جمعرات, اکتوبر 29, 2026
تاریخی رپورٹس

پاک فوج کی جانب سے 550بھینسوں کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

Share

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سرکاری رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے 10کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کل550بھینسوں کی خریداری کے عمل میں بے ضابطگی ہوئی ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سرکاری رپورٹ میں پاک فوج کی جانب سے کروڑوں مالیت کی سینکڑوں بھینسوں کی خریداری کو ’غیرمجاز خریداری‘قرار دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہ خریداری پاک فوج کی متعلقہ برانچ کے مالی اختیارات سے بڑھ کر تھی۔

پاک فوج کی جانب سے بھینسوں کی خریداری کے عمل میں بے ضابطگی کا انکشاف ’دفاعی سروسزکے کھاتوں کے آڈٹ کی رپورٹ‘ میں کیا گیا ہے۔ اس سرکاری رپورٹ کے آڈٹ کا سال2018-19ء ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 1990ء میں نوازشریف کیلئے الیکشن کیسے چرایا گیا؟

دفاعی اخراجات کے کھاتوں کے آڈٹ کی اس سرکاری رپورٹ میں ’پاکستان آرمی‘ سے متعلق آڈٹ پیروں میں سے ایک پیرے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مؤرخہ 15ستمبر2015ء کو ’جی ایچ کیو‘ کیوایم جی برانچ آر وی اینڈایف ڈائریکٹوریٹ راولپنڈی کی جانب سے ایک لیٹر کے ذریعے 550بھینسوں کی خریداری کے ٹھیکے کو سرانجام دیا گیاتھا۔

Document: Audit para describing details of irregularities in purchase of buffaloes by Pakistan Army

آڈٹ حکام کے مطابق جی ایچ کیو ’کیوایم جی برانچ راولپنڈی نے ایم ایس جُونی ٹریڈرز کی جانب سے پیش شدہ نرخ،جوکہ 10کروڑ7لاکھ ستترہزار پانچ سو روپے تھا،میں 550بھینسوں کی خریداری کے معاہدے کو بذریعہ مذکورہ لیٹرسرانجام دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بھینسوں کی خریداری کا یہ عمل ’مالی ریگولیشنز1986ء‘ کے رُول89کے برخلاف تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رِہائی میں آئی ایس آئی کا کردار

سرکاری رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ’مالی ریگولیشنز والیم وَن 1986‘کے رُول89کے تحت کیوایم جی برانچ کو صرف ایک کروڑپینتیس لاکھ روپے مالیت کا ٹھیکہ کرنے کااختیار حاصل ہے تاہم بھینسوں کی خریداری کے معاہدے میں اس رُول کے برخلاف 10کروڑ7لاکھ روپے سے زائد کا ٹھیکہ کرلیاگیا۔یہی وجہ ہے کہ آڈٹ حکام نے بھینسوں کی خریداری کے اس معاہدے کو ’غیرمجازخریداری‘ قرار دیا ہے۔

Second Part of the document from Audit Report regarding un-authorized purchase of buffaloes by Pakistan Army

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے بھینسوں کی خریداری کے ٹھیکے میں کی جانیوالی یہ بے ضابطگی اس وقت سامنے آئی تھی جب آڈٹ حکام ’ملٹری فارم پنجند،اوکاڑہ‘ کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہے تھے۔سرکاری رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ آڈٹ حکام کی جانب سے بھینسوں کی خریداری کے اس ٹھیکے میں ہونیوالی بے ضابطگی کی نشاندہی نومبر2017ء میں کی گئی جس پر زیرِآڈٹ ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ ہر ملٹری فارم کی جانب سے الگ الگ ٹھیکے کئے گئے تھے۔

تاہم آڈٹ رپورٹ میں ادارے کے جواب کو یہ کہہ کر رد کیاگیا کہ چونکہ بھینسوں کی خریداری کے ٹھیکوں میں کئے گئے مجموعی اخراجات ’کیوایم جی‘ کے اختیار سے زائد ہیں،اس لئے ادارے کا یہ جواب قابلِ برقرار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری فنڈز سے ذاتی گھربنانیوالے پاکستان کے پانچ جاگیرداروزرائے اعظم

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 15نومبر2018ء کو بذریعہ میٹنگ ڈی اے سی کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ آڈٹ کو جانچ پڑتال کیلئے نظرثانی شدہ جواب فراہم کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق زیرِنظر آڈٹ رپورٹ کو حتمی شکل ملنے تک آڈٹ حکام کو مزید پیش رفت رپورٹ نہیں کی گئی تھی۔

آخر میں آڈٹ حکام کی جانب سے سفارش کی گئی ہے کہ بھینسوں کی خریداری کے اخراجات کی مجاز مالی اتھارٹی سے ریگولرائزیشن کرائی جائے۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے