حمودالرحمن کمیشن نے مشرقی پاکستان میں فوج پرقیمتی اشیاء کے لوٹ مار کے الزام پر کیالکھاتھا؟
مشرقی پاکستان میں فوج کی جانب سے سرنڈر کی وجوہات کی تحقیقات کیلئے تشکیل شدہ حمودالرحمن انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا تھا کہ 1971ء کی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں جنگ لڑنے والی ملکی فوج مبینہ طور پر لوٹ مار میں ملوث ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں کچھ فوجی کمانڈرز نے فوجی دستوں کے بیرکس کی تلاشیاں لیں جس کا مقصد لوٹے گئے قیمتی سامان کی وصولی کرنا تھا۔رپورٹ کے مطابق اس لوٹے گئے سامان میں مبینہ طور پرسونا،ٹی وی سیٹ،ریفریجریٹرز،ٹائپ رائٹرز،گھڑیاں،ائیرکنڈیشنرز اور دیگر پرکشش اشیاء شامل تھیں۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کا پسِ منظر
سال1971ء میں مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے سرنڈر اورشکست کے ساتھ پاکستان ٹوٹ گیاتھا۔ملک کی اس اذیت ناک شکست کی وجوہات کوجاننے کیلئے 1971ء میں ملک کے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذولفقار علی بھٹو نے اس وقت کے چیف جسٹس حمودالرحمن کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا۔ اس کمیشن نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج کی شکست اورسرنڈرکی وجوہات تلاش کی تھیں اور انہیں رپورٹ کی شکل میں حکومتِ وقت کو جمع کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حمودالرحمن کمیشن نے فوجی افسران کی عیاشی اورغیراخلاقی سرگرمیوں پرکیالکھاتھا؟
حمودالرحمان کمیشن نے تحقیقات کے دوران 200سے زائد گواہان کے بیانات اورشہادتوں کو قلمبند کیا تھا۔حمودالرحمان کمیشن نے دومرحلوں میں تحقیقات کی تھیں۔ کمیشن نے پہلے مرحلے میں تحقیقات کے بعد جولائی1972ء میں رپورٹ جمع کرائی۔ پہلے مرحلے کے دوران کمیشن کو جنگی قیدیوں تک رسائی نہیں تھی،اس لئے جب جنگی قیدیوں کو ملک واپس لایا گیا تو تحقیقات کا دوسرامرحلہ شروع ہوا،جس میں قید سے رہائی پانے والے گواہان کے بیانات اورشہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔کمیشن نے دوسرے مرحلہ کی تحقیقات کے بعد 1974ء میں رپورٹ جمع کرائی تھی۔
مبینہ لوٹ مارکاآغاز کیسے ہواتھا؟
حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کے مطابق 25مارچ1971ء کے فوجی اقدام کے تناظر میں پاک فوج کے یونٹس نے عوامی لیگ کے باغیوں سے نمٹنے کیلئے پورے صوبے میں ’سویپ آپریشنز‘ کئے۔ اس سلسلہ میں فو ج کو ناکافی لاجسٹک انتظامات کے ساتھ دیہی علاقوں میں جانا پڑتاتھا۔ رپورٹ کے مطابق ان آپریشنز کے ابتدائی مراحل میں ناکافی لاجسٹک انتظامات کی وجہ سے فوج مجبورتھی کہ اناج اوردیگر ضروری اشیاء کی ضروریات کو سویلین ذرائع سے حاصل کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوزبنوائی تھیں؟
کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب مناسب لاجسٹک انتظامات ہو گئے تو بدقسمتی سے اس کے بعد بھی یہ پریکٹس جاری رہی۔ رپورٹ کے مطابق اس حد تک شواہد موجود ہیں کہ فوجی دستے سویلین دکانوں اوراسٹورز میں زبردستی گھسے اورکوئی ریکارڈ تیار نہیں کیاگیا کہ کہاں سے کیاکچھ لیاگیا تھا۔
کمیشن نے مزید لکھا ہے کہ فوجی گاڑیوں کی ضرورت،کھانے کی اشیاء،دواؤں اور دیگرضروری اشیاء کی ضرورت کو یقیناسمجھا جا سکتا ہے لیکن یہ سب حساب کتاب کے مناسب طریقہ کار کے مطابق کیا جانا چاہئے تھا تاکہ حالات نارمل ہونے پر ان سب اشیاء کیلئے ازالے کی رقم ادا کی جاسکتی۔

حمودالرحمن کمیشن رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ چونکہ فوج کی جانب سے ایسا کوئی طریقہ اختیار نہیں کیاگیا تھا جس سے فوجی اہلکاروں اوران کے افسران کے ذہنوں میں عمومی احساس پیداہواکہ انہیں جواچھا لگے اور جہاں سے وہ چاہیں،لینے کا حق حاصل ہے۔ کمیشن نے فوجی افسران اورجوانوں کی اس مبینہ لوٹ مار پر مزید لکھا ہے کہ ’ہمارے نزدیک یہ چیز اس مبینہ لوٹ مار کی بنیاد ہے جس کا فوج پر مشرقی پاکستان میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
سینئرفوجی کمانڈرزپرلوٹ مار کی حوصلہ افزائی کا الزام
حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کے مطابق فوجی افسران اورجوانوں کی جانب سے مشرقی پاکستان میں دکانوں اوراسٹورز سے مبینہ لوٹ مار کی ابتدائی مراحل میں حوصلہ افزائی سینئرکمانڈرز کی جانب سے کی گئی تھی۔ کمیشن کے مطابق اس عمل کی حوصلہ افزائی کرنیوالوں میں لیفٹیننٹ جنرل نیازی بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار
کمیشن رپورٹ میں اس حوالے سے میجرجنرل فرمان علی کے شواہد کی روشنی میں جنرل نیازی کے ایک بیان کا حصہ دیا گیا ہے۔ کمیشن نے میجرجنرل فرمان علی کے فراہم کردہ شواہد کی روشنی میں لکھا ہے کہ جنرل نیازی نے جنرل ٹکا خان سے کمان لینے کے بعد پہلے روز کہاتھا کہ’۔۔ میں راشن کی کمی سے متعلق کیا سنتا رہاہوں؟کیا اس ملک میں کوئی گائیں اوربکریاں نہیں ہیں؟یہ دشمن کا علاقہ ہے۔ جوچاہتے ہو لے لو۔ برما میں ہم یہی کیاکرتے تھے۔‘

کمیشن رپورٹ میں گیا ہے کہ جنرل نیازی نے ایسا کوئی بھی بیان دینے کے عمل کی تردید کی تھی اور کمیشن کے سامنے کہا کہ ہم نے مشرقی پاکستان میں جو کچھ بھی لیا،اس کیلئے چِٹ دی تاکہ سویلین حکومت اس کی ادائیگی کرے۔‘ تاہم حمودالرحمن کمیشن نے لکھا ہے کہ جنرل نیازی کے اس دعوے کی دیگر افسران کی جانب سے تائید نہیں کی گئی۔
لوٹی گئی اشیاء کی وصولی کیلئے تلاشیاں
حمودالرحمن کمیشن نے لکھا ہے کہ بعدمیں اس پریکٹس کو روکنے کیلئے ایسٹرن کمانڈ اورڈویژنل کمانڈرز کی جانب سے سخت ہدایات جاری کی گئیں اورکچھ کمانڈر ز نے لوٹے گئے مال کی وصولی کیلئے فوجی بیرکس کی تلاشی کے احکامات دئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر جن لوٹی گئی اشیاء کی وصولی کے لئے بیرکس کی تلاشیوں کے احکامات دئے گئے ان میں سونا،گھڑیاں،ٹیلی ویژن سیٹ،ریفریجریٹرز،ٹائپ رائٹرز،ائیرکنڈیشنرزاوردیگرپرکشش اشیاء شامل تھیں۔

کمیشن نے اس ضمن میں مزید لکھا ہے کہ’ہمیں بتایا گیا کہ کئی کیسز میں کورٹس آف انکوائریز کے طریقے سے ڈسپلنری ایکشن کا آغاز کیاگیا تھا تاہم 16دسمبر1971ء کے سرنڈر سے قبل کسی نہ کسی وجہ سے ان کیسز کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا تھا۔‘

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

great informative article
Thank you bhai