب غلام قادر سے اس بارے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہیں آصف علی زرداری کے وکیل ابوبکرزرداری کی جانب سے کہاگیاتھا کہ فرنٹ مین کے طور پر کاروباری کمپنی کے قیام کیلئے کچھ کاغذات پر دستخط کیلئے کسی قابلِ بھروسہ شخص کو بھیجیں۔“
دستاویزات میں مزید کہاگیا ہے کہ”جی ٹوپلاٹ کے فرنٹ مالک سیدحسین فیصل شاہ کی ’پاورآف اٹارنی‘ انورمجید(زرداری کے فرنٹ مین)کے پاس تھی اوربعد میں اس پلاٹ کو ایک کمپنی’ریجنٹ سروسزپرائیویٹ لمیٹڈ“ کے نام کر دیاگیا۔“

جے آئی ٹی دستاویزات میں مزید کہاگیا ہے کہ’اس سے ظاہرہوتا ہے کہ انورمجید کے ذریعے بینیفیشل اونرآصف علی زرداری تھے۔28جون2013ء کو سمٹ بینک اور ریجنٹ سروسز لمیٹڈنامی کمپنی نے95کروڑ روپے میں ’جی ٹوپلاٹ‘ کی خریدوفروخت کا معاہدہ کرلیا۔“
پلاٹ کے فرنٹ خریدار کا اعترافی بیان
بینظیربھٹو کے پلاٹ کو زرداری کے مبینہ فرنٹ مین انورمجید نے جس فرنٹ شخص (سیدحسین فیصل شاہ)کے ذریعے قبضے میں لیا،اس کا اعترافی بیان 2020ء میں پاکستانی میڈیا میں شائع ہوچکا ہے۔
سماء نیوز نے 30اپریل2020ء کو اس سے متعلق خبرلگائی تھی کہ”زرداری کیخلاف جی ٹوپلاٹ کیس میں سید حسین فیصل شاہ وعدہ معاف گواہ بننے پر راضی ہوچکے ہیں۔“
اس رپورٹ میں سماء نیوز نے بتایا تھا کہ سید حسین فیصل شاہ نے نیب کے سامنے بیان ریکارڈکرایااورجی ٹوپلاٹ پر بخت ٹاور کی تعمیر سے متعلق انکشافات کئے تھے۔“
سماء نیوز کی اس رپورٹ میں کہاگیاتھا کہ”سیدحسین فیصل شاہ کی جانب سے کہاگیا کہ سال1998ء میں بینظیربھٹو نے جی ٹوپلاٹ رخسانہ بھٹو اورشبنم بھٹو سے خریدااوروہ اسے اپنے نام کرانا چاہتی تھیں۔اس مقصد کیلئے بینظیربھٹونے کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو خط لکھا کہ پلاٹ کو انکے نام ٹرانسفرکیاجائے۔“
سید حسین فیصل کے مطابق انورمجید نے ان سے زبردستی ایک ڈاکومنٹ پر دستخط کروائے،جس میں کہاگیاتھا کہ اس نے شبنم بھٹو سے یہ پلاٹ خریداتھا۔سید حسین فیصل کے مطابق وہ توشبنم بھٹو سے ملے بھی نہیں تھے۔“
سید حسین فیصل کے مطابق”بعد میں اس پلاٹ کو زرداری کی بے نامی جائیداد’ریجنٹ سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ‘ نامی کمپنی کے نام ٹرانسفرکردیاگیااور اس کے بعد اسے حسین لوائی کو فروخت کر دیاگیا۔حسین لوائی نے اس پلاٹ کیلئے ریجنٹ سروسز لمیٹڈ کو95کروڑ کی ادائیگی کی۔ لوائی نے اپنے بینک کیلئے یہ پلاٹ خریداتھا۔“
جعلی اکاؤنٹس کیس جے آئی ٹی ممبران
سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل شدہ اس جے آئی ٹی میں شامل ممبران اور انکے اُس وقت کے عہدوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
احسان صادق،ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے
بریگیڈیئرشاہد پرویز،آئی ایس آئی
محمد افضل،ایس ای سی پی
نعمان اسلم،نیب
عمران لطیف،ایف بی آر
ماجد حسین،اسٹیٹ بنک آف پاکستان

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

السلام و علیکم ۔۔۔میں نے آ ج پہلی مرتبہ یہ خبریں پڑھیں ۔۔زبردست کام کر رھے ہیں آ پ لوگ
وعلیکم السلام
بہت شکریہ پرویز بھائی۔۔