جمعرات, اکتوبر 29, 2026
اسکینڈلز

حیدرآباد فنڈکیس۔۔۔46.2ملین پاؤنڈز کا نیا میگا اسکینڈل سامنے آگیا

Share

اٹھارہ مئی2023ء کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں 46.23ملین پاؤنڈز(جوکہ پاؤنڈ کی موجودہ مالیت کے لحاظ سے ساڑھے16ارب روپے بنتے ہیں) لینڈ کر گیا ہے۔ اس اسکینڈل کا انکشاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ڈائریکٹوریٹ آف آڈٹ (فارن اینڈ انٹرنیشنل) اسلام آباد آفس کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردہ دستاویزات میں کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق حیدرآباد فنڈ کیس میں برطانوی ہائی کورٹ کے پاکستان کے خلاف فیصلہ کی وجہ سے پاکستان 35ملین پاؤنڈز ہارا جبکہ کیس کو مِس ہینڈل کرنے کے باعث حکومتِ پاکستان کو 11.23ملین پاؤنڈز کا نقصان ہوا۔ پاکستان کو ہونیوالے ان دونوں نقصان کی مالیت3 46.2ملین پاؤنڈز بنتی ہے۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ ساڑھے16ارب روپے بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیر بھٹو کے پلاٹ پر قبضے کا اسکینڈل

کیس کا بیک گراؤنڈ
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد فنڈز کیس کا تعلق سال1948ء سے ہے۔1948ء میں بھارت میں موجود ریاست حیدرآباد کے کے آخری نظام میرعثمان علی خان نے اس وقت پاکستان کے ہائی کمشنر حبیب ابراہیم رحمت اللہ کے برطانوی اکاؤنٹ میں ایک ملین پاؤنڈ(10لاکھ پاؤنڈز) جمع کروائے تھے۔یہ فنڈز نظام نے اس وقت جمع کرائے تھے جب حیدرآباد ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔سال2013ء تک یہ فنڈ انٹرسٹ جمع ہونے کے باعث بڑھ کر 35ملین پاؤنڈز ہوچکا تھا۔

فنڈز کے حصول کیلئے قانونی جنگ
اس فنڈ کے حصول کیلئے حیدرآباد کے نظام اور بھارت کی جانب سے قانونی جنگ 1950ء کی دہائی میں ہی شروع ہوگئی تھی۔مگر برطانیہ کی جانب سے اس فنڈز پر پاکسان کا حق تسلیم کیاجاتا رہا۔

پچاس کی دہائی میں حیدرآباد ریاست کے نظام میرعثمان علی خان کی جانب سے فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ جو فنڈز پاکستانی ہائی کمشنر کے اکاؤنٹ میں 1948ء میں منتقل کئے گئے تھے انہیں انکی اجازت کے بغیر منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم برطانوی بینک پاکستان کی رضامندی کے بغیر فنڈز کی واپسی پر تیار نہ ہوا کیونکہ فنڈ کا قانونی حقدار پاکستان تھا۔یہ کیس ہاؤس آف لارڈز تک جا پہنچاجس کی جانب سے یہ قراردیا گیا کہ کیس کوپاکستان کی جانب سے دعویٰ شدہ ساورن immunityکے باعث نہیں نمٹایا جا سکتا۔ساورن امینوٹی کا مطلب تھا کہ پاکستان کو اس کی رضامندی کے بغیر sueنہیں کیا جا سکتاتھا۔

سال2013ء میں اس وقت کے پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے پاکستان کی ساورن امیونٹی ختم کر دی۔ انہوں نے اس فنڈ میں بینیفیشل انٹرسٹ کا دعویٰ کر دیا۔ اس طرح سے جو چیز بھارت اور نظام کی راہ میں ہموار تھی اسے رستے سے ہٹا دیا گیا۔ جس سے بھارت کو کیس پر پیش رفت کا موقع مل گیا۔آڈٹ دستاویزات کے مطابق واجد شمس الحسن نے وزارتِ خارجہ کی پیشگی منظوری اور رضامندی کے بغیر یہ قدم اٹھایا تھا۔

اسکے کئی ماہ بعد پاکستان نے اس کارروائی کی واپسی کیلئے درخواست دائر کی مگر عدالت نے اس درخواست کو مسترد کردیااور نظام کے وارثوں اور بھارت کو نوٹس جا ری کرکے پاکستان کے دعویٰ سے آگاہ کر دیا۔

بھارت اور حیدرآباد ریاست کے نظام کے وارثین میں فنڈز کے حصول کی صورت میں اسے آپس میں تقسیم کرنے سے متعلق ڈیل ہوچکی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈڈیوس کی پاکستانی جیل سے امریکہ روانگی کی تفصیلی کہانی

بھارت اور نظام کا دعویٰ تھا کہ ان فنڈز کی بینفیشل اونرشپ ریاست کے نظام میرعثمان علی خان کے پاس تھی اور یہ کہ اس فنڈ کو انکے اور انکے وارثوں کے فائدے کیلئے رکھا گیا تھا۔(اس دعویٰ کو بعدازاں برطانوی عدالت نے درست مانا)۔اس لئے انکا دعویٰ تھا کہ یہ فنڈان کا تھا۔

پاکستان کا دعویٰ تھا کہ نظام نے یہ فنڈپاکستان سے ہتھیاروں کی خریداری کے عوض پاکستان کو دیا تھا۔ یہ ہتھیار حیدرآباد ریاست نے تب خریدے تھے جب بھارت زبردستی حیدرآباد ریاست کاالحاق کر رہی تھی۔حیدرآباد کو بھارت کے خلاف مزاحمت کیلئے یہ ہتھیار دئے گئے تھے۔پاکستان کا دعویٰ تھا کہ اس لئے یہ فنڈ پاکستان کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کا وہ ایک شاہی حکم جو پی آئی اے کو320کروڑ میں پڑا

مارچ2015ء میں برطانوی عدالت نے پاکستان کیخلاف فیصلہ دیا اور حکم دیا کہ بھارت اور حیدرآباد کے نظام کے وارثوں کو لیگل لاگت کی مد میں 4لاکھ پاؤنڈز ادا کئے جائیں۔ اکتوبر2019ء میں پاکستان یہ کیس مکمل طورپرہار گیا۔ برطانوی عدالت نے پاکستان کو حکم دے دیا کہ 35ملین پاؤنڈز کا فنڈحیدرآباد کے نظام کو دیا جائے۔

نقصانات کی تفصیل
آڈٹ حکام کی دستاویزات کے مطابق برطانیہ میں حیدرآباد فنڈز کیس میں پاکستان کو ہونیوالے نقصانات کی تفصیل کچھ یوں ہے

کیس کی رقم جو بھارت ا ور نظام کے وارثوں کے پاس چلی گئی۔۔۔35ملین پاؤنڈز
بھارت اور نظام حیدرآباد کے وارثوں کو لیگل کاسٹ کی ادائیگیاں۔۔۔5.8ملین پاؤنڈز
کیس کے دفاع کیلئے وکلاء کو فیس کی ادائیگی۔۔۔۔۔5.32ملین پاؤنڈز
دیگر نقصان۔۔۔۔232,395پاؤنڈز
کل نقصان۔۔۔۔۔۔۔46.23ملین پاؤنڈز

آڈٹ اعتراضات
آڈٹ حکام کی جانب سے اس کیس کے آڈٹ میں درج ذیل بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ایک۔سال2013ء میں برطانیہ میں پاکستان کے اس وقت کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کے فنڈز کے لئے غیردانشمندانہ (injudicious)دعویٰ سے حکومتِ پاکستان کو 11ملین پاؤنڈز کا نقصان ہوا۔ (5.8ملین عدالت کی جانب سے لیگل کاسٹ کی مد میں جرمانہ جبکہ کیس کے دفاع کیلئے لیگل فرمز کو 5.23ملین پاؤنڈز کی ادائیگی کی مد میں)

دو۔5.8ملین پاؤنڈز کی رقم بے قاعدہ انداز میں ادا کی گئی

تین۔ بھارتی حکومت اس کیس میں آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کیلئے تیار تھی مگر پاکستانی مشن نے اس آپشن سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

چار۔وکلاء اور قانونی فرم کی سلیکشن کے معیار کو آڈٹ کیلئے پیش ہی نہیں کیا گیا

اسکینڈل کا مرکزی کردار
آڈیٹر جنرل حکام کی دستاویزات کے مطابق پاکستان کو یہ بھاری نقصان پہنچانے والے مرکزی کردار کا نام واجد شمس الحسن ہے۔ واجد شمس الحسن کے بیٹے کا نام زرداری خاندان کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جعلی اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف نے پاکستان کو لندن کے ایک ہوٹل سے چلانے پر 3لاکھ28ہزارڈالرزخرچ کئے

اس کے علاوہ واجد شمس الحسن نے سال2009ء میں بطور ہائی کمشنراس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس کیسز کا ریکارڈغائب کیا تھا اور اس پورے اسکینڈل کو جنگ جیو گروپ نے نشر کیا تھا۔جنگ جیو گروپ نے اسے خفیہ آریشن کا نام دیا تھا۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے