منگل, نومبر 3, 2026
عدلیہ

کیاچیف جسٹس محمد امیر بھٹی کے دو ر میں لاہور ہائی کورٹ نے صرف پی ٹی آئی کے حق میں فیصلے کئے؟

Share

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جوادحسن کی جانب سے آئین کے مطابق90روز میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کرانے کے لئے جاری شدہ10فروری2023کے اہم فیصلہ کے بعد سے ن لیگ نے لاہورہائی کورٹ کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے۔ایک طرف مریم نوازکی جانب سے کہا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے جج کے داماد ہونے کا فائدہ اٹھایا جارہا ہے تو دوسری جانب انکی سوشل میڈیا ٹیم نے لاہور ہائی کورٹ کیخلاف ’داماد ہائی کورٹ‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مہم چلا رکھی ہے۔

ن لیگی رہنما ؤں کے مطابق چونکہ پی ٹی آئی رہنما اورسابق صوبائی وزیرعلی افضل ساہی لاہورہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کے داماد ہیں،اس لئے لاہور ہائی کورٹ پی ٹی آئی کے حق میں فیصلے کر رہی ہے۔

PMLN Social Media Wing Head Tweeted with the hashtag of Damaad High Court

سچ کیا ہے؟
جسٹس محمد امیر بھٹی نے 6جولائی2021ء کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔ اس کے بعد سے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ن لیگ اور شریف خاندان کے حق میں کئی فیصلے کئے جا چکے ہیں۔ جسٹس محمد امیر بھٹی کے دور میں لاہور ہائی کورٹ سے شریف خاندان اور انکی جماعت کے حق میں ہونیوالے فیصلوں کی تعداد پی ٹی آئی اوراتحادیوں کے حق میں کئے جانیوالے فیصلوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

Another Tweet with the Hashtag of Damaad High Court by PMLN Social Media Wing Head. In this tweet he has shared some recent Verdicts of LHC in Favor of PTI.

چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ محمد امیر بھٹی کے دور میں شریف خاندان اور انکی جماعت کے حق میں کئے جانیوالے فیصلوں میں سے چند ایک کی فہرست کچھ یوں ہے۔

پہلا فیصلہ
اپریل2022ء میں لاہورہائی کورٹ نے اس وقت کے گورنر پنجاب عمرسرفراز چیمہ کو حکم دیا تھا کہ حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف اٹھانے کے عمل کو مکمل کیا جائے۔۔یہ فیصلہ چیف جسٹس امیر بھٹی نے دیا تھا اور اس کا بینیفیشری شریف خاندان کا فرد حمزہ شہباز اوران کی جماعت ن لیگ تھی۔

دوسرا فیصلہ
اپریل2022ء میں ہی لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جوادحسن نے اسپیکرقومی اسمبلی راجاپرویز اشرف کو حمزہ شہبازسے وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف لینے کا حکم دیا تھا۔پی ٹی آئی نے جسٹس جواد حسن کے اس فیصلہ کو غیر آئینی قراردیاتھا۔اس وقت کے گورنرپنجاب عمرسرفرازچیمہ نے پانچ مئی2022ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جوادحسن کے اس فیصلہ کو ’غیر آئینی‘قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

PTI leader Ali Afzal Sahi, who is son in law of CJ LHC Muhammad Ameer Bhatti, responds to Maryam Nawaz allegations.

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل

تیسرافیصلہ
اٹھارہ اگست2022ء کو لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور انکی کابینہ کی نااہلی کیلئے دائر درخواست کو مستردکردیا تھا۔ یہ درخواست پی ٹی آئی رہنما عندلیب عباس نے دائر کی تھی اور مؤقف اپنایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور انکے وزراء لندن میں سزایافتہ مجرم نوازشریف سے مل کر ان کے ساتھ سرکاری رازوں کو شیئر کر رہے تھے۔

چوتھا فیصلہ
تین اکتوبر2022ء کو لاہور ہائی کورٹ نے مریم نوازکی پاسپورٹ کی واپسی کا حکم دیا تھا۔مریم نوازکی پاسپورٹ کی واپسی کا فیصلہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

پانچواں فیصلہ
دسمبر2022ء میں لاہور ہائی کورٹ نے ن لیگ کے معطل شدہ 18ایم پی ایز کو پنجاب اسمبلی میں شرکت کی اجازت دی تھی۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب ن لیگ پنجاب میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کی حکومت گرانے کیلئے اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کراچکی تھی اور ان معطل شدہ ایم پی ایز کی ایوان میں موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔

چھٹا فیصلہ
دسمبر2022ء میں لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے عمران خان کیخلاف دائر ہتکِ عزت کیس میں عمران خان کی ایک درخواست کر مستردکرکے شہبازشریف کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔عمران خان نے یہ پٹیشن اپنے دفاع کے حق کی تنسیخ کے خلاف دائر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈالر کا ریٹ۔۔سال1947ء سے 2023ء تک

ساتواں فیصلہ
جنوری2023ء میں لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ گورنر پہلے سے جاری سیشن میں وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے۔

آٹھواں فیصلہ
نومبر2021ء میں لاہورہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ اور انکی اہلیہ مسرت جمشید چیمہ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے انکی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کیخلاف دائر پٹیشن کو مسترد کر دیا تھا۔این اے133کے ضمنی الیکشن کیلئے ریٹرننگ افسر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردئے تھے،جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی تھی۔ یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنایا تھا جس میں جسٹس جوادحسن اور جسٹس مزمل اختر شبیر شامل تھے۔

نواں فیصلہ
اگست2022ء میں ق لیگ کے رہنما کامل علی آغا نے الیکشن کمیشن کے چوہدری شجاعت کو پارٹی صدر برقراررکھنے کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔۔لاہور ہائی کورٹ نے کامل علی آغا کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا

دسواں فیصلہ


ماہرقانون اظہر صدیق کی وساطت سے لاہورہائی کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرنے اور فوری طور پر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر13فروری2023ء کو گورنرپنجاب اور الیکشن کمیشن سربراہ و ممبران کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے14فروری2023ء کو اس درخواست پر اعتراض لگا دیا ہے۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے