کیا سابق آرمی چیف نے زرداری سے معروف بزنس مین کی زندگی کو بچایاتھا؟
پاکستان کے ناموربزنس مین اور ہوٹل انڈسٹری کے معروف نام صدرالدین ہاشوانی نے اپنی سوانح حیات میں انکشاف کیا ہے کہ 1990ء میں بینظیر بھٹو کی حکومت کے دوران ان کی زندگی کو آصف علی زرداری سے خطرہ تھا اور ان خطرات سے انہیں بچانے میں سب سے اہم کردار اس وقت کے کورکمانڈرکراچی جنرل آصف نواز نے ادا کیاتھا۔ یہی جنرل آصف نوازبعد میں پاکستان کے آرمی چیف بن گئے تھے۔
واقعہ کا پسِ منظر
صدرالدین ہاشوانی نے آصف علی زرداری کی جانب سے اپنی زندگی کو خطرات سے متعلق تفصیل کو اپنی سوانح حیات’ٹرتھ آلویزپریویلز‘ میں تفصیل سے رقم کیا ہے۔ صدرالدین ہاشوانی کے مطابق سال1983ء میں انکے ملکیتی کراچی میریٹ ہوٹل کے ڈسکو میں آصف علی زرداری نے ہلڑبازی اورفائرنگ کی تھی۔ اس ہلڑبازی اور بدنظمی پر صدرالدین ہاشوانی نے زرداری کو ہوٹل سے باہر پھینکوادیا تھا۔باہر پھینکے جانے کے عمل میں زرداری کو مار بھی پڑی تھی۔ اس واقعہ کے بعدآصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری نے صدرالدین ہاشوانی کو فون کرکے کہا تھا کہ آپ کو میرے بیٹے کے ساتھ ایسا کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟

صدرالدین ہاشوانی کے مطابق اس واقعہ کو آصف علی زرداری نے کبھی نہیں بھلایا اور بعدمیں جب بینظیر بھٹو سے ان کی شادی ہوگئی اور زرداری کی اہلیہ پاکستان کی وزیراعظم بن گئیں تو انہیں زرداری کے قہر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صدرالدین ہاشوانی کی جانب سے زرداری کو ہوٹل سے باہر پھینکوائے جانے کی تفصیل
تاہم صدرالدین ہاشوانی نے ’ٹھرتھ آلویز پری ویلز‘ میں یہ بھی لکھا ہے کہ زرداری نے انکے ساتھ تو یہ سب ذاتی رنجش کی بنا پر کیا مگر وہ ایسا دیگر کاروباری اوردولت مند افراد کے ساتھ بھی کر رہے تھے۔
انکشافات کی تفصیل
صدرا لدین ہاشوانی نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ جنرل آصف نوازجنجوعہ نے انہیں بڑے خطرے سے تب بچایا تھا جب وہ کورکمانڈر کراچی تھے۔ یہ جنوری1990ء کی بات ہے جب ملک میں بینظیر بھٹو کی حکومت تھی۔ ہاشوانی کے بقول انکی گاڑی کاپیچھا کیا جاتا تھا اورمشکوک افراد نے ان پر نظررکھی ہوئی تھی۔ ہرجگہ ان کی نگرانی کی جارہی تھی۔

صدر الدین ہاشوانی کے مطابق جنوری1990ء میں انہیں قتل کرنے اور انکی جائیدادیں ہتھیانے کا ٹاسک سندھ کے دو خطرناک کرمنلز کو دیا گیا تھا۔
صدرالدین ہاشوانی کے مطابق سال1990ء کے آغاز میں جب یہ سب ہورہا تھا تو ایک شام انہیں اپنے ایک بینکردوست نے کال کرکے مشورہ دیا تھا کہ وہ یونائٹڈ بینک آف پاکستان کے لاکرز میں رکھے گئے ’پاکستان سروسز لمیٹڈ‘ کمپنی کے شیئرڈاکومنٹس کو اٹھا کرکہیں اور رکھ لیں کیونکہ ان پر کسی کی’بری نظر‘ ہے۔پاکستان سروسز لمیٹڈ ہاشوانی کی فلیگ شپ کمپنی تھی جس کی ملکیت میں پرل کانٹی ننٹل(پی سی) کی چین تھی۔

صدرالدین ہاشوانی کے مطابق ’پی سی چین کی مکیتی کمپنی ’پاکستان سروسز لمیٹڈ‘ کے شیئرز کے عوض انہوں نے بینک سے قرض لے رکھا تھا۔ انہوں نے کتاب میں مزید لکھا ہے کہ ’واضح طور پر اقتدار میں موجود اور اثرورسوخ کا حامل کوئی شخص ان شیئرز کا استعمال کرکے قبضہ کرنے کی سوچ رہا تھا یا پھر انہیں غائب کرنا چاہتا تھا۔ہاشوانی کے بقول ایسا کرنا مکمل غیرقانونی ہوتا تاہم اس سے ان کیلئے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوجاتے اور وہ طویل مقدمہ بازی میں الجھ جاتے۔
ہاشوانی کے بقول انہوں نے فوری طور پر یونائٹڈ بینک کا قرض واپس کردیا اور شیئرڈاکومنٹس کو واپس اپنے قبضہ میں لے کر دوسرے بینک کی محفوظ تحویل میں رکھ دیا۔صدرالدین ہاشوانی کے مطابق ان واقعات نے انہیں بے چین کر دیا تھا اور ان کا اندازہ تھا کہ اس سب سے زرداری کا تعلق ہے تاہم انہیں اس کا یقین نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟
صدرالدین ہاشوانی نے اس کے بعد دوخطرناک جرائم پیشہ افراد کو اپنے پیچھے لگائے جانے کے واقعہ کوبیان کیا ہے۔ انکے بقول یہ بشیرقریشی اوراس کا ساتھی لغاری تھا۔ ہاشوانی کے بقول انہیں لگا کہ انکی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے جس پر انہوں نے اپنے دوست اورکراچی کے کورکمانڈر جنرل آصف نوازسے مشورہ کیا۔ جنرل آصف نواز نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپناروٹ تبدیل کرلیں اور ساتھ گھر اور آفس کی سیکیورٹی کو بڑھا دیں۔

ہاشوانی کے مطابق انہوں جنرل آصف نوازکے مشورے پر عمل کیاتاہم پھر بھی انہیں یہ احساس رہا کہ ان کا تعاقب جاری ہے۔ انہیں اندیشہ تھا کہ کچھ بہت ہی بڑا اوربرا ہونے والا ہے۔ صدرالدین ہاشوانی نے مزید لکھا ہے کہ ان حالات میں انہوں نے جنوری1990ء میں اپنے بچوں کو دبئی اور پھر وہاں سے لندن بھیجنے کا منصوبہ بنا لیا۔ اس کیلئے انہوں نے14جنوری1990ء کی تاریخ کی ٹکٹیں خرید لیں۔ہاشوانی نے اپنے اس منصوبے سے متعلق کسی بھی نہیں بتایا تھا۔

انہوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ 14جنوری1990ء کی صبح کو،جب انہیں اپنے بچوں سمیت باہر جانے میں چند گھنٹے رہتے تھے،تو انہیں کورکمانڈرکراچی جنرل آصف نوازکی کال موصول ہوئی۔ ہاشوانی کے مطابق جنرل آصف نوازنے پریشانی کے عالم میں انہیں کہا کہ’تیس منٹ میں میرے آفس پہنچو لیکن کورہیڈکوارٹرز آتے ہوئے معمول کے راستے کا استعمال مت کرنا بلکہ کسی اوررستے سے آنا۔‘

صدرالدین ہاشوانی کے مطابق جب انہیں کورہیڈکوارٹرز روانگی میں تاخیر ہوئی تو 25منٹ بعد انہیں جنرل آصف نوازنے ایک بار پھر فون کر دیااورکہا کہ جلدی کرو۔ہاشوانی نے لکھا ہے کہ جب وہ کورہیڈکوارٹرز پہنچے تو گیٹ پر جنرل آصف نوازکے ذاتی اسٹاف کے افراد انکے انتظار میں موجود تھے۔ انہیں جنرل آصف نوازکے کمرے میں لے جایا گیا جہاں انکی ملاقات پاک فوج کے یونٹ مہران فورس سے ہوئی،جس کا کام سندھ میں اندرونی سیکیورٹی فرائض کی انجام دہی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
صدر الدین ہاشوانی کے مطابق جنرل آصف نوازکے کمرے میں انہیں مہران فورس کمانڈرز کی جانب سے حکومت سندھ کو لکھا گیا ایک خط دکھایا گیا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ چونکہ میں اغواء کاروں کا نشانہ تھا،اس لئے سندھ حکومت سے مجھے سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ ہاشوانی کے مطابق خطرناک مجرم بشیرقریشی اور ان کے ساتھ لغاری کو دو ہفتے قبل جیل سے رِہا کیا گیا تھا۔جب فوج کے یونٹ مہران فورس کے افسران کو بشیرقریشی اورلغاری کی رہائی کا پتہ چلا تو انہیں معلوم ہوا کہ کچھ ہونیوالا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟
صدرالدین ہاشوانی کے مطابق پاک فوج کے یونٹ مہران فورس کے افسران نے اس سلسلہ میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے رابطہ کیاتوانکشاف ہوا کہ قائم علی شاہ کو بشیرقریشی کی رِہائی کا کوئی آئیڈیا ہی نہیں تھا۔ ہاشوانی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ایک روز بعد جنرل آصف نواز کو آگاہ کیا تھا کہ بشیر قریشی اور لغاری کو اسلام آباد سے ملنے والے احکامات پر رہا کیاگیا تھا۔ہاشوانی کے مطابق یہ واضح تھا کہ ان دونوں خطرناک جرائم پیشہ افراد کوکسی خصوصی مشن کیلئے تیار کیاجارہا تھا۔

صدر الدین ہاشوانی نے اپنی سوانح حیات میں مزید لکھا ہے کہ فوج اپنے ’اِنفارمرز‘ کو حرکت میں لائی تو پتہ چلا کہ بشیر قریشی اور لغاری کو انہیں اغواء اورقتل کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ ہاشوانی کے بقول انہیں اس سازش کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیاگیا جو کچھ یوں تھیں کہ 19جنوری1990ء کو انکی کار روک کر محافظوں کو مارنے کے بعد اغواء کیاجانا تھا۔ اغواء کے بعد زبردستی ان سے کاغذات پر دستخط کروائے جاتے جس سے انکی جائیدادیں بالخصوص ہوٹلز انکی ملکیت سے چلے جاتے اور بعدازاں انہیں دریا میں پھینک دیا جاتا۔

ہاشوانی نے لکھا ہے کہ اس موقع پر جنرل آصف نوازنے کہا کہ ہم نے آپ کو اسلام آباد نہیں بھیجنا کیونکہ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ زرداری کیا کرے گا۔ ہاشوانی کے مطابق جنرل آصف نوازنے انہیں لاہور جانے کی تجویز دی اورکہا کہ وہ انہیں تحفظ کی فراہمی کیلئے اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نوازشریف سے بات کر چکے تھے۔
صدر الدین ہاشوانی کے مطابق انہوں نے جنرل آصف نواز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لاہورجانے کی بجائے وہ بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں اوروہ دبئی جانے کیلئے شام چار بجے کی فلائٹ کی بکنگ کروا چکے ہیں۔ اس کے بعد ہاشوانی نے لکھا ہے کہ اسی روز فوج کی بھاری سیکیورٹی میں انہیں ائیرپورٹ لے جایا گیا جہاں سے وہ بیرونِ ملک چلے گئے۔

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
