منگل, نومبر 3, 2026
تاریخی رپورٹس

جب ایک آرمی چیف نے من پسند فیصلے کیلئے سپریم کورٹ کو پیغام بھجوانے کا اعتراف کیاتھا

Share

سابق وائس آرمی چیف جنرل کے ایم عارف کے مطابق جنرل مرزااسلم بیگ نے 1988ء میں بطور آرمی چیف جونیجو حکومت کی برطرفی کیخلاف دائر کیس میں دورانِ کارروائی سپریم کورٹ کوپیغام بھجواکر مرضی کا فیصلہ کروانے کا اعتراف کیاتھا۔۔جنرل کے ایم عارف کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے سپریم کورٹ کے انصاف کی فراہمی کے عمل میں کی گئی اس مداخلت کو توہینِ عدالت کارروائی کے دوران تسلیم کیاتھا۔

یاد رہے 1988ء میں حاجی سیف اللہ کیس میں سپریم کورٹ نے فوجی صدر ضیاء الحق کی جانب سے آئین کے آرٹیکل58ٹو بی کے تحت محمد خان جونیجو حکومت کی برطرفی کو غیر قانونی اور غلط تو قراردے دیا تھا تاہم اس کے باوجود سپریم کورٹ نے جونیجو کی برطرف شدہ حکومت کو بحال نہیں کیا تھا اور ملک شیڈول شدہ انتخابات کی طرف چلا گیا تھا۔ جنرل کے ایم عارف کے مطابق اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے سپریم کورٹ کو یہی پیغام بھجوایا تھا کہ جونیجو کی برطرف حکومت کو بحال نہیں کرنا۔

جنرل کے ایم عارف کے انکشافات
جنرل خالد محمود عارف المعروف کے ایم عارف نے جنرل ضیاء الحق دور میں فوج کے نائب سپہ سالار کے طور پر ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔ وہ سال1984ء سے 1987ء تک وائس چیف آف آرمی اسٹاف رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ’خاکی شیڈوز‘ کے نام سے کتاب لکھی،جس میں پاکستان کی سیاست میں فوج کے کردار پر جامع اورمفصل ا نداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

Khaki Shadows written by vice-chief of army staff General K.M. Arif

جنرل کے ایم عارف نے اپنی اس کتاب میں جنرل ضیاء الحق کی جانب سے مئی1988ء میں وزیراعظم محمد خان جونیجو کی منتخب حکومت کی برطرفی کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے اس کی ممکنہ بحالی کو رکوانے کیلئے اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے کردار پر بھی لکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

جنرل کے ایم عارف نے محمد خان جونیجو حکومت کی برطرفی بارے لکھا ہے کہ’مئی1988ء میں صدر ضیاء الحق نے وزیراعظم جونیجو کی حکومت کو برطرف کر دیا اوراسی برس نومبر میں تازہ انتخابات کا حکم دے دیا۔اس کے تین ماہ بعد اگست1988ء میں جنرل ضیاء الحق کا اچانک انتقال ہوگیا اور فوج نے اپنا چیف آف اسٹاف کھو دیا۔آئین کے تحت اس وقت کے چیئرمین سینٹ غلام اسحاق خان قائم مقام صدر بن گئے،جن کی جانب سے وائس آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کو آرمی چیف تعینات کردیاگیا۔‘

Relevant part of the book Khaki Shadows regarding Junejo Govt dismissal and other related events

اس کے بعد جنرل کے ایم عارف نے خاکی شیڈوز میں وزیراعظم جونیجوکی برطرف حکومت کے خلاف عدالتوں میں دائر کیسز پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ’لاہورہائی کورٹ نے قراردیا کہ حکومت کی برطرفی قانونی طور پر قابلِ برقرار نہیں تاہم عدالت نے تحلیل شدہ اسمبلیوں کو بحال نہ کیااورقراردیا کہ نومبر1988ء میں تازہ انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل

جنرل کے ایم عارف نے مزید لکھا ہے کہ’لاہورہائی کورٹ کے اس فیصلہ کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ کیس سپریم کورٹ میں جانے کے بعد 5اکتوبر1988ء کو جنرل مرزا اسلم بیگ نے جی ایچ کیو میں اس وقت کے وزیرِقانون وسیم سجاد سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو انکا پیغام پہنچایا جائے کہ سپریم کورٹ فیصلہ دے تو اس میں پہلے سے اعلان شدہ الیکشن شیڈول کو تبدیل نہ کرے۔‘

جنرل کے ایم عارف کے مطابق جنرل بیگ کا یہ اقدام قانونی عمل میں مداخلت کے زمرے میں آتا تھااوریہ چیز اس وقت میڈیا میں رپورٹ نہ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

جنرل کے ایم عارف نے خاکی شیڈوز میں مزید لکھا ہے کہ’جب مرزا اسلم بیگ آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تو چار فروری1993ء کو انہوں نے اعلانیہ اعتراف کیا کہ 1988ء میں انکی جانب سے سپریم کورٹ کو وزیراعظم جونیجو کی برطرف حکومت کو بحال نہ کرنے اورانتخابات کو شیڈول کے مطابق منعقد کرنے کی اجازت دینے کا پیغام بھجوایا گیا تھا۔‘

Junejo’ case and alleged role of the then COAS Gen. Mirza Aslam Beg

جنرل کے ایم عارف کے مطابق ’اس اعترافی بیان پر جنرل مرزا اسلم بیگ پر توہین عدالت کا الزام لگا۔جب ٹرائل شروع ہوا تو جنرل بیگ نے عدالت میں تسلیم کیا کہ انہوں نے عوامی مفاد اور اچھی نیت سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو پیغام بھیجا تھا۔تاہم وسیم سجاد نے جنرل مرزا اسلم بیگ کا پیغام چیف جسٹس کو پہنچانے کے اقدام کو ردکیا۔

جنرل کے ایم عارف کے مطابق اس کیس کے تیسرے اہم گواہ،جو کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان تھے جنہیں 1988ء میں جنرل مرزااسلم بیگ کا پیغام بھجوایا گیا تھا،سے اس پیغام کی وصولی کی تصدیق یا تردید کیلئے،انہیں کٹہرے میں ہی نہیں لایا گیا۔جنرل کے ایم عارف کے مطابق معاملہ کے اس اہم گواہ کو عدالت میں کیوں نہیں بلایا گیا،اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

جنرل کے ایم عارف نے خاکی شیڈوز میں مزید بتایا ہے کہ’توہینِ عدالت کے اس کیس میں سپریم کورٹ نے مرزا اسلم بیگ کو توہینِ عدالت کامرتکب ٹھہراتے ہوئے ڈِسچارج کردیاتھا۔جنرل کے ایم عارف کے مطابق ملک میں ایک احساس پایا جاتا ہے کہ پورا سچ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف نے پاکستان کو لندن کے ایک ہوٹل سے چلانے پر 3لاکھ28ہزارڈالرزخرچ کئے

کتاب خاکی شیڈوز میں مزید لکھا گیا ہے کہ’سپریم کورٹ کے جس بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی،اس میں شامل ایک جج نے ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل کے ایم عارف سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں جنرل کے ایم عارف نے ان جج صاحب سے پوچھا تھا کہ آیا اس وقت کے چیف جسٹس نے جنرل مرزا اسلم بیگ سے پیغام کی وصولی یا عدم وصولی سے متعلق ساتھی ججوں کو اعتماد میں لیا تھا؟ اس جج صاحب کی جانب سے اس سوال کا جواب نفی میں دیاگیا۔

A strange development: A Judge in the bench told this to Gen K.M Arif

جنرل کے ایم عارف نے جونیجو حکومت کی برطرفی کیخلاف دائر اپیل سننے والے بینچ میں شامل اس جج سے ہونیوالی گفتگو سے متعلق مزید لکھا ہے کہ’اس جج نے انہیں بتایاتھا کہ کیس کی حتمی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں ایک عجیب پیش رفت ہوئی تھی۔یہ پیش رفت کچھ یوں تھی کہ برطرف وزیراعظم محمد خان جونیجو کو عدالت نے بطورگواہ پیش ہونے کیلئے بلایا ہوا تھا اور وہ شواہد ریکارڈ کرانے کیلئے انتظار کر رہے تھے۔ لیکن چیف جسٹس نے انہیں سنے بغیر کیس کو مکمل کرلیا۔بینچ میں شامل ایک رکن نے چیف جسٹس کے کان میں سرگوشی کی کہ محمدخان جونیجو عدالت میں موجود ہیں اور ابھی تک ان کے شواہد ریکارڈ نہیں کئے گئے جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ’اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔‘


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے