منگل, نومبر 3, 2026
انتخابات

کیاپنجاب کی نگران حکومت اختیارات سے تجاوزکیلئے ہاتھ پیر مار رہی ہے؟

Share

پنجاب کی نگران حکومت اپنے مینڈیٹ کے برعکس صوبے میں ایک ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبے کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے جبکہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت اس کا مینڈیٹ الیکشن کرانے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت کرنا اور ساتھ ہی خود کو روزمرہ کی سرگرمیوں تک محدودرکھنا ہے۔

مزید یہ کہ 22جنوری2023ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک نوٹی فیکیشن کے ذریعہ پنجاب اورخیبرپختونخوا میں انتخابات ہونے تک ترقیاتی اسکیموں کے اعلان اورعملدرآمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔الیکشن کمیشن نے اسی نوٹی فیکیشن کے ذریعے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے تک پنجاب اورخیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ اداروں کے ترقیاتی فنڈز کو بھی منجمدکردیاتھا۔

الیکشن کمیشن کے22جنوری2023ء کے نوٹی فیکیشن میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان اور عملدرآمد پر ان پابندیوں کی وجہ منصفانہ الیکشن کا انعقاد اور الیکشن لڑنے والے تمام امیدواروں کو مساوی ماحول کی فراہمی قراردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟

ECP Notification of 22nd January, 2023 banning announcement or execution of Development schemes in Punjab and KPK till announcement of results of Elections of both Assemblies

ڈان نیوز کی 6فروری2023ء کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی نگران حکومت اختیارات سے تجاوز کرکے ایک ارب ڈالرز سے زائد غیرملکی امداد کے منصوبے کرنے کیلئے تگ دو کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں ترقیاتی منصوبوں پر عائد پابندی اٹھوانے کیلئے حرکت میں آچکی ہے۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلہ میں پنجاب کی وزارتِ لوکل گورنمنٹ نے چیف سیکرٹری کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ غیرملکی امداد کے حامل منصوبوں پر عملدرآمد پرعائد پابندی کو ہٹانے کا معاملہ اٹھایا جائے۔

پنجاب اسمبلی 14جنوری2023ء کو تحلیل ہوگئی تھی،جس کے بعد نگران حکومت کی تشکیل ہوئی تھی۔ آئین کے تحت نگران حکومت نے صوبے میں نوے روز میں الیکشن کرانا ہیں مگر26روز گزرجانے کے باوجود نگران حکومت صوبے میں مینڈیٹ سے ہٹ کر ترقیاتی منصوبے کرانے کیلئے تو تیار ہے مگر صوبے میں ابھی تک انتخابات کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔

Dawn News Report of 6th Feb, 2023 showing intention of Punjab Caretaker Government

غیرملکی امدادکے حامل منصوبوں کی تفصیل
نگران حکومت پنجاب میں جن ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی خواہاں ہے ان میں ورلڈ بینک کے فنڈشدہ دوجبکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے فنڈشدہ تین منصوبے شامل ہیں۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے ان پانچ منصوبوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

ایک۔ورلڈبینک کا ’پنجاب رُورل سسٹین ایبل واٹرسپلائی و سینیٹی ٹیشن پراجیکٹ‘۔۔۔
مالیت 55.3کروڑڈالرز

دو۔ورلڈبینک کا ’پنجاب اسٹیز پروگرام‘۔۔۔مالیت 23.6کروڑڈالرز

تین۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا ’پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیزاِمپروومنٹ انوسٹمنٹ پراجیکٹ‘۔۔۔ مالیت25کروڑ ڈالرز

چار۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا’پراجیکٹ ریڈی نس فنانسنگ‘۔۔۔۔مالیت ایک کروڑ63لاکھ ڈالرز

پانچ۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا’ہیری ٹیج اَربن ری جنریشن پراجیکٹ‘۔۔۔مالیت2کروڑ20لاکھ ڈالرز

Section 230 of Elections Act, 2017 details the Functions of Caretaker Government.

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل

یہ منصوبے پنجاب کے مختلف اضلاع اور شہروں میں ہونا ہیں جن میں ساہیوال،سیالکوٹ،سرگودھا،بہاولپور،رحیم یار خان،مظفرگڑھ،ڈیرہ غازی خان،ملتان،راولپنڈی،سرگودھا،اوکاڑہ،ڈسکہ،کاموکی،جہلم،وزیرآباد،خانیوال، بہاولنگرجڑانوالہ،گوجرہ،جھنگ،کمالیہ، مریدکے،حافظ آباد اورکوٹ ادوشامل ہیں۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے