حکومت کے آئینی ترمیمی پیکج کے اہم نکات!
حکومتی آئینی ترمیمی پیکج کے لیک شدہ مسودے کے مطابق پیکج کو”آئین کا26واں ترمیمی ایکٹ2024ء“ کا نام دیا گیا ہے۔ پیکج کے تحت آئین کے 50 سے زائد آرٹیکلز میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ان میں سے چند اہم کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
آئین کے آرٹیکل17 میں مجوزہ ترمیم کے تحت سیاسی جماعت پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیارنئی وفاقی آئینی عدالت(Federal Constitutional Court) کو دیا گیا ہے۔اس مجوزہ ترمیم کو حکومت کی جانب سے چند ہفتے قبل پی ٹی آئی پر پابندی کے اعلان کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
آرٹیکل63 اے میں مجوزہ ترمیم سے پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے برخلاف ووٹ ڈالنے والے منحرف رکن کا ووٹ شمار کرنے کا کہا گیا ہے اور منحرف اراکین کی رکنیت سے متعلق حتمی فیصلہ کا اختیار سپریم کورٹ سے نئی وفاقی آئینی عدالت(Federal Constitutional Court) کو دینے کا کہا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے اربوں کے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم
آرٹیکل175اے میں مجوزہ ترمیم سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کی ساخت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ کمیشن کی سربراہی وفاقی آئینی عدالت کو دینے کے ساتھ ساتھ اس میں چار اراکین پارلیمنٹ(دو سینیٹرز،دو ایم این ایز) کو شامل کرنے کا کہا گیا ہے
آرٹیکل175اے میں مجوزہ ترمیم کے تحت”وفاقی آئینی عدالت“ کا چیف جسٹس اس عدالت کے تین سینئر ترین ججوں میں سے ایک لگے گا۔قومی اسمبلی کی کمیٹی وفاقی آئینی عدالت کے تین سینئر ترین ججوں میں سے ایک کو نامز د کرکے وزیراعظم کو بھیجے گی
آرٹیکل175اے میں مجوزہ ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر تین سینئرترین ججوں میں سے ہوگا۔ چیف جسٹس کے تقرر کی سفارش قومی اسمبلی کی 8رکنی کمیٹی کرے گی۔قومی اسمبلی کی کمیٹی وزیراعظم کو ایک نام بھیجے گی۔ وزیراعظم وہ نام بطور چیف جسٹس تعیناتی کیلئے صدر کو ارسال کرینگے۔
یہ بھی پڑھیں: اغواء اور بدترین تشدد کے بعد رانا ثناء اللہ کی خطرناک تقریر کی کہانی
آرٹیکل175اے کے بعد نئے آرٹیکل175بی کے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مجوزہ آرٹیکل سے ملک میں ”وفاقی آئینی عدالت“قائم ہوجائے گی۔
آئین کے آرٹیکل177میں مجوزہ ترمیم سے دہری شہریت کے حامل افراد کی بطور جج سپریم کورٹ تعیناتی پر قدغن لگائی گئی ہے۔
آئین میں نئے آرٹیکل178اے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل میں وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر68برس مقرر کی گئی ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت تین برس مقر ر کی گئی ہے۔
آئینی پیکج میں مجوزہ ترامیم کے تحت ”وفاقی آئینی عدالت“کے پہلے چیف جسٹس کا تقرروزیراعظم کی مشاورت سے صدر کریں گے۔اس عمل سے چیف جسٹس تعینات ہوجانے کے بعددیگر ججوں کی تعیناتی کا عمل ہوگا۔ وفاقی آئینی عدالت کے دیگر ججوں کا تقررچیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مشاورت سے صدر کریں گے۔
آئین کے آرٹیکل179میں مجوزہ ترمیم سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مدت تین برس مقرر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس سے متعلق آرٹیکل184کو تبدیل کرکے تمام دائرہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو دینے کی تجویز ہے۔ نئے مجوزہ آرٹیکل184(3)کے تمام کیسز کو”وفاقی آئینی عدالت“ کے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ سنا کرے گی۔
آرٹیکل184میں مجوزہ ترمیم کے بعد سپریم کورٹ میں اس آرٹیکل کے تحت چلنے والے تمام زیرالتواء مقدمات فوری طور پر”وفاقی آئینی عدالت“کو منتقل ہوجائیں گے
آرٹیکل 186اے میں مجوزہ ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو کسی ہائیکورٹ میں آرٹیکل199کے تحت چلنے والے کیس کو دوسری ہائیکورٹ میں منتقل کرنے کا اختیار ہوگا
مکمل انصاف بارے آرٹیکل187میں مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ”اس آرٹیکل کے تحت وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ اپنے دائرہ اختیار سے ہٹ کر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کریں گی۔“
آئین کے آرٹیکل 189میں مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کا ہرفیصلہ ملک کی تمام عدالتوں بشمول سپریم کورٹ پرbindingہوگامگر سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت پر bindingنہیں ہوگا
آئین کے آرٹیکل190میں مجوزہ ترمیم کے تحت ”تمام ایگزیٹواورعدالتی حکام اب سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت(Federal Constitutional Court) کی معاونت کریں گے۔“
آرٹیکل199 میں مجوزہ ترمیم کے تحت ہائی کورٹس کی جانب سے ازخود اختیارات کو استعمال نہیں کیا جائے گا
آرٹیکل200 میں مجوزہ ترمیم کے تحت صدر جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کسی بھی ہائیکورٹ کے جج کو (اسکی مرضی کے بغیر)دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر کر سکے گا
آرٹیکل209 میں مجوزہ ترمیم کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی ساخت تبدیل کرکے اس میں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کو شامل کیاگیا ہے

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
