منگل, اکتوبر 27, 2026
انتخابات

پنجاب اور خیبرپختونخوااسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ آرڈر کے اہم نکات

Share

پنجاب اورخیبرپختونخوااسمبلیوں میں انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے تین۔دو کی اکثریت سے آئین کے مطابق نوے روز میں الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے اور آئین کے آرٹیکل112کے تحت 48گھنٹوں بعد اسمبلی خودبخودٹوٹنے کی صورت میں الیکشن کی تاریخ دینے والی اتھارٹی’صدرِپاکستان‘ کو قرار دے دیا ہے۔چیف جسٹس عمرعطابندیال،جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر نے اکثریتی فیصلہ دیا ہے جبکہ جسٹس سید منصور علی شاہ اورجسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی فیصلہ دیا ہے

سپریم کورٹ بینچ ممبران

چیف جسٹس عمرعطابندیال(سربراہ بینچ)
جسٹس سید منصور علی شاہ
جسٹس منیب اختر
جسٹس جمال خان مندوخیل
جسٹس محمد علی مظہر

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟

Elections Date Case: Screenshot of SC Order dated 1st March, 2023.

اکثریتی فیصلہ۔۔اہم نکات


پنجاب اورخیبرپختونخوا اسمبلیوں میں انتخابات سے متعلق اَز خودنوٹس کیس کے یکم مارچ2023ء کے تحریری حکم نامہ میں سے اہم نکات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

اکثریتی فیصلہ کے پیرا10میں کہا گیا ہے کہ’جب اسمبلی گورنر کے آرڈر کے بغیر تحلیل ہوگی تو اس صورت میں الیکشن کی تاریخ دینے کی آئینی ذمہ داری صدر کی ہوگی،جیسا کہ الیکشن ایکٹ2017ء کے سیکشن57ایک میں بیان کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف دور میں سپریم کورٹ ججوں کو آپس میں کیسے لڑایا گیا تھا؟بریف کیس کیسے جیتے تھے؟

حکم نامہ کے پیرا11میں کہا گیا ہے کہ’چونکہ صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں الیکشن آئین میں بیان شدہ دورانئے کے اندر ہونا ہوتے ہیں،اس لئے گورنر یا صدر کوالیکشن کی تاریخ جلد از جلداور بغیر کسی تاخیر کے مقرر کرنا چاہئے اور الیکشن کمیشن کو صدر یا گورنر کیلئے دستیاب ہونا چاہئے اورانتخابات کی تاریخ پر مشاورت کیلئے تیار ہونا چاہئے۔‘

پیرا13میں کہا گیا ہے کہ ’صدر کا 20فروری2023ء کا حکم نامہ آئینی طور پر مجاز ہے اور اس کے پنجاب اسمبلی پر اطلاق کی ہماری جانب سے توثیق کی جاتی ہے مگر یہ آرڈر کے پی کے اسمبلی کے حوالے سے آئینی طور پر غیرمؤثر ہے،اس لئے اسے کالعدم قراردیا جاتا ہے۔

پیرا13میں مزید کہا گیا ہے کہ ’چونکہ کے پی کے اسمبلی کے گورنر نے الیکشن کی تاریخ نہیں دی،اسلئے انکی جانب سے اپنی آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔‘

پیرا14میں کہا گیا ہے کہ ’عام حالات میں پنجاب اسمبلی کا جنرل الیکشن 20فروری2023ء کو صدر کی جانب سے اعلان شدہ تاریخ9اپریل2023ء کے مطابق ہونا چاہئے تھا تاہم ہمیں بتایا گیا کہ انتخابات کی تاریخ میں تاخیر کے باعث آئین میں فراہم شدہ90روز کی ڈیڈلائن کو پوراکرنا ممکن نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ فوری طور پر صدر کو الیکشن کی ایسی تاریخ تجویز کریں جو مذکورہ بالاڈیڈلائن سے مطابقت رکھتی ہو اور اس مقصد کیلئے الیکشن کمیشن انتہائی کوشش کرے۔اگر اایساکرنا ممکن نہ ہو تو پھر الیکشن کمیشن ایسی تاریخ تجویز کرے جو مذکورہ بالا ڈیڈلائن سے کم ازکم انحراف کرتی ہو۔‘

پیرا15میں آئین کے آرٹیکل220کا بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وفاق اور بالخصوص وفاقی حکومت پر الیکشن کمیشن کو الیکشن کے انعقاد کیلئے درکار تمام سہولیات بشمول اہلکار اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے اور اسی طرح صوبے کی نگران حکومتوں پر بھی ایسی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اقلیتی فیصلہ کے اہم نکات


جسٹس سیدمنصورعلی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی نوٹ میں سے اہم نکات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

اختلافی نوٹ کے پہلے پیرے میں کہا گیا ہے کہ:۔
ایک۔کیس کے حالات اور حقائق کے مطابق جس طر ح اَزخودکارروائی کو آرٹیکل184(3)کے تحت ٹیک اَپ کیا گیا، وہ مکمل طور پر بلاجواز ہے۔۔اس کے علاوہ ازخودکارروائی کو غیر ضروری جلدی میں شروع کیا گیا۔

دو۔یہ اَز خود کیس اوراس حوالے سے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر دو آئینی درخواستیں منظور الہیٰ اوربینظیر بھٹو کیس میں طے شدہ اصولوں کی روشنی میں اس عدالت کی ’اوریجنل جیورِس ڈکشن‘کو حرکت میں لانے کیلئے موزوں کیس نہیں بناتیں، اس لئے یہ ناقابلِ سماعت ہیں کیونکہ اسی نوعیت کے قانونی اور آئینی ایشوز لاہور اور پشاور ہائی کورٹ میں زیرِسماعت ہیں۔

تین۔لاہور ہائی کورٹ کا10فروری2023ء کا فیصلہ ابھی تک موجود ہے اور اس فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلیں بھی زیرِالتواء ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

چار۔جب کوئی آئینی ایشو کسی صوبائی ہائی کورٹ میں زیرِالتواء ہو تو پھر ہمارے آئین کے وفاقی ڈھانچے اور صوبے کی اعلیٰ عدالت کی خودمختاری وآزادی کو مدنظررکھتے ہوئے،اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے بلکہ اسے سپورٹ کرنا چاہئے تاکہ صوبائی خودمختاری کو تقویت ملے اور ہمیں صوبائی آئینی عدالتوں کی خودمختاری کو کمزور کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

پانچ۔ہائی کورٹس کے سامنے موجودکارروائی غیرمعمولی تاخیر کا شکار نہیں بلکہ درحقیقت (سپریم کورٹ کی)موجودہ کارروائی نے ہائی کورٹس کے سامنے معاملہ کو غیرضروری طور پر تاخیر کا شکار کیا ہے۔تاہم معاملہ کی اہمیت کے مدنظر ہم توقع کرتے ہیں کہ متعلقہ ہائی کورٹس آج سے تین وَرکنگ روز کے اندر اپنے سامنے موجودمعاملہ کو نمٹائیں گی۔

چھ۔بہتر یہ ہوگا کہ اس طرح کے معاملات پارلیمنٹ کی جانب سے نمٹائے جائیں۔

اختلافی نوٹ کے دوسرے پیرے میں کہا گیا ہے کہ’ہم جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہرمن اللہ کے 23فروری2023ء کے آرڈرز سے اتفاق کرتے ہیں اور موجودہ آئینی درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے ازخودکارروائی کو ڈراپ کرتے ہیں۔

اہم فُٹنوٹ


اختلافی نوٹ کے آخری پیرے میں وضاحت کیلئے فُٹ نوٹ دیا گیا ہے،جو بہت اہم ہے اور جس کو بنیاد بنا کر پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کی حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آج کے پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ دراصل تین۔دو سے انکے خلاف نہیں بلکہ چار۔تین سے انکے مؤقف کے حق میں آیا ہے۔

Suo Motu Regarding Holding of General Elections to the Provincial Assemblies of Punjab and Khyber Pakhtunkhwa v.:Important Footnote from Minority Judgement. PDM and allies Govt is relying on this footnote to interpret Today’s Judgement in their own favor.

اقلیتی فیصلہ کے فُٹ نوٹ میں کہا گیا ہے کہ’ابتداء میں اس کیس کی سماعت نو رکنی بینچ نے کی تھی۔۔جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے درخواستیں خارج کرنے کا فیصلہ دیا اور بعد ازاں دو جج ذاتی وجوہات کی بنا پر بینچ سے الگ ہوگئے۔ اسکے بعد27فروری2023ء کے حکم نامہ سے پانچ رکنی بینچ کی تشکیل ہوئی۔مذکورہ معزز جج صاحبان کے23فروری کے فیصلے اس کیس کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔‘

SC Order where all members referred the matter to Chief Justice for reconstitution of the bench.

سپریم کورٹ کے آج کے اقلیتی فیصلہ میں جسٹس یحییٰ آفریدی اورجسٹس اطہرمن اللہ کے 23فروری2023ء کے فیصلوں سے اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کامطلب ہے کہ جسٹس منصورعلی شاہ اورجسٹس جمال خان مندوخیل نے جسٹس یحییٰ آفریدی اورجسٹس اطہرمن اللہ کے 23فروری2023ء کے فیصلوں کو اپنانے ہوئے انکے اضافی نوٹ کے ساتھ اتفاق کیا ہے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہرمن اللہ کے 23فروری2023ء کے اضافی فیصلوں میں کیا تھا۔۔۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا نوٹ

جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں الیکشن میں تاخیر کے حوالے سے دائر تینوں درخواستوں کو مستردکیا ہے

یہ بھی پڑھیں: ڈالر کا ریٹ۔۔سال1947ء سے 2023ء تک

جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ کے آغاز میں کہا ہے کہ ’بادی النظر میں یہ درخواستیں آرٹیکل184(3)کے دائرہ کار میں آتی ہیں تاہم چونکہ یہ امور لاہورہائی کورٹ او رپشاورہائی کورٹ میں زیرِالتواء ہیں اس لئے آرٹیکل184(3)کے تحت عدالتی دائرہ اختیارکوحرکت میں لانا عدالتی لحاظ سے مناسب نہیں ہوگا۔

Additional Note of Justice Yahya Afridi dated 23rd Feb, 2023.

جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزیدلکھا ہے کہ ان کی جانب سے ان درخواستوں کی سماعت کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا تاہم وہ بینچ کا حصہ رہنے سے متعلق فیصلہ کرنے کا معاملہ چیف جسٹس پر چھوڑتے ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ کا نوٹ


جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہے کہ ’چیف جسٹس کا حکم نامہ اوپن کورٹ میں ہونیوالی کارروائی اور لکھوائے گئے حکم نامہ کے مطابق نہیں نظرآتااور پنجاب اور خیبرپختونخواہ اسمبلیوں کی تحلیل کی آئینی حیثیت سے متعلق سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔۔

جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا ہے کہ’اسمبلیوں کی تحلیل کی آئینی حیثیت سے متعلق سوالات بنیادی حقوق کی زیادہ سنگین خلاف ورزیوں بارے ہیں۔‘

Additional Note of Justice Athar Minallah dated 23rd Feb, 2023.

جسٹس اطہرمن اللہ نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے اضافی نوٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ یہ امور صوبے کی آئینی عدالت کے سامنے زیرِالتواء ہیں،اس لئے سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی حیثیت قبل اَزوقت کی ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے اپنے نوٹ میں مزید لکھا ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل کی آئینی حیثیت سے متعلق انہوں نے سوال تجویزکیا تھا اور چیف جسٹس نے ان مجوزہ سوالوں کو زیرِغور لانے کی حامی بھری تھی۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے لکھا ہے کہ آرٹیکل184(3)کے تحت معاملہ کو فُل کورٹ کی جانب سے سنا جانا چاہئے۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے