پیر, نومبر 2, 2026
پارلیمنٹ

وفاقی وزراء،وزرائے مملکت،مشیران اور معاونینِ خصوصی کی تنخواہوں،مراعات اور الاؤنسز کی تفصیل

Share

پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کی موجودہ حکومت میں وفاقی کابینہ کا حجم روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ وفاقی کابینہ میں وفاقی وزراء،وزرائے مملکت،مشیران اور معاونینِ خصوصی کی تعداد 85تک جا پہنچی ہے۔ 40سے زائد معاونینِ خصوصی اور مشیران کو وفاقی وزراء یا پھر وزرائے مملکت کے مساوی عہدوں سے نوازاگیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ انہیں سرکاری خزانے سے جو تنخواہیں،الاؤنسز اورمراعات دی جارہی ہیں وہ ’وفاقی وزیر یا وزیرِمملکت کے لئے طے شدہ تنخواہوں،الاؤنسز اورمراعات کے مساوی ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف کی کابینہ میں موجودزیادہ ترمعاونینِ خصوصی اورمشیران غیر منتخب افراد ہیں۔ ان میں سے کئی الیکشن ہارے چکے ہیں تاہم شہبازشریف نے انہیں اپنی کابینہ میں معاونِ خصوصی تعینات کرکے مراعات یافتہ طبقے میں شامل کر رکھا ہے۔

Document: 1st page of FEDERAL MINISTERS AND MINISTERS OF STATE
(SALARIES, ALLOWANCES AND PRIVILEGES) ACT, 1975

سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی کابینہ میں شامل کل 40معاونینِ خصوصی میں سے 16منتخب ایم این ایز ہیں جبکہ ایک سینیٹر ہیں۔ بقیہ 23معاونینِ خصوصی غیر منتخب منظورِ نظر افراد ہیں جنہیں مہنگائی سے پسی اور بھاری ٹیکسوں تلے دبی غریب عوام کے خزانے پر مزے کرائے جا رہے ہیں۔ ان غیر منتخب معاونینِ خصوصی میں فہد حسین،عرفان قادر،طارق باجوہ،طارق محمود پاشا،ملک نعمان احمد لنگڑیال،سید طارق فاطمی،ڈاکٹر محمد جہانزیب خان و دیگر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں اس وقت کل چار مشیر ہیں،جن میں سے تین کو وفاقی وزیر کے مساوی اسٹیٹس دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے یہ چاروں مشیر غیر منتخب افراد ہیں۔ان میں احد خان چیمہ،عون چوہدری،قمرزمان کائرہ اور انجینئر امیرمقام شامل ہیں۔

تنخواہیں،الاؤنسز اور مراعات کی تفصیل

وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں شامل 85 وفاقی وزراء،وزارئے مملکت،مشیران اورمعاونینِ خصوصی (جنہیں وفاقی وزیر اور وزیرمملکت)کے مساوی عہدوں سے نوازاگیا ہے،کو سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے تنخواہ،مراعات اورالاؤنسز کی مد میں دئے جارہے ہیں۔

Document: 2nd page of FEDERAL MINISTERS AND MINISTERS OF STATE
(SALARIES, ALLOWANCES AND PRIVILEGES) ACT, 1975

وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کو لاکھوں روپے مالیت کی تنخواہیں،مراعات اورالاؤنسز ’وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں،الاؤنسز اورمراعات ایکٹ1975ء‘ کے تحت دئے جا رہے ہیں۔اس ایکٹ کے تحت وفاقی وزراء،وزرائے مملکت،مشیران اور معاونینِ خصوصی کو درج ذیل تنخواہیں،الاؤنسز اور مراعات دی جارہی ہیں:۔

وفاقی وزیر کی تنخواہ 2لاکھ روپے ماہانہ جبکہ وزیرمملکت کی تنخواہ1لاکھ80ہزار روپے ماہانہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟

پہلی تعیناتی پر وفاقی وزیریاوزیرِمملکت پانچ ہزار روپے کا اِکویپمنٹ الاؤنس لے سکتا ہے۔

وفاقی وزیراور وزیرمملکت اور انکی فیملی کو ایک سرکاری کار رکھنے کا حق حاصل ہے اوراسکی کار کی دیکھ بھال سرکاری خزانے سے کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیراور وزیرمملکت کو کرائے کی ادائیگی کے بغیر سرکاری رہائش گاہ کے استعمال کا حق حاصل ہے اور ایسی سرکاری رہائش گاہ کی دیکھ بھال سرکاری خزانے سے ہوتی ہے۔

یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کیلئے وفاقی وزیراوروزیرمملکت کو ماہانہ22ہزار روپے یوٹیلیٹی الاؤنس دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈالر کا ریٹ۔۔سال1947ء سے 2023ء تک

وفاقی وزیر اور وزیرمملکت کو رہائش گاہ پر سرکاری خرچے پر ٹیلی فون کی سہولت دی جاتی ہے اور اس فون سے کالز کے اخراجات سے اسے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔اگر کسی وفاقی وزیر یا وزیرِ مملکت کے عہدہ سنبھالنے کے وقت سرکاری رہائش گاہ دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں وفاقی وزیرکو رہائش کی مد میں ایک لاکھ تین ہزارروپے ماہانہ جبکہ وزیرمملکت کو ترانوے ہزار سات سوروپے ماہانہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

وفاقی وزیراوروزیرِمملکت عہدہ سنبھالنے پر اپنے،اپنے خاندان،اپنے ملازموں اورسازوسامان کی منتقلی کے اخراجات سرکاری خزانے سے لے سکتا ہے۔

Document: More pages of FEDERAL MINISTERS AND MINISTERS OF STATE
(SALARIES, ALLOWANCES AND PRIVILEGES) ACT, 1975

وفاقی وزیراوروزیرِمملکت کو ہر ماہ ذاتی اخراجات کیلئے چھ ہزار روپے بھی ملتے ہیں۔

پاکستان میں سفر کے دوران وفاقی وزیر اور وزیرمملکت کو فرسٹ گریڈ افسر کا درجہ دیا جاتا ہے اور اسے سفری الاؤنس دیا جاتا ہے۔

وزراء دورہ پرہوں تو اس دوران انہیں تین ہزار روپے کا ڈیلی الاؤنس دیا جاتا ہے۔

وزراء کو غیر ملکی دورہ پر ٹریولنگ الاؤنس دیا جاتا ہے۔

Notification of Appointment of Amir Muqam as PM Advisor with the status of Federal Minister

وفاقی وزیر، وزیرمملکت اور ان کی فیملی کو’خصوصی میڈیکل اٹینڈنس رُولز‘ کے تحت طبی سہولیات حاصل کرنے کا حق ہوتا ہے۔

ہروفاقی وزیر یا وزیرمملکت کو ذاتی اسٹاف دیا جاتا ہے جن میں ایک پرائیویٹ سیکرٹری،ایک پرسنل اسسٹنٹ،ایک اردو اسٹینوگرافریا اسٹینوٹائپسٹ، ایک قاصد اور ایک نائب قاصد شامل ہوتا ہے۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے