اراکینِ پارلیمنٹ،مسلح افواج اوراعلیٰ عدلیہ کی گاڑیاں قومی شاہراہوں اورموٹرویز پر ٹول ٹیکس نہ دینے والوں میں شامل،پارلیمنٹ میں انکشاف
قومی اسمبلی کے19اکتوبر2022ء کو ہونیوالے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کی مختلف شاہراہوں اورموٹرویز پر سفرکرنیوالی عوام کی گاڑیوں کی جانب سے صرف چار ماہ میں ساڑھے10ارب روپے سے زائد کی رقم ٹول ٹیکس کی مد میں جمع کرائی گئی جبکہ ملک کی طاقتورحکمران اشرافیہ جس میں اراکینِ پارلیمنٹ،اعلیٰ عدلیہ کے ممبران اورمسلح افواج شامل ہیں،ٹول ٹیکس استثنیٰ کے مزے لیتی رہی ہیں۔ایم این ایز،سینیٹرز،سپریم کورٹ اور مسلح افواج کی گاڑیوں سے ٹول ٹیکس کی بھاری رقم کی وصولی نہیں کی گئی۔
پارلیمنٹ میں ہونیوالے اہم انکشافات کی تفصیل
19اکتوبر2022ء کو قومی اسمبلی اجلاس کے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کوتحریری طورپر کئی اہم حقائق سے آگاہ کیاگیا۔۔مختلف وزارتوں کی جانب سے ایم این ایز کے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں اہم حقائق سے پردہ اٹھایا گیا۔قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات میں سے چند اہم ترین حقائق کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

چار ماہ میں 10.53ارب ٹول ٹیکس جمع کیا گیا
ایک سوال کے جواب میں وزیرِمواصلات اسدمحمود کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحریری طور پر بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی مختلف شاہراہوں اورموٹرویز سے 10.53ارب روپے مالیت کا ٹول ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔وزارتِ مواصلات کے مطابق 11اپریل2022ء سے جولائی2022ء تک ساڑھے10ارب سے زائد ٹول ٹیکس کی مد میں اکٹھے کئے جا چکے ہیں۔چار ماہ میں جمع شدہ ٹول ٹیکس کی ہر ماہ کے حساب سے تفصیل کچھ یوں ہے:۔
اپریل2022ء میں 1.95ارب مالیت کا ٹول ٹیکس جمع کیاگیا
مئی2022ء میں 2.90ارب روپے مالیت کا ٹول ٹیکس جمع کیا گیا
جون2022ء میں بھی 2.90ارب روپے مالیت کا ٹول ٹیکس جمع کیا گیا
جولائی2022ء میں 2.8ارب روپے مالیت کا ٹول ٹیکس جمع کیا گیا
ٹول ٹیکس نہ دینے والے طاقتور افراد اورادارے
وزارتِ مواصلات کی جانب سے قومی اسمبلی کو فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں کئی طاقتور افراد اور ادارے ٹول ٹیکس سے چھوٹ کے مزے لے رہے ہیں۔ان افراد اوراداروں کی گاڑیوں پرٹول ٹیکس سے استثنیٰ این ایچ اے کی منظور شدہ ٹولینگ پالیسی(Tolling Policy) کے تحت دیا جارہا ہے۔دستاویزات کے مطابق درج ذیل اداروں اورافرادکی گاڑیوں کو قومی شاہراہوں اورموٹرویز پر ٹول ٹیکس بھرنے سے چھوٹ دی گئی ہے:۔
1۔پاکستان کی مسلح افواج کی گاڑیاں
2۔ایمبولینسز
3۔فائربریگیڈز
4۔صوبائی پولیس
5۔سپریم کورٹ اورہائی کورٹس کے جھنڈوں والی گاڑیاں
6۔ہائی وے اورموٹروے پولیس
7۔قومی اسمبلی اورسینیٹ کے اراکین
ایران اورروس سے تیل اورگیس کی خریداری کا معاملہ
وزارتِ توانائی کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ عالمی پابندیوں کے باعث ایران سے کروڈآئل اورپیٹرولیم مصنوعات کی خریداری نہیں کی جارہی۔وزارت کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ایران پر ان پابندیوں کی موجودگی میں وہاں سے اِمپورٹ کی کوئی بھی سرگرمی سنجیدہ ایشوز کو جنم دے سکتی ہے،جو کہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔
وزارتِ توانائی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان ’ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ‘ کی مدد سے ایران سے قدرتی گیس کو اِمپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث اس منصوبے کی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں۔پاکستان ابھی بھی اس منصوبے کیلئے پرعزم ہے تاہم ایران پرعالمی پابندیوں کا معاملہ حل ہونے کی صورت میں ہی اس منصوبے کی سرگرمیوں کو دوبارہ سے شروع کیا جا سکتا ہے۔
وزارتِ توانائی کے مطابق روس سے کروڈ آئل کے حصول کے عمل میں یوکرین کی جنگ کے باعث کچھ ایشوز ہیں۔۔اس کے علاوہ روس سے تیل کی خریداری کے قابلِ عمل ہونے میں ٹیکنیکل،کمرشل اورٹرانسپورٹیشن ایشوز ہیں۔وزارت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام مسائل کے باوجود روس کے کروڈ آئل کو استعمال کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں تاہم ابتدائی اسیسمنٹ (assessment) میں یہ عندیہ ملا ہے کہ روس میں مختلف طرح کے کروڈز (crudes)پیدا کئے جاتے ہیں جو کہ مقامی ریفائنریز کی جانب سے استعمال ہونیوالے کروڈز سے بھاری ہیں،اس لئے مختلف قسم کے روسی کروڈآئل کی دستیابی کی صورت میں اسکی تفصیلی ٹیکنیکل،کمرشل اورٹرانسپورٹیشن viabilityاینالسز کرنے کی ضرورت ہے۔
خواتین پر تشددکے63ہزار سے زائد کیسز کا انکشاف
وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال2019ء سے سال 2021ء کے دوران تین برس کے عرصہ میں ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے کل 63,367کیسز کا اندراج ہوا۔خواتین پر تشدد کے واقعات کی اتنی بڑی تعداد لرزہ خیز ہے۔وزارت انسانی حقوق کے مطابق خواتین پر تشدد کے یہ اعدادوشمار ملک بھر کے تمام آئی جی پولیس اورنیشنل پولیس بیورو(NPB) کی جانب سے فراہم کئے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں خواتین پرتشدد کے درج شدہ کیسز کی سال وار تفصیل کچھ یوں ہے:۔
سال2019ء میں خواتین پر تشدد کے کل 25,389کیسز کا اندراج ہوا
سال2020ء میں خواتین پر تشدد کے کل 23,789کیسز کا اندراج ہوا
سال2021ء میں خواتین پر تشدد کے کل 14,189کیسز کا اندراج ہوا
وزارتِ انسانی حقوق کے مطابق گزشتہ تین برس میں ریپ اور گینگ ریپ کے رجسٹرڈ شدہ کیسز کی تعداد11,160ہے۔ریپ اور گینگ ریپ کے کیسز کی سال وار تفصیل کچھ یوں ہے:۔
سال2019ء میں ملک بھر میں ریپ کے 4377کیسز کا اندراج ہوا جبکہ اس برس گینگ ریپ کے کل 260کیسز کا اندراج ہوا۔
سال2020ء میں ملک بھر میں ریپ کے کل 3887کیسز کا اندراج ہوا جبکہ اس برس گینگ ریپ کے کل 246کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔
سال2021ء میں ملک بھر میں ریپ کے 2253کیسز درج ہوئے جبکہ اس برس گینگ ریپ کے رجسٹرشدہ کیسز کی تعداد137ہے۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
