ہفتہ, اکتوبر 31, 2026
عدالتی فیصلے

الیکشن کیلئے فنڈز کی کمی کا بہانہ:سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کا سفید جھوٹ کیسے پکڑا؟

Share

چودہ اپریل2023ء کی سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ عہدیداران نے عدالت میں سماعت کے دوران انکشاف کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی کسٹڈی،کنٹرول اور زیرِانتظام وفاقی حکومت اور وفاق کے 1410ارب روپے پڑے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ اسٹیٹمنٹ کے مطابق 12اپریل2023ء کی تاریخ تک اسٹیٹ بینک کے پاس 17 مختلف اکاؤنٹس میں وفاق/وفاقی حکومت کے کل1409ارب 96کروڑ روپے مالیت کے فنڈز موجود ہیں۔ان میں 1392ارب65کروڑ روپے کی رقم اکاؤنٹ نمبر ایک میں موجود ہے اور یہ وہ اکاؤنٹ ہے جس کے پیسے کسی خاص مقصد کیلئے مختص نہیں۔ اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق اس اکاؤنٹ میں سے 21ارب روپے کو دوصوبوں میں الیکشن کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے دو صوبوں میں آئینی تقاضے نبھانے کیلئے الیکشن انعقاد کی مد میں صرف21ارب روپے کی رقم درکار ہے جو اسٹیٹ بینک کے پاس موجود وفاق کے فنڈز1410ارب روپے کا صرف ڈیڑھ فیصد بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوازشریف نے1997ء میں سپریم کورٹ ججوں کو آپس میں کیسے لڑایا تھا؟

عدالت میں اعلیٰ ترین سرکاری عہدیداران کے انکشافات نے وفاقی حکومت کے اس جھوٹ کو بری طرح سے بے نقاب کردیا ہے کہ الیکشن کیلئے وفاق کے پاس فنڈز کی کمی ہے۔ وفاقی حکومت کا یہ سفید جھوٹ سرکاری اداروں اور وفاق کے ماتحت وزارتوں کے حکام کی دستاویزات اور ریکارڈ نے جھٹلا دیا ہے اور یہ اب سپریم کورٹ کے 14اپریل2023ء کے تحریری حکمنامے کا حصہ بن چکا ہے۔

عدالت میں کونسے بیوروکریٹس،عہدیداران موجود تھے؟
چودہ اپریل کی سماعت کے دوران عدالت میں درج ذیل سرکاری عہدیداران موجود تھے:۔
سیماکامل،قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان
عنایت حسین چوہدری،ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان
قادربخش،ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک آف پاکستان
اویس منظور سمرا،اسپیشل سیکرٹری فنانس
عامر محمود،ایڈیشنل سیکرٹری
تنویربٹ،ایڈیشنل سیکرٹری
عمرحمید خان،سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان
محمد ارشد،ڈی جی لاء،الیکشن کمیشن آف پاکستان
ظفراقبال،اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان
تفاخر علی اسدی،اے ڈی جی بجٹ
منصورعثمان اعوان،اٹارنی جنرل فار پاکستان

تفصیل،سپریم کورٹ کے تحریری حکمنامے سے
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ (چیف جسٹس عمرعطا بندیال،جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس منیب اختر)نے 4اپریل2023ء کے حکم نامہ کے نفاذ کیلئے دائر آئینی درخواست میں 14اپریل2023ء کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔سپریم کورٹ کا یہ حکم نامہ 9صفحات اور7پیروں پر مشتمل ہے:۔

اس آرڈرکے اہم نکات کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔

حکم نامہ کے پہلے پیرے میں کہا گیا ہے کہ:۔
”۔۔۔۔ہمارے احکامات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر نے عدالت میں ایک اسٹیٹمنٹ پیش کی ہے،جس میں وفاق /وفاقی حکومت کے ان فنڈز کی تفصیل ہے،جو اسٹیٹ بینک کی کسٹڈی،کنٹرول اور زیرِانتظام ہیں۔(اس کے بعد آرڈر میں اسٹیٹ بینک کی اسٹیٹمنٹ دی گئی ہے) اسٹیٹمنٹ کے مطابق 12اپریل2023ء کی تاریخ تک اسٹیٹ بینک کے پاس 17 مختلف اکاؤنٹس میں 1409ارب 96کروڑ روپے مالیت کے فنڈز موجود ہیں۔اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر کے مطابق یہ رقوم ’فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈ‘کے زمرے میں آتی ہیں۔اسٹیٹمنٹ کا پہلا اکاؤنٹ(اکاؤنٹ نمبر ایک) نان فوڈکے نام سے ہے اور اس میں کل 1392ارب65کروڑ کی رقم موجود ہے۔پہلے اکاؤنٹ میں موجود ہ رقم ان 17اکاؤنٹس میں سب زیادہ ہے اورفنڈز کا 98.77فیصدہے۔قائم مقام گورنر کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ اکاؤنٹ نمبر ایک میں موجود یہ رقم کسی خاص مقصد کیلئے مختص شدہ رقم نہیں ہے۔مزید یہ کہ اس اکاؤنٹ میں موجود فنڈز ساکن یا جامدفنڈز نہیں کیونکہ اس میں باقاعدہ طور پر فنڈز آتے ہیں اور حکومتی اخراجات کیلئے اس اکاؤنٹ سے فنڈز کو ریلیز بھی کیا جاتا ہے۔اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر کے مطابق اکاؤنٹ نمبر ایک کے علاوہ بقیہ اکاؤنٹس مخصوص مقاصد کیلئے ہیں۔“

حکم نامہ کے دوسرے پیرے میں کہا گیا ہے کہ:۔
”۔۔۔قائم مقام گورنر سے کہا گیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ اسمبلیوں کے انتخابات کیلئے 21ارب روپے درکار ہیں۔ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان فنڈز کی،اسٹیٹ بینک کے پاس موجود وفاقی حکومت کے فنڈزبالخصوص اکاؤنٹ نمبر ایک کے فنڈز سے دستیابی ہو سکتی ہے؟قائم مقام گورنر کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ اگر عدالت ایسی ہدایت اورحکم جاری کرے تو ایسا ہوجائے گا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے مزید تصدیق کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو فنڈز کی ضروری ٹرانزیکشن کا عمل،تاکہ الیکشن کمیشن کو 21ارب فوری دستیاب ہوجائیں اورقابل استعمال ہوں،جلد ازجلد کی جا سکتی ہے اورایسا سوموار17اپریل2023 تک ہو سکتاہے۔“

یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟

حکم نامہ کے تیسرے پیرے میں کہا گیا ہے کہ:۔
”۔۔۔وزارتِ خزانہ/فنانس ڈویژن کی ٹیم کی سربراہی اسپیشل سیکرٹری اویس منظور سمرا کی جانب سے کی گئی۔سیکرٹری کی جانب سے فاضل اٹارنی جنرل کی معاونت سے حکومتِ پاکستان کی مالی پوزیشن کے حوالے سے عدالت کو پریزینٹیشن دی گئی۔ پریزینٹیشن بالخصوص آئی ایم ایف کی موجودہ اور زیرِالتواء عالمی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی دی گئی۔عدالت میں پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ واضح ہوگیا کہ انتخابات کے آئینی مینڈیٹ کو پورا کرنے کیلئے 21ارب کا اجراء وفاقی حکومت کی ذمہ داریوں میں ”معمولی اضافہ“ کے مترادف ہوگا۔درحقیقت اسے خاص مالی تناظر سے دیکھا جائے تو یہ رقم برائے نام ہوگی۔ وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت باقاعدگی سے فنڈز ادھار لینے کو بانڈمارکیٹس میں جاتی رہی جو کہ مجموعی طور پر ہر برس کھربوں روپے تک جا پہنچتی ہے۔اس سلسلہ میں وفاقی حکومت کے بی ہاف پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے باقاعدہ بنیاد پر ٹریژری بلز جاری کئے جاتے تھے اور اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو زیرِغور رقم سے کوئی بامعانی اثر یا فرق نہیں پڑے گا۔وزارتِ خزانہ کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی کہ اگر عدالت نے 21ارب فنڈز کی کمیشن کو فوری دستیابی کے پراسس کے احکامات دئے تو ایسا جلد ہوگااور17اپریل2023ء تک ہوگا۔“

حکم نامہ کے چوتھے پیرے میں کہا گیا ہے کہ:۔
”۔۔۔ہماری نظر میں اسٹیٹ بینک اور وزراتِ خزانہ کی پریزینٹیشنز کی اسسمنٹ کی بنیاد پر،اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ الیکشن کمیشن کو درکار 21ارب روپے کی دستیابی فوری اور ایک دن میں کی جا سکتی ہے۔جہاں تک فنڈز کی منتقلی کا درست میکانزم کا تعلق ہے توالیکشن کمیشن کی سیکرٹری عمرحمید خان کی سربراہی میں ٹیم کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو دستیاب فنڈز اور استعمال کیلئے درکار فنڈز اے جی پی آر میں رکھے جاتے ہیں۔(اسکے بعد AGPRسے فنڈز کی الیکشن کمیشن کو دستیابی کا طریقہ ڈسکس کیا گیا ہے)یہ فنڈز پنجاب اور کے پی اسمبلی انتخابات کے خاص مقصد کیلئے ہونگے اور مناسب آڈٹ سے مشروط ہونگے۔“

یہ بھی پڑھیں: زرداری کی جانب سے بینظیربھٹو کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کا اسکینڈل

چوتھے پیرے میں مزید کہا گیا ہے کہ:۔
”۔۔۔تمام حکام اور ٹیموں کی جانب سے عدالت میں تصدیق کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے فنانس ڈویژن کو ایک مناسب کمیونیکیشن بھیجی جائے گی کہ پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات کے مقصد کیلئے 21ارب مالیت کے فنڈز ’اکاؤنٹ نمبر ایک‘ سے الیکشن کمیشن کو مختص ہوگئے اور اس کے بعد اسی روز فوری طور پرفنانس ڈویژن کی جانب سے AGPRکو مناسب کمیونی کیشن بھیجی جائے گی جس میں ہدایت ہوگی کہ الیکشن کمیشن کیلئے مختص آئی ڈی کے فنڈز میں 21ارب کو بڑھایا جائے۔اس طرح سے الیکشن کمیشن فوری طور پر ان فنڈز کو الیکشن کیلئے استعمال کرنے کے قابل ہوگا۔“

پانچویں پیرے میں کہا گیا ہے کہ:۔
”۔۔۔۔فاضل اٹارنی جنرل اور وزارتِ خزانہ کی ٹیم کی معاونت سے عدالت نے ان فنڈز کی ایلوکیشن سے متعلق آئین کی متعلقہ شقوں کا بھی جائزہ لیا۔وزارتِ خزانہ کے حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ آئین کے آرٹیکل84کے تحت وفاقی حکومت کو ”فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈ‘ سے سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ میں شامل نہ کی گئی کسی نئی سروس کیلئے اخراجات کرنے کا مکمل اختیار تھا۔ایسے اخراجات کیلئے وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل میں بیان شدہ طریقہ کار کے مطابق قومی اسمبلی سے ex post facto (بعد میں)منظوری لیتی ہے۔ان سب کا جائزہ لینے کے بعدہماری یہ رائے ہے کہ الیکشن کمیشن کو پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کے آئینی مینڈیٹ کو پورا کرنے کیلئے فوری طور پر 21ارب روپے جاری کرنے کے عمل میں مالی یا پروسیجرلی کوئی رکاوٹ نہیں۔

چھٹے پیرے میں عدالت نے درج ذیل احکامات اور ہدایت جاری کی ہیں:۔
ایک۔اسٹیٹ بینک اکاؤنٹ نمبر ایک سے پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات کیلئے 21ارب مختص اور جاری کرے۔اس سلسلہ میں اسٹیٹ بینک فوری وزارتِ خزانہ/فنانس ڈویژن کو مناسب کمیونی کیشن جاری کرے اورمذکورہ وزارت/ڈویژن فوریAGPRکو مناسب ہدایت جاری کرے کہ الیکشن کمیشنIDکے حوالے سے سیلنگ میں 21ارب کا اضافہ کیا جائے۔مذکوہ وزارت/ڈویژن اس پوزیشن سے متعلق الیکشن کمیشن کو فوری تصدیق کرے اور اس بات کو بھی یقینی بنائے کہAGPRالیکشن کمیشن کو مناسب اطلاع اور تصدیق دے۔یہ سب جلد ازجلد کیا جائے اور سوموار 17اپریل2023ء سے بعد میں نہ ہو۔اسٹیٹ بینک،فنانس منسٹری/ڈویژن،AGPR اور الیکشن کمیشن کو مل کر کام کرنا چاہئے اور پوری طرح سے کوآرڈی نیٹ کرنا چاہئے تاکہ عدالت کے حکم اورہدایت پر طے شدہ ٹائم فریم میں عملدرآمد ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی ایچ اے کو 881ایکڑ سرکاری زمین 18پیسے کے ریٹ پر الاٹ کرنے کا میگا اسکینڈل

دو۔اسٹیٹ بینک اور فنانس منسٹری /ڈویژن 18اپریل2023ء تک تعمیل کی رپورٹس جمع کرائیں کہ عدالتی حکم نامہ کی تعمیل ہوچکی ہے اور فنانس منسٹری/ڈویژن کی رپورٹس میں AGPRکے حوالے سے توثیق بھی شامل ہونی چاہئے۔اسی طرح الیکشن کمیشن بھی 18اپریل2023ء کو رپورٹ جمع کرائے جس میں تصدیق ہو کہ اسے21ارب کی رقم دستیاب ہوچکی ہے۔ہم یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ اس حکم نامہ کو ’فیڈرل کنسالیڈیٹڈ فنڈ‘ میں سے اخراجات کی منظوری کے تمام مقاصد کیلئے ’کافی اتھارٹی‘ سمجھا جائے گا اور وفاقی حکومت ان اخراجات کی منظوری کیلئے قومی اسمبلی سے اس کیex post factoمنظوری حاصل کرے گی۔

حکم نامہ کے ساتویں پیرے میں عدالت میں پیش ہونے والے تمام حکام اور ٹیموں کی معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔اورکہا گیا ہے کہ”۔۔۔۔معاملہ کو آرڈر کے پیرا5کے مقصد کیلئے ملتوی کیا جاتا ہے تاہم جب ضرورت پڑی تو معاملہ کو دوبارہ ٹیک اَپ کیا جائے گا۔۔جہاں تک آرڈر کے پیرا6اور7میں بیان شدہ امور کا تعلق ہے تو ان امور کووفاقی حکومت کی جانب سے پیرا6کے تحت دائر کی جانیوالی رپورٹ کے دائر ہوجانے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے زیرِغور لائے جانے کے بعد ٹیک اَپ کیا جائے گا۔“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے