منگل, نومبر 3, 2026
اسکینڈلز

عمران خان کا توشہ خانہ کیس کیا ہے؟

Share

سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کیلئے پی ڈی ایم اوراتحادیوں کی حکومت میں شامل ممبرانِ قومی اسمبلی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63(2)کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی کو4جولائی2022ء کو توشہ خانہ ریفرنس جمع کرایاگیا تھا۔۔۔بعدازاں 4اگست2022ء کو اس ریفرنس کی نقل الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیج دی گئی تھی۔۔۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فریقین کو سننے کے بعد19ستمبر2022ء کو اس کیس کے فیصلہ کو محفوظ کرلیا تھا۔21اکتوبر2022ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو نااہل قراردے دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہل ہونیوالے عمران خان 16اکتوبر2022ء کے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے سات میں سے چھ حلقوں سے جیت کر ریکارڈبنا چکے ہیں۔

Toshakhana Reference filed against Former PM Imran Khan

عمران خان کیخلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کو توشہ خانہ ریفرنس بھیجنے والے ایم این ایز کا تعلق کل چار جماعتوں سے تھا۔۔۔ان میں ن لیگ،پیپلزپارٹی،جے یو آئی ف اور بی این پی کے ایم این ایز شامل تھے۔۔۔ان ایم این ایز کے نام اورسیاسی جماعتوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

بیرسٹر محسن نوازرانجھا(ن لیگ)

آغا حسن بلوچ(بی این پی)

صلاح الدین ایوبی(جے یو آئی ف)

علی گوہر خان(ن لیگ)د

سید آغا رفیع اللہ(پیپلزپارٹی)

سعد وسیم شیخ(ن لیگ)

توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کیخلاف عائد الزامات کی تفصیل
الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے۔ ریفرنس میں عائد شدہ الزامات میں سے اہم ترین نکات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

”۔۔۔وزیراعظم پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے بعدعمران خان قانونی طور پرالیکشن کمیشن آف پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر ”اثاثہ جات اورواجبات کی اسٹیٹمنٹ“ دائر کرنے کے پابند تھے،جس میں انہوں نے مالی سال کے اختتام پر اس متعلقہ مالی سال کے دوران حاصل کردہاپنے،اپنی اہلیہ اورزیرِکفالت افراد کے کل اثاثے اور واجبات(منقولہ و غیر منقولہ) کو ڈیکلیئرکرنا تھا۔

تاہم عمران خان نے جانتے ہوئے اورارادتاًاپنے موصول شدہ اور توشہ خانہ سے خریدے گئے تحائف کو چھپایااور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں حلف کے تحت دائر شدہ اپنی ”اثاثہ جات اورواجبات کی اسٹیٹمنٹ“ میں ان تحائف کوڈیکلیئر نہیں کیا۔ملزم نے ان تحائف کو بیچنے کا اعتراف کیا اوریہ چیز میڈیا میں رپورٹ ہوچکی ہے اور ان تحائف کی فروخت سے ملنے والی رقم کو الیکشن کمیشن میں دائر شدہ اپنی ”اثاثہ جات اور واجبات کی اسٹیٹمنٹ“ میں ڈیکلیئر نہیں کیا۔

14دسمبر2018ء تک کے توشہ خانہ رُولز کے مطابق ایسے موصول شدہ تحائف، جن کی قیمت 30ہزار روپے سے زائد تھی، کو ان کی کل قیمت کی صرف20فیصد قیمت کی ادائیگی کے بعد ملکیت میں رکھنے کی اجازت تھی جبکہ 14دسمبر2018ء کے بعدتحائف وصول کرنے والے کو 30ہزارروپے سے زائد قیمت کے تحائف کو ان تحائف کی 50فیصد قیمت ادائیگی پر اپنے پاس رکھنے کی اجازت تھی۔

عمران خان نے اپنی زندگی کے66برس میں اتنا نہیں کمایا جتنا انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ رکھنے کے پہلے دو ماہ کے دوران توشہ خانہ تحائف سے کمایا۔۔

An other page from Reference

عمران خان اور بشریٰ بی بی نے 18ستمبر2018ء کو سعودی کراؤن پرنس محمدبن سلمان کی جانب سے تحفے میں دی گئی ساڑھے8کروڑ روپے مالیت کی قیمتی گھڑی کو اسکی قیمت کا صرف20فیصد ادا کرکے اپنی ملکیت میں رکھ لیا۔۔تاہم انکی جانب سے اس گھڑی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں متعلقہ مالی سال کیلئے دائر شدہ ”اثاثہ جات اورواجبات کی اسٹیٹمنٹ“ میں ڈیکلیئر نہیں کیاگیا۔عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی دونوں نے کئی رولیکس گھڑیاں،کئی ہار،بریسلیٹس،انگوٹھیاں،جیولری،گولڈpensاور ڈِنر سیٹس کو قلیل سی رقم کی ادائیگی کے بعد اپنی ملکیت میں لیاتاہم انہوں نے متعلقہ برس کیلئے رائج قانون کے تقاضوں کے مطابق حکام کے سامنے توشہ خانہ کے ان تحائف اورٹرانزیکشنز کو ظاہر نہیں کیا۔

اگست2018ء سے دسمبر2021ء کے دوران عمران خان اور انکی اہلیہ کو58تحائف ملے جنکی تخمینہ شدہ کل مالیت14کروڑ20لاکھ روپے ہے۔عمران خان نے ان تحائف کو اپنی ملکیت میں رکھنے کیلئے صرف3کروڑ82لاکھ روپے کی ادائیگی کی۔تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان میں دائرہ شدہ”اثاثہ جات اورواجبات کی اسٹیٹمنٹ“میں اسکا کوئی ذکر نہیں۔

عمران خان نے 8لاکھ روپے مالیت کے کئی تحائف کو بغیر کسی ادائیگی کے اپنی ملکیت میں رکھ لیا۔توشہ خانہ صرف ایسے تحائف کی تفصیلات کو رکھتا ہے جو وزیراعظم کے پروٹوکول افسر کو تھمائے گئے ہوں۔۔ایسے بہت سے تحائف ہیں جو پروٹوکول افسر کی غیر موجودگی میں ڈائریکٹلی وزیراعظم کو دئے گئے تھے۔ایسے تحائف نہ ریکارڈ کئے گئے اور نہ ہی انہیں ڈیکلیئر کیا گیا۔

میڈیا میں بھی وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوا کہ عمران خان کو جو رولیکس گھڑی سعودی عرب کی جانب سے تحفے میں دی گئی اور جسے توشہ خانہ سے20فیصد قیمت کی ادائیگی پرخریدا گیا،کو بعدازاں عمران خان نے بیچ دیا۔ عمران خان نے اعلانیہ تسلیم کیا کہ انہوں نے توشہ خانہ کی تحفے کی گھڑی کی فروخت سے ملنے والی رقم کواپنے گھر کے باہر سڑک کی تعمیر پر لگایا۔ریکارڈ پر ایسا کوئی خرچ موجود نہیں اور عمران خان سے کہا جانا چاہئے کہ وہ اپنے زبانی دعوؤں کو دستاویزی شواہد سے ثابت کریں۔

عمران خان نے اپنے تمام سالانہ اثاثوں کو ”اثاثہ جات اور واجبات کی اسٹیٹمنٹ“ میں ڈیکلیئر کرنے کے قانونی فریضے کی خلاف ورزی کرکے آئین کے آرٹیکل62(1)(f)کی خلاف ورزی کی۔عمران خان کو آرٹیکل62(1)(f)کے معانی میں ایک ایماندار شخص نہیں سمجھا جا سکتا اور حلف پر جھوٹے ڈیکلیریشن اوراثاثے چھپانے کے نتیجہ میں انکی بطور رکنِ پارلیمنٹ فوری نااہلی بنتی ہے اوراعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں وہ کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے کیلئے تاحیات نااہل ہوتے ہیں۔

مذکورہ بالا بیان شدہ حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ ملزم(عمران خان) نے الیکشن کمیشن میں ”الیکشن ایکٹ2017ء“ کے تحت دائرشدہ ”اثاثوں اور واجبات کے بیان“ میں جان بوجھ کر جھوٹا ڈیکلئریشن دیااورتوشہ خانہ تحائف کے ریکارڈ اورٹرانزیکشنز کو چھپاکر اپنے اثاثوں اوردولت کو حکام سے چھپایا۔حکومت کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے ملزم پر اضافی وزن تھا کہ وہ قانون کے مطابق ایمانداری سے اپنے فرائض کو سرانجام دیتے اور اس عہدہ پر کام کے دوران ان پر فرض تھا کہ وہ صادق اورامین رہتے تاہم بدقسمتی سے وہ اپنے فرائض کی انجام

دہی میں ناکام رہے اور انہوں نے حلف پر جھوٹ بولا۔

تین برس تک پاکستان کو موصول شدہ تحائف اورٹرانزیکشنز کو چھپانے کے بعد جب ملزم(عمران خان) کیخلاف کرپشن اسکینڈل سامنے آیا تو میڈیا میں یہ رپورٹ ہوا کہ ملزم نے مالی سال2020-21ء کے اپنے ٹیکس ریٹرن میں توشہ خانہ سے متعلق ایک اینٹری کو ڈیکلیئرکیا ہے۔تاہم کوئی بھی ڈیکلیئریشن،جسے سال2018-19ء میں کیا جانا تھا،اور جونہیں کیا گیا تھا،وہ غیرقانونی اورغیرآئینی ہے اور جس سے عمران خان کی آئین کے آرٹیکل62(1)(f)اورالیکشن ایکٹ2017ء کے سیکشن137کے تحت نااہلی بنتی ہے۔“

“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے