منگل, اکتوبر 27, 2026
تاریخی رپورٹس

سپریم کورٹ ججوں کو آپس میں لڑانے کی کہانی:نوازدور میں بریف کیس کیسے جیتے تھے؟

Share

سال1997ء میں اپنی حکومت کے دوران نوازشریف نے اپنے خلاف توہینِ عدالت کا کیس سننے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجادعلی شاہ کو سپریم کورٹ ججوں کی مدد سے نکلوا دیا تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے سپریم کورٹ ججوں کو تقسیم کرکے اپنے خلاف کیس سننے والے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو رُسوا کرکے سپریم کورٹ سے نکلوا دیا تھا۔اس مقصد کیلئے نوازشریف نے سپریم کورٹ ججوں کے آپسی اختلافات کو ہوا دی تھی اور مبینہ طور پر بریف کیسز کا استعمال بھی کیا تھا۔

نوازشریف کی چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے لڑائی کیا تھی؟
سال1997ء میں اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے توہین آمیز بیانات اور رویہ پر اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی تھی۔توہین عدالت کیس میں سزا یافتہ ہونے پر نوازشریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑجاتے۔

آرمی چیف کو استعمال کرکے فائدہ اٹھایا گیا
سپریم کورٹ اورنوازشریف حکومت کے درمیان محاذآرائی کم نہ ہوئی تو معاملات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے فوجی قیادت کو گھسیٹا گیا۔اس لڑائی میں اس وقت کے صدرفاروق لغاری اور چیف جسٹس سجادعلی شاہ ایک طرف تھے جبکہ دوسری طرف نوازشریف حکومت تھی۔وزیراعظم،صدر اور چیف جسٹس کے مابین اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت ’ثالث‘ بن گئے۔آر می چیف نے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توہینِ عدالت کیس اور دیگر کیسز کو لگ بھگ ایک ہفتہ(بیس نومبر1997ء سے27نومبر1997ء تک) کیلئے ملتوی کرا کر نوازشریف کو مہلت فراہم کر دی۔نوازحکومت نے اس ایک ہفتہ کی مہلت سے فائدہ اٹھایا اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو نکالنے کی سازش پر تیزی سے کام شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

سجاد علی شاہ کی کمزوری کیا تھی؟
جسٹس سجاد علی شاہ کو بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں پانچ جون1994ء کو ’سینیارٹی‘کونظرانداز کرکے چیف جسٹس آف پاکستان تعینات کیا گیا تھا۔جب جسٹس سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا تو اس وقت وہ سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر تھے۔یوں انہیں سپریم کورٹ کے سینئرترین تین ججوں کو نظرانداز کرکے چیف جسٹس تعینات کیا تھا۔بعدازاں چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ’الجہاد ٹرسٹ کیس‘میں یہ قرار دیا کہ سینئرترین جج کو ہی چیف جسٹس لگایا جا سکتا ہے۔

نوازشریف اور ان کے چالاک مشیر وں نے اسی چیز کو بنیاد بنا کر چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف سازش کی۔سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کو چیلنج کرایا گیا اور مبینہ طور پرجسٹس رفیق تارڑ جیسے سپریم کورٹ کے سابق ججوں کے اثرورسوخ کو استعمال میں لاکرججوں میں تقسیم پیدا کی گئی۔سپریم کورٹ ججوں کے مابین پہلے سے موجود معمولی ا ختلافات کو بڑھاوا دیا گیا۔نتیجہ میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان آپس میں لڑ پڑے۔نوازشریف نے اپنی ذات کو توہین عدالت کیس میں بچانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ کی توقیر کے ساتھ کھلواڑ کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بغاوت۔۔کب کیا ہوا؟
نوازشریف نے اپنے خلاف توہینِ عدالت کا کیس سننے والے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو نکلوانے کیلئے کام شروع کردیا۔کوئٹہ میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی تعیناتی کیخلاف پٹیشن دائر کر دی گئی جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ جب بینظیر بھٹو حکومت نے سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان تعینات کیا تھا تو وہ سینئرترین جج نہیں تھے۔یوں پانچ جون1994ء کو چیف جسٹس بننے والے سجاد علی شاہ کی تعیناتی کو نومبر 1997ء میں چیلنج کر دیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری نے مُردے سے اپنی اِمپورٹڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی کیسے بھروائی؟

اٹھارہ نومبر 1997ء کو کوئٹہ میں سپریم کورٹ کا ایک دورکنی بینچ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی تعیناتی کے خلاف دائر شدہ پٹیشن کو زیرِ غور لایا۔تاہم کوئٹہ میں سپریم کورٹ کے اس دو رکنی بینچ نے اس درخواست پر کوئی’انٹیرم آرڈر‘ جاری نہیں کیا بلکہ اس کیس کو چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا اور کہا کہ وہ اس پر فل کورٹ تشکیل دیں۔یہ دراصل چیف جسٹس سجاد علی شاہ کیلئے ایک دھمکی تھی کہ وہ نوازشریف کیخلاف زیرِسماعت کیس سے پیچھے ہٹ جائیں۔لیکن انہوں نے نوازشریف کے خلاف کیس میں نرمی دکھانے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈالر کا ریٹ۔۔سال1947ء سے 2023ء تک

نوازشریف کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت 27نومبر1997ء کو ہونا تھی۔اس کیس کی سماعت سے ایک دن قبل یعنی26نومبر1997ء کو سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں ایک اور پٹیشن دائر کی گئی۔یہ پٹیشن اسدعلی نامی شخص کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔اس پٹیشن میں سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ابتدا میں اس پٹیشن کو زیرِغور نہیں لایا گیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ رُولز کے تحت ’اوریجنل جیورِسڈکشن‘ کی پٹیشن کواسلام آباد میں سپریم کورٹ کی’پرنسپل سیٹ‘میں دائر کیا جاسکتا ہے اور وہیں زیرِغورلایا جا سکتا ہے۔(حوالہ،حامد خان کی کتاب’کانسٹی ٹیوشنل اینڈ پولیٹیکل ہِسٹری آف پاکستان‘)

لیکن بعد میں اسی روز کوئٹہ میں دو ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ اس پٹیشن کو زیرِغور لایااور انٹیرم آرڈر جاری کر دیا۔اس انٹیرم آرڈر میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔اس کیس کو ’اسدعلی کیس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کوئٹہ بینچ کے اس انٹیرم آرڈر میں کہا گیا کہ”5جون1994ء کے اس نوٹی فیکیشن،جس کے تحت جسٹس سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس تعینات کیا گیا تھا،کو مزید احکامات تک التوا ء میں رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے اور یہ کہ مزید احکامات تک چیف جسٹس سجاد علی شاہ عدالتی،انتظامی امور اور چیف جسٹس کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔۔“(حوالہ:اسدعلی کیس)

یہ بھی پڑھیں: کیا چیف جسٹس امیر بھٹی کے دور میں لاہورہائی کورٹ نے صرف پی ٹی آئی کے حق میں فیصلے کئے؟

کوئٹہ بینچ کے اس یوٹرن کی وجہ نوازحکومت کا مبینہ اثرورسوخ بتایا جاتا ہے۔نامور وکیل حامد خان نے اپنی کتاب”کانسٹی ٹیوشنل اینڈ پولیٹیکل ہِسٹری آف پاکستان“ میں لکھا ہے کہ”وسیع پیمانے پر افوہیں پھیلیں کہ کوئٹہ بینچ کا یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا جب سپریم کورٹ کے دو ریٹائرڈ ججوں اور ایک وزیراعلیٰ کو خصوصی طیارے پر کوئٹہ لے جایا گیا۔“

اس حوالے سے نوازحکومت نے جن سابق ججوں کو استعمال کیا ان میں ایک مبینہ جج رفیق تارڑ ہیں۔۔۔سپریم کورٹ کے سابق جج رفیق تارڑ پر الزام ہے کہ وہ کوئٹہ میں نوٹوں کے بریف کیس لیکر گئے تھے۔اس حوالے سے بینظیر بھٹو نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ”سابق جج رفیق تارڑ پر ایک سابق صدر فاروق لغاری نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ(تارڑ)1997ء کے ایک مشہور کیس میں دیگر ججوں کو رشوت دینے کیلئے پیسوں کے بریف کیس لیکر گئے تھے۔۔“

نوازشریف کی مبینہ سازش سے سپریم کورٹ کے جج صاحبان ایک دوسرے کی مخالفت میں کھل کر سامنے آگئے اور ایک سپریم کورٹ کی جگہ کئی سپریم کورٹیں بن گئیں۔

چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اسی روز یعنی26نومبر1997ء کو اسلام آباد اپنے چیمبر سے ایک انتظامی آرڈر سے کوئٹہ بینچ کے اس جوڈیشل آرڈر کو معطل کر دیا۔چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنے انتظامی آرڈر میں کہا کہ کوئٹہ رجسٹری کے ججوں نے قانونی اختیار کے بغیریہ آرڈر جاری کیا تھا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے شام 6بجے اپنا یہ انتظامی آرڈرکوئٹہ رجسٹری کو فیکس کر دیا۔

چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے اس انتظامی آرڈر کے ردعمل میں کوئٹہ بینچ اسی شام کو ایک بار پھر نئے آرڈر کے ساتھ سامنے آگیا۔اب دورکنی کوئٹہ بینچ کو ایک اور جج نے جوائن کرلیا۔ اور یوں یہ بینچ تین رکنی ہوگیا۔کوئٹہ بینچ کے ان تین جج صاحبان نے اسی روزشام کو چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے معطلی کے آرڈر کو بھی”معطل“ کر دیا۔

کوئٹہ بینچ کے اس فیصلہ کو 27نومبر1997ء کو اسلام آباد میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے”معطل“ کر دیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے اس بینچ نے قرار دیا کہ اس معاملہ کو اسلام آباد میں پرنسپل سیٹ پر سنا جائے گا۔

جب 27نومبر1997ء کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت کر رہا تھا تو کمرہ عدالت میں ن لیگ کے ممبرانِ پارلیمنٹ اوردیگر حامیوں نے ہنگامہ آرائی کی اور چیف جسٹس پر چلاتے رہے کہ چیف جسٹس کو معطل کیا جا چکا ہے اس لئے وہ بینچ کی سربراہی نہیں کر سکتے۔چِلانے والوں میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے پولیٹیکل سیکرٹری مشتاق طاہر خیلی بھی شامل تھے۔

سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں کی کارروائی
کوئٹہ اور اسلام آباد میں جب یہ سب ہورہا تھا تو اسی دوران 27نومبر1997ء کو سپریم کورٹ کی پشاور رجسٹری میں اسی نوعیت کی ایک پٹیشن دائر کی گئی۔یہ پٹیشن آئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت دائر کی گئی تھی۔پشاوررجسٹری میں سپریم کورٹ کا دورکنی بینچ اس پٹیشن کو 27نومبر1997ء کو زیرغورلایا۔سپریم کورٹ کا پشاور کا یہ دورکنی بینچ جسٹس سعیدالزماں صدیقی اور جسٹس فضل الہی خان پر مشتمل تھا۔اس پٹیشن میں اس نوعیت کی پٹیشن کو اسلام آباد رجسٹری میں دائرکرنے کے رُول کے معاملہ کو نمٹایا گیا اور اس رُول کو ترک کیا گیا۔(نوٹ:سپریم کورٹ رولز1980ء کے مطابق بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے پٹیشن کو آرٹیکل 184(3)کے تحت مین رجسٹری میں ہی دائر کیا جا سکتا ہے)

پشاور کے اس دورکنی بینچ نے انٹیرم آرڈرجاری کیا اور چیف جسٹس سجادعلی شاہ کو بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان کوئی بھی جوڈیشل یا انتظامی آرڈر جاری کرنے سے روک دیا۔اس انٹیرم آرڈر میں سپریم کورٹ رجسٹری کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ فوری اقدامات اٹھا کر اس معاملہ کو سپریم کورٹ کے سینئرترین جج اجمل میاں کے سامنے رکھا جائے اوروہاں سے ایسے کیسز کی سماعت کیلئے مناسب ہدایات حاصل کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری کا توشہ خانہ اسکینڈل

اس موقع پر چیف جسٹس سجادعلی شاہ کے بعد سینئرترین جج جسٹس اجمل میاں نے قائم مقام چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا۔ان حالات میں پشاور بینچ نے 28نومبر1997ء کو جسٹس اجمل میاں کے قائم مقام چیف جسٹس بننے سے انکار کا نوٹس لیا اور جسٹس اجمل میاں سے بعد کے سینئرترین جج سے کہا گیا کہ وہ فل کورٹ تشکیل دیں۔

پشاور بینچ میں اس قسم کا نوٹس لینے کا اختیار جسٹس سعید الزماں صدیقی نے خود سے اپنے ہاتھ میں لیااور انہوں نے خود سے ہی چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات سنبھال لئے۔چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات سنبھالنے کے بعد جسٹس سعید الزماں صدیقی نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف پٹیشن کی سماعت کیلئے اسلام آباد میں پندرہ رکنی فل بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔اس فل بینچ میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس اجمل میاں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ پر حملہ
اٹھائیس نومبر1997ء کو ن لیگ کے حامیوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا۔اس حملہ کا مقصد چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں نوازشریف کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی کارروائی کو روکنا تھا۔ دوسری طرف اسی دن یعنی28نومبر1997ء کو کوئٹہ میں شہری اسدعلی کی چیف جسٹس کے خلاف دائردرخواست پر جسٹس ارشاد حسن خان،جسٹس ناصراسلم زاہد اور جسٹس خلیل الرحمان خان پرمشتمل تین رکنی بینچ نے پشاور بینچ کے 27نومبر1997ء کے فیصلہ کی بنیاد پر قرار دیا کہ ’بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق پٹیشن کو مین رجسٹری،اسلام آباد میں دائر کرنے کا رُول ریگولیٹری نوعیت کا ہے، جسے ترک کیا جاسکتا ہے۔“

سپریم کورٹ کے بیک وقت دو چیف جسٹس آمنے سامنے
یکم دسمبر1997ء کو سپریم کورٹ کیلئے دو الگ الگ کاز لسٹیں جاری کی گئیں۔ایک کازلسٹ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جاری کی جبکہ دوسری دس رکنی بینچ کے جسٹس سعید الزماں صدیقی کی جانب سے جاری کی گئی۔

یکم دسمبر1997ء کو چیف جسٹس سجادعلی شاہ نے جسٹس سعیدالزماں صدیقی کے اس انتظامی آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت جسٹس صدیقی نے چیف جسٹس کے کیس کی سماعت کیلئے فل بینچ بنانے کا کہا تھا۔

اب سپریم کورٹ کے دس جج ایک طرف تھے(جسٹس سعیدالزماں صدیقی کے ساتھ) تو پانچ جج دوسری طرف تھے(چیف جسٹس سجاد علی شاہ کا گروپ)جبکہ جسٹس اجمل میاں نیوٹرل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

دودسمبر1997ء کو چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے مخالف دس رکنی بینچ(جسٹس سعیدالزماں صدیقی گروپ) نے جسٹس اجمل میاں کو حکم دیا کہ وہ فوری طورپر چیف جسٹس کے جوڈیشل اورانتظامی اختیارات سنبھال لیں۔ سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کے اس آرڈر کے بعد جسٹس اجمل میاں نے اسی روز یعنی دودسمبر1997ء کو ’قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان‘ کا عہدہ سنبھال لیا۔اس کے بعد جسٹس سعیدالزماں صدیقی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے ’اسد علی کیس‘ (چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی تعیناتی کے خلاف دائر کیس)کی سماعت شروع کر دی۔

سجاد علی شاہ نے وکلاء تعینات کرکے یہ کیس لڑنے کا فیصلہ کیا۔یہ دس رکنی بینچ چونکہ چیف جسٹس کی جائزاتھارٹی سے نہیں بنا تھا۔اس لئے جسٹس سجاد علی شاہ کی جانب سے کیس میں شمولیت سے انہوں نے خود اس بینچ کو جائز بنادیا۔(حوالہ:حامد خان کی کتاب،کانسٹی ٹیوشنل اینڈ پولیٹکل ہسٹری آف پاکستان)

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

سپریم کورٹ کے اس بینچ نے جسٹس سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کو غیر قانونی،غیر آئینی اور سپریم کورٹ کے الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلہ کے خلاف قرار دے دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ سجادعلی شاہ چیف جسٹس نہیں رہے۔وفاقی حکومت کو حکم دیا گیا کہ سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کو ’ڈی نوٹیفائی‘ کیا جائے اور سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کو نوٹیفائی کیا جائے۔

تئیس دسمبر1997ء کو نوازشریف حکومت نے سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کو ”ڈی نوٹیفائی“ کر دیا اور قائم مقام چیف جسٹس اجمل میاں کو بطور چیف جسٹس آف پاکستان نوٹیفائی کر دیا گیا۔

لڑائی کے اہم کرداروں پر عہدوں کی نوازش
اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خلاف کارروائی کرنے والے چیف جسٹس آف پاکستان سجادعلی شاہ کو سبق سکھانے میں اہم کردارادا کرنیوالے سپریم کورٹ کے موجودہ اور سابق جج صاحبان کو بڑے عہدوں سے نوازدیا۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کامیابی سے نکلوانے میں کردار ادا کرنے پر سپریم کورٹ کے سابق جج رفیق تارڑ کو صدرِپاکستان بنوایا گیا جبکہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کیخلاف لڑائی میں سپریم کورٹ ججوں کی سربراہی کرنیوالے جسٹس سعیدالزماں صدیقی کو نومبر2016ء میں گورنر سندھ تعینات کر دیا گیا۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے