منگل, نومبر 3, 2026
انتخابات

اخترمینگل کی ن لیگی قیادت کیخلاف چارج شیٹ

Share

پی ڈی ایم کی جانیوالی حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت ’بلوچستان نیشنل پارٹی‘ کے صدر اختر مینگل نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے نام شکوے شکایتوں بھرا ایک اہم خط لکھا ہے۔ اس خط میں اخترمینگل کی جانب سے ن لیگی قیادت سے کئی حوالے سے شکایات کی گئی ہیں۔ درحقیقت خط کے مندرجات شہبازشریف کی سربراہی میں بننے والی حکومت کیخلاف چارج شیٹ ہے۔

اخترمینگل صاحب نے اپنے اس خط کو ٹویٹ کی شکل میں شیئر بھی کیا ہے۔ اس خط کا مکمل متن کچھ یوں ہے:۔

محترم جناب میاں محمد نواز شریف صاحب

امید ہے آپ بمعہ اہلِ خانہ خیریت سے ہونگے میرا آج کا میسج گزشتہ میسج مورخہ ۲۲ جولائی ۲۰۲۲ کا تسلسل ہے،کیونکہ جن مسائل کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا، کاش کہ اُن میں کمی آتی لیکن حسبِ روایت ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کا الزام کسی پر ڈالنے کے بجائے ہم اپنی شومئی قسمت کو ہی ٹھہرائیں تو بہتر ہوگا۔۔۔وہی بلوچستان وہی جبری گمشدگیاں۔۔سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسئلے کے حل کی کوشش،سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی طرف آس لگانا یا اُن کی مشاورت سے مسئلے کا حل تلاش کرنا۔۔۔!!!

میاں صاحب، ہم پر جو گزری یا گزر رہی ہے وہ ہماری قسمت لیکن حیرانگی اس بات سے ہے، جو آپ لوگوں پر گزری اُس سے ابھی تک سبق نہیں سیکھا۔۔۔ ہمیں جنرل ایوب سے لیکر جنرل مشرف کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں لیکن آپ کی جماعت جنرل مشرف اور جنرل باجوہ کی سازشوں اور غیر آئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کرکے ایک بار پھر رات کی تارکیوں میں بغیر اتحادیوں کو اعتماد میں لئے قانون سازی کرکے،جمہوری اداروں کو کمزور کرکے،غیر جمہوری طاقتوں کو مزید طاقتور کرکے جمہوریت کے تابوت میں مزید کیلیں ٹھوکنے کے مترادف ہوگا۔ انسانی حقوق کے برخلاف قانون سازیاں شاید ہم سے زیادہ مستقبل میں آپ حضرات کے ہی خلاف استعمال کی جائینگی کیونکہ ہم بلوچستان کے باسیوں کو روزِاول سے انسان سمجھا ہی نہیں گیا۔

سی پیک سے اہلِ بلوچستان کو کیا حاصل ہوا، آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔ کتنے موٹروے، بجلی اور شمسی توانائی کے منصوبے، میٹرو ٹرینوں اور بسوں سے لے کر صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے لے کر پینے کے پانی کے جو منصوبے اور سہولتیں مہیا کی گئی ہیں وہ دنیا کی ترقی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔
موجودہ دور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام بمقام لاہور کا بھی اعلان کیا گیا جو میں سمجھتا ہوں بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کریگا، گوادر ائیرپورٹ کا نام بجائے کسی بلوچستان کی سیاسی یا سماجی شخصیت کے کسی ایسے شخص کے نام کردیا جس کے نام سے شاید ہی بلوچستان کے لوگ واقف ہوں، گزشتہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی جوکہ تقریباً دوکروڑ چوبیس لاکھ کے قریب بنتی تھی CCI کی میٹنگ میں تیہتر لاکھ کم کرکے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے؟

کسی بھی اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لئے بغیرفیصلے کرنا بد اعتمادی ہی کو دوام بخشے گی۔۔ بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان نفرتوں کی مٹی سے بنائے گئے اُن میناروں کی اونچائی اور مضبوطی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوسکتا ہے ۔اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی مستقبل میں آنے والی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لئے قانون بنائے اور توڑے بھی جاتے ہیں لیکن اُس کے برعکس اہلِ بلوچستان کو اپنے پیاروں کیلئے آوز اٹھانا اور آنسو بہانہ بھی خلافِ قانون ہے۔

آپ کی گزشتہ دو دورِ حکومت میں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہم پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یہ تصور اور خیال کر بیٹھے کہ شاید اُن تلخ تجربات کے بعد آپ کی جماعت کو اب احساس ہوگیا ہوگا لیکن آپ کی جماعت نے ہمیں پہلے بھی غلط ثابت کیا اور اب بھی۔۔کاش کہ ہمیں مطالعہ پاکستان کی نصاب کی کتابوں میں گزشتہ 76 سالہ تاریخ پڑھائی جاتی تو شاید ہم تاریخ سے سبق حاصل کرتے لیکن اب تو ہم اور آپ تاریخ کے سامنے صرف اور صرف جواب دے ہیں اور جواب دیتے رہیں گے۔

اور آج وزیرِ اعظم کی ایسے شخص کی نامزدگی کے جس کی بحیثیت وزیر اعظم ہمارے لئے نہ کہ سیاست کے دروازے بند کرلئے گئے بلکہ آپ کے اسطرح کے اس طرح کے فیصلوں نے ہم اور آپ میں مزید دوریاں پیداکردیں۔

خیراندیش
محمد اختر مینگل
13اگست2023ء


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے