حکومت نے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی کیلئے سپریم کورٹ سے امیدلگالی
وزیراعظم شہباز شریف نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ’ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے عمران خان پر ہونیوالے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔‘وزیراعظم شہبازشریف کے خط میں درج اس اہم جملے کا یہ مطلب ہے کہ انکی حکومت قائل ہوچکی ہے کہ ریاستی اداروں میں عوام کا اعتماد نہیں رہا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے مطابق انہیں قتل کرنے کی سازش رچانے والوں میں وزیراعظم شہباز شریف،وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی سی میجرجنرل فیصل شامل ہیں۔ عمران خان کے لانگ مارچ پر وزیرآباد میں تین نومبر2022ء کو قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔
خط کا مکمل متن
وزیراعظم شہباز شریف کے اس خط کے مکمل مندرجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
قابلِ احترام چیف جسٹس
گزشتہ چند روز سے پاکستان سنگین امن و امان کی صورتحال میں الجھ چکا ہے۔ وزیرآباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین کی ریلی پر فائرنگ کے افسوسناک واقعہ اور اس کے بعد پی ٹی آئی قیادت کی زہرآلود تقاریر نے ملک میں متشدد مظاہروں کی شکل میں خوف کی فضا پیداکردی ہے۔ ان مظاہروں نے عام شہریوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور انہیں پاکستان اورعالمی سطح پر نمایاں میڈیا کوریج ملی ہے۔
یہ نوٹ کیا جانا چاہئے کہ72گھنٹے گزرجانے کے باوجود،اس واقعہ کے حوالے سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔افسوس ناک انداز میں پی ٹی آئی کی سربراہی میں چلنے والی حکومتِ پنجاب کی قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوں اورتحقیقاتی حکام نے اس نوعیت کے واقعہ کے بعد قابلِ اطلاق قانون اور رُولز پر عمل پیراہونے میں ناکامی دکھائی ہے۔

یہ قابلِ افسوس ہے کہ جائے وقوعہ کی حفاظت نہیں کی گئی اور جس کنٹینر پر پی ٹی آئی قیادت کو زخمی کیا گیا،اسے فارنزک تجزئے کیلئے ابھی تک تحویل میں لیاجانا باقی ہے۔
واقعہ کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کی کوئی میڈیکو لیگل رپورٹ بھی تیار نہیں کی گئی بلکہ انہیں سیدھا ایک نجی ریسرچ اسپتال لے جایا گیا،جو کہ ایک رجسٹرڈ میڈیکو لیگل سینٹر نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے فوجی حکام کیخلاف انکوائری کیلئے صدرکو لکھے گئے خط کا مکمل متن
یہ نوٹ کیا جانا چاہئے کہ واقعہ کے بعد حکومتِ پنجاب اور اس کے عہدیداران کی جانب سے تحقیقاتی عمل کی مِس ہینڈلنگ کا نتیجہ ’کمپرومائزڈ شواہد‘ کی شکل میں آنے کا امکان ہے،جس کا تعلق براہِ راست صوبائی قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوں کی ناکامی سے ہے اور جس سے بدنیتی کی بو آتی ہے۔
وفاقی حکومت پہلے ہی صوبائی انتظامیہ کو لکھ چکی ہے اورمعاملہ کی مِس ہینڈلنگ پر شدید تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔مزید یہ کہ عوامی تنصیبات، عمارتوں بشمول لاہور گورنرہاؤس اور یہاں تک کہ نجی جائیدادوں پر حکومتِ پنجاب اور خیبرپختونخواہ حکومت کی سرپرستی میں شرپسندوں کی جانب سے حملہ کیاجاچکا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ریاستی اداروں بالخصوص پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف ایک تضحیک آمیز مہم شروع کی گئی،جن پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان اداروں نے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر سابق وزیراعظم کے خلاف سازش کی۔
وفاقی حکومت کی یہ رائے ہے کہ کرمنل انوسٹی گیشن کے التواء کے دوران اور معاملات کو نمٹانے کیلئے اورریاستی اداروں میں عوامی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے ایک غیرجانبدار باڈی کو اس معاملہ کی تحقیقات کرکے حقائق جاننے،مجرمان کا تعین کرنے اور واقعہ کی ذمہ داری معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔
موجودہ حالات عوامی تحفظ کیلئے بڑے خطرے کوپیش کرتے ہیں،جس سے ریاستِ پاکستان کی قومی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے۔اس لئے حکومتِ پاکستان معزز چیف جسٹس سے درخواست کرتی ہے کہ عدالت کے تمام دستیاب ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن بنایاجائے جوذیل میں دئے گئے سوالوں کا جائزہ لے:

سوال نمبرایک:قافلے کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ دار کونسی قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیاں تھیں؟آیا قافلے کو محفوظ بنانے کیلئے سیکیورٹی پروٹوکولز اوردیگر ایس اوپیزبنائے گئے اورکیا ان ’ایس او پیز‘ پر عمل کیاگیا؟
سوال نمبردو:واقعہ کے حقائق کیاہیں؟جائے وقوعہ پر ایک سے زائد شوٹرز کی رپورٹس،جوابی فائرنگ،متاثرافراد کی کل تعداداورانکے زخموں کی نوعیت وغیرہ؟
سوال نمبرتین:کیا واقعہ کے بعدقانون نافذکرنیوالے اداروں اورانتظامی حکام نے طے شدہ تفتیش،شواہد جمع کرنے کے عمل اورہینڈلنگ پروسیجرز پر عمل کیا؟اگرایسا نہیں ہواتو پھرکیا پروسیجرل کوتاہیاں ہوئیں اور ان کا ذمہ دار کون سی انتظامی اتھارٹیز،قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیاں یا صوبائی حکومت کے حکام ہیں؟
سوال نمبرچار:کیا واقعہ کی تحقیقات میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالی جارہی ہے؟اگر ایسا ہے تو کن ایکٹرز کی جانب سے ایسا کیا جارہا ہے اور کیوں کیا جارہا ہے؟
سوال نمبرپانچ:کیا فائرنگ کا عمل پی ٹی آئی سربراہ کو قتل کرنے کی مجرمانہ سازش کا نتیجہ تھایا پھر اکیلئے شوٹر کا اقدام تھا؟دونوں صورتوں میں ذمہ دار ایکٹرز کون ہیں؟
اگرملک میں قانون کی حکمرانی کے مقصد کوآگے بڑھانے کیلئے کی گئی اس درخواست کو منظورکرلیاجاتا ہے توحکومت بہت زیادہ ممنون ہوگی اور حکومت اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ جب کمیشن یہ کام کررہا ہوگا تو حکومت اسے مکمل سپورٹ اورتعاون فراہم کرے گی۔
محمد شہبازشریف

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
