اتوار, نومبر 1, 2026
پارلیمنٹ

سپریم کورٹ رِیویو آف ججمنٹس اینڈآرڈرز ایکٹ2023ء میں کیا ہے؟

Share

سپریم کورٹ رِیویوآف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ2023ء کوصدر کی جانب سے 26مئی2023ء کو توثیق ملی جبکہ اسے 29مئی2023ء کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے کل7سیکشن ہیں، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

سیکشن1
سیکشن ایک میں بتایا گیا ہے کہ اس ایکٹ کا نام”سپریم کورٹ رِیویوآف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ2023ء“ ہوگا اور یہ فوری طور پر مؤثر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

سیکشن 2
ایکٹ کے سیکشن 2میں کہاگیا ہے کہ”سپریم کورٹ کی جانب سے اوریجنل دائرہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل184کے تحت جاری شدہ فیصلوں اورحکم ناموں کی صورت میں ’حقائق اورقانون دونوں پر نظرثانی کا اسکوپ ویساہی ہوگا، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل185کے تحت اپیل کا ہوتا ہے۔“

سیکشن3
ایکٹ کے سیکشن 3میں کہاگیا ہے کہ”نظرثانی کی درخواست کی سماعت کرنیوالا بینچ’اوریجنل‘فیصلہ یا حکم نامہ جاری کرنیوالے بینچ کی نسبت لارجرہوگا۔“

سیکشن 4
سیکشن 4میں کہاگیا ہے کہ”نظرثانی دائرکرنیوالے درخواست گزار کو نظرثانی درخواست کیلئے اپنی مرضی کا سپریم کورٹ کا کوئی بھی وکیل تعینات کرنے کا حق ہوگا۔“

سیکشن5
سیکشن 5میں کہاگیا ہے کہ”اس متاثرہ فرد کو بھی نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا حق ہوگا،جس کے خلاف اس ایکٹ کے آغاز سے قبل آئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت حکم نامہ جاری کیا جا چکا ہو۔(تاہم)شرط یہ ہے کہ سیکشن 5کے تحت نظرثانی کی درخواست اس ایکٹ کے آغاز کے60روز کے اندر دائر کی جائے گی۔“

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل

سیکشن6
ایکٹ کے سیکشن 6میں کہاگیا ہے کہ”اوریجنل حکم نامہ کے اجراء کے60روز کے اندرنظرثانی درخواست دائر کی جاسکے گی۔“

سیکشن7
سیکشن 7میں کہاگیا ہے کہ”کسی بھی اور قانون،رُولزیاریگولیشنز، جو مؤثر ہوں یا کسی بھی عدالت بشمول ہائی کورٹ یاسپریم کورٹ کے فیصلے کے،اس ایکٹ کی شقیں مؤثر ہونگی۔“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے