منگل, نومبر 3, 2026
انتخابات

چیف الیکشن کمشنر اورالیکشن کمیشن ممبران کو ہٹانے کا آئینی طریقہ کیا ہے؟

Share

الیکشن کمیشن کے سربراہ اور اس کے ممبران کو آئین کے تحت پانچ برس کیلئے تعینات کیا جاتا ہے لیکن اگر الیکشن کمیشن اور اس کے ممبران کو پہلے ہٹانا پڑ جائے تو ایسا کرنے کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل جانا پڑتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کو ہٹانے کا طریقہ آئین میں بتایا گیا ہے۔انہیں ہٹانے کا وہی طریقہ ہے جو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ہٹانے کاہے۔آئین کے آرٹیکل 215(2)میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران کو آئین کے آرٹیکل209میں بتائے گئے طریقہ کار کے تحت ہٹایا جا سکتا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 215(2)میں بتایا گیا ہے کہ جس طرح آرٹیکل209کے تحت جج کو ہٹایا جاتا ہے،ویسے ہی چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کوہٹایا جائے گا۔

اس کے علاوہ یہ ہوسکتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشن ممبران خود اپنے عہدوں سے استعفے دے دیں اوریوں یہ عہدے خالی ہوجائیں۔

آئین کے آرٹیکل209میں کیا ہے؟
آئین کا آرٹیکل209سپریم جوڈیشل کونسل سے متعلق ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل مِس کنڈکٹ اور نااہلی پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کو ہٹانے سے متعلق کارروائی کرتی ہے اور آئین میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران کو بھی اسی طریقہ کار کے تحت ہٹایا جائے گا۔۔یہ کونسل صدر کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر کارروائی کرتی ہے۔اس کے علاوہ کونسل کے پاس ’سوموٹو ایکشن‘ لینے کا اختیاربھی موجود ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں کون ہوتا ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل درج ذیل پانچ ججوں پرمشتمل ہوتی ہے:۔
چیف جسٹس آف پاکستان۔۔۔۔۔چیف جسٹس آف پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ہوتا ہے
سپریم کورٹ کے دوسینئر ترین جج صاحبان
ہائی کورٹس کے دوسینئر ترین چیف جسٹس صاحبان

سپریم کورٹ کا رجسٹرار سپریم جوڈیشل کونسل کا سیکرٹری ہوتا ہے

آرٹیکل209کے تحت جج کو کیسے ہٹایا جاتا ہے؟
آئین پاکستان کے آرٹیکل 215(2)میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ممبران کو آئین کے آرٹیکل209میں بتائے گئے طریقہ کار کے تحت ہٹایا جا سکتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 209 میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ہٹانے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔

اس لئے جو طریقہ کار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج حضرات کو ہٹانے کا ہے،وہی الیکشن کمیشن کے سربراہ اور انکے ممبران کو ہٹانے کا ہے۔

آئین کے آرٹیکل209میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل اور ججوں کو ہٹانے سے متعلق اس کا مینڈیٹ بتایا گیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل209 کی کل آٹھ شقیں ہیں۔جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔
ایک سپریم جوڈیشل کونسل ہوگی، جو درج ذیل پانچ ممبران پر مشتمل ہوگی:۔

چیف جسٹس آف پاکستان
سپریم کورٹ کے دوسینئر ترین جج صاحبان
ہائی کورٹس کے دوسینئر ترین چیف جسٹس صاحبان

اگر سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران کا کسی معاملہ یا کیس کے فیصلہ پر اختلاف رائے ہو تو کونسل کے اکثریتی ممبران کی رائے یا فیصلہ کونسل کے فیصلہ کے طور پر مانا جائے گا۔۔سپریم جوڈیشل کونسل اپنے طور پر کہیں سے ملنے والی انفارمیشن پر (سوموٹو ایکشن)یا پھر صدر پاکستان کے احکامات پر کسی جج کے خلاف انکوائری کر سکتی ہے۔

اگر سپریم جوڈیشل کونسل یا صدر پاکستان کی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج سے متعلق یہ رائے ہو کہ:۔
الف۔وہ جج کسی جسمانی یا ذہنی نااہلی یا عذر کے باعث اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی سے قاصر ہے یا(ب)۔وہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہو۔۔۔تو ان حالات میں سپریم جوڈیشل کونسل اپنے طور پر کہیں سے ملنے والی انفارمیشن پر یا پھر صدر پاکستان کے احکامات پر کسی جج کے خلاف انکوائری کر سکتی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف انکوائری کے بعد اپنے فیصلے یا رائے سے متعلق رپورٹ صدرپاکستان کو بھیجے گی۔اگر کسی جج کے خلاف انکوائری کے بعد سپریم جوڈیشل کو نسل صدر کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ میں کہتی ہے،کہ کونسل کی رائے میں:۔
ایک)۔جس جج کیخلاف انکوائری کی گئی ہے،وہ جج اپنے فرائض سرانجام دینے کے اہل نہیں یا وہ جج مِس کنڈکٹ کا مرتکب ہے اور
دو)۔کونسل کی رائے میں اس جج کو ہٹا دینا چاہئے۔۔۔تو صدراس جج کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج کو اپنے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کا آئینی طریقہ کیا ہے؟

ان امورکے علاوہ آرٹیکل209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ او ر ہائی کورٹس کے جج صاحبان کیلئے کوڈ آف کنڈکٹ
.جاری کرے گی

سپریم جوڈیشل کونسل کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
اب آئین کے آرٹیکل209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو جو مینڈیٹ ملا ہے،اسے ’سپریم جوڈیشل کونسل‘ کیسے سرانجام دیتی ہے۔یہ کام کیسے کرتی ہے؟یہ کسی جج (یا الیکشن کمیشن سربراہ یا ممبران) کیخلاف کارروائی کا آغاز کیسے کرتی ہے؟تحقیقات یا انکوائری کیسے کرتی ہے۔؟ان سب سوالوں کی تفصیل ”سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء“ میں بتائی گئی ہیں،جو کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے قواعد ہیں۔”سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء“ میں سپریم جوڈیشل کونسل کے کام کا طریقہ کار اور قواعد بتائے گئے ہیں۔ان رُولز /قواعد کی مدد سے سپریم جوڈیشل کونسل کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل تک انفارمیشن کیسے پہنچائی جا سکتی ہے؟
”سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء“ کے مطابق:۔
کوئی بھی فردکسی جج کی نااہلی یا مس کنڈکٹ سے متعلق کسی قسم کی ا نفارمیشن سپریم جوڈیشل کونسل،اس کے کسی ممبر یا سیکرٹری کے نوٹس میں لا سکتی ہے۔اس انفارمیشن میں ڈاکومنٹس،فوٹوگرافس،آڈیو یا ویڈیو ٹیپس،حلف نامے یا کسی بھی اور قسم کے شواہد ہو سکتے ہیں۔یہ شواہد یا انفارمیشن اس جج کے خلاف مِس کنڈکٹ یا نااہلی کے الزامات لگاتی ہوں۔یہ انفارمیشن یا شواہد ایسے ہونے چاہئیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس مواد پر متعلقہ جج کے خلاف کارروائی کا آغاز کرسکے۔جو شخص کسی جج کے خلاف کونسل یا اسکے ممبران یا سیکرٹری کو یہ انفارمیشن دے اسے اپنی شناخت بھی کرانا ہوتی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل اس ’انفارمیشن‘ کو کیسے پرکھتی ہے؟
سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء کے مطابق:۔
”۔۔جب کوئی شخص کسی جج کی نااہلی یا مس کنڈکٹ کیخلاف شواہد سپریم جوڈیشل کونسل کے کسی رکن کو دے دیتا ہے،تو ان شواہد یا انفارمیشن کو ’سپریم جوڈیشل کونسل‘ کے چیئرمین کو پیش کیا جاتا ہے۔ کونسل کا چیئرمین چیف جسٹس آف پاکستان ہوتا ہے۔جب چیئرمین کے پاس کسی جج کے خلاف وہ مواد یا شواہد آتے ہیں تو وہ اس مواد کو کونسل کے کسی رکن کے پاس بھیج دیتا ہے۔وہ رکن ان شواہد یا مواد کو پرکھتا ہے۔جس ممبر کو انفارمیشن یا مواد کی جانچ یا اسکروٹنی کا کام ملتا ہے،وہ اس مواد کا معائنہ کرتا ہے،اور دیکھتا ہے کہ کیا کسی جج کے خلاف موصول شدہ مواد اس جج کو ”بادی النظر“ مس کنڈکٹ یا نااہلی کا مرتکب قرار دیتا ہے۔اگر مواد کی اسکروٹنی کرنے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے اس ممبر کی یہ رائے بن جائے کہ کسی جج کے خلاف کونسل کو دیا گیا مواد یا شواہد کافی ہیں،اور ان کی بنیاد پر جج کیخلاف انکوائری کا آغاز کیا جانا چاہئے تو اس سے متعلق وہ کونسل کو اطلاع دے گا۔

اسی طرح،اگر سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر کی یہ رائے بنے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو دی گئی انفارمیشن یا شواہد جھوٹے،غلط،بناوٹی یا فضول قسم کے ہیں تو وہ ممبر اس سے متعلق کونسل کو مطلع کرے گااوروہ ممبر کونسل کو ایسی انفارمیشن فراہم کرنے والے شخص کیخلاف کارروائی کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔

اس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین کسی جج کے خلاف موصول شدہ انفارمیشن پر بحث اور انکوائری کیلئے اجلاس بلا سکتا ہے۔اس اجلاس میں کسی جج کے کنڈکٹ سے متعلق انفارمیشن کو کونسل کے سامنے رکھا جاتا ہے۔اگر کونسل کی یہ رائے ہو کہ جج کیخلاف انکوائری کے آغاز سے پہلے،اس جج کو سنا جائے جس کیخلاف انکوائری کی جانا ہے،تواس صورت میں کونسل اس جج کو بلا سکتی ہے۔اس صورت میں جب وہ جج کونسل کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اس کے خلاف موصول شدہ انفارمیشن اور مواد اس جج کر فراہم کر دی جاتی ہے۔اگر کونسل کو لگتا ہے کہ اسے کسی جج کیخلاف انکوائری سے پہلے مزید انفارمیشن یا اضافی مواد کی ضرورت ہے،تو مزید مواد طلب کرنے کے احکامات دئے جاتے ہیں۔اگر کونسل کو ضروری لگے تو وہ کسی جج کیخلاف مواد دینے والے شخص کو طلب کرکے اس سے فراہم کردہ مواد سے متعلق مزید معلومات لے سکتی ہے۔اس کے علاوہ کونسل کسی جج کی نااہلی سے متعلق ماہرین کی خدمات بھی لے سکتی ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس اس بات کا بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ حالات کے مطابق کسی انکوائری کیلئے کوئی اور زیادہ مناسب اور منصفانہ طریقہ اپنا ئے۔“

جج کو شوکاز نوٹس
سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء کے مطابق”۔۔اگر سپریم جوڈیشل کونسل اس بات کا فیصلہ کر لے کہ جج کیخلاف کارروائی کرنا ہے تو اس جج کو ایک شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔اس شوکاز نوٹس میں جج کیخلاف ’سپورٹنگ میٹیریل‘ بھی ہوتا ہے۔جس جج کو شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے،اسے کہا جاتا ہے کہ وہ چودہ روزکے اندر اپنے کنڈکٹ کی وضاحت کرے۔جج کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب موصول ہونے کے بعد کونسل اجلاس بلا کر اس جج کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھاتی ہے۔“

اٹارنی جنر ل آف پاکستان کا کردار
سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء کے مطابق”ریفرنس کی کارروائی اٹارنی جنرل آف پاکستان یا پھر اٹارنی جنرل آف پاکستان کی غیر موجودگی میں سپریم کورٹ کا کوئی سینئر وکیل کنڈکٹ کرتا ہے۔ کونسل کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان یا کسی اور وکیل کو پیش ہونے اور معاونت کا کہے۔“

صدرپاکستان کو رپورٹ
سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء کے مطابق”جب سپریم جوڈیشل کونسل اپنی کارروائی ختم کرلے اور کسی جج کی نااہلی اور مس کنڈکٹ سے متعلق فیصلہ کرلے تو کونسل کا چیئرمین اس کی رپورٹ صدر کو بھیجے گا۔“

الیکشن کمیشن سربراہ اور ممبران پر اطلاق
سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری2005ء کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ ”جج حضرات کے علاوہ دیگر آفس ہولڈرز،جنہیں آئین کے آرٹیکل 209میں بتائے گئے اس طریقہ کار کے تحت ہٹایا جانا ہو،ان پر بھی یہ قواعد ضروری تبدیلیوں کے ساتھ لاگو ہوں گے۔“

یعنی یہی سارا طریقہ کارالیکشن کمیشن کے سربراہ اورممبران کو ہٹانے کیلئے بھی لاگو ہوگا۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے