منگل, اکتوبر 27, 2026
عدلیہ

ڈیلی میل مقدمہ:لندن کی عدالت کا وزیراعظم شہبازشریف کو بھاری رقم کی ادائیگی کا حکم

Share

وزیراعظم شہباز شریف کو لندن پہنچتے ہی لندن کی عدالت سے بڑا سرپرائز ملاہے۔ انہیں یہ سرپرائزبرطانوی اخبار ڈیلی میل کیخلاف دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کی کارروائی کے دوران ملا ہے،جس میں عدالت نے انکے وکلاء کی جانب سے حکمِ امتناعی کی درخواست کو مستردکردیا ہے اور ساتھ ہی ڈیلی میل کی جانب سے عدالت میں دائر دفاعی شواہدکے خلاف انکے جواب کو بھی مستردکردیا گیا ہے۔ اس کے علاو ہ لندن کی عدالت نے پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف کے وکلاء کو حکم دیا ہے کہ ڈیلی میل کو گزشتہ عدالتی کارروائی کے اخراجات بھی ادا کئے جائیں۔

London Court Order’ 1st page

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے جولائی2019ء میں شہبازشریف اور انکے خاندان کیخلاف برطانیہ سے امدادمیں ملنے والے اربوں کے فنڈزچوری کرنے اوراس رقم کو منی لانڈرنگ سے بیرونِ ملک بھجوانے سے متعلق خبر دی تھی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے جنوری2020ء میں اس خبرپر ڈیلی میل کے خلاف لندن کی عدالت میں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیاتھا۔

ڈیلی میل کے شہبازشریف خاندان پر الزامات کی تفصیل
ڈیلی میل نے 14جولائی2019ء کو شہبازشریف خاندان کی منی لانڈرنگ اورکرپشن پر ایک تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی تھی۔ یہ رپورٹ ڈیلی میل کے رپورٹر’ڈیوڈروز“ کی جانب سے شائع کی گئی تھی۔ ڈیلی میل کی اس رپورٹ میں بتایاگیا تھا کہ’جب شہبازشریف دس برس کے طویل عرصہ تک وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو برطانیہ نے صوبہ پنجاب کو کل50کروڑ پاؤنڈز امداد کی مد میں دئے تھے۔رپورٹ کے مطابق شہبازشریف اور انکے خاندان کے افراد نے برطانیہ سے ملنے والے ان فنڈز میں سے بھاری رقم کو چوری کرکے اسے منی لانڈرنگ سے بیرونِ ملک بھجوادیا تھا۔

Image of the news of daily mail against which Shahbaz Sharif had filed the suit

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ میں تحقیقاتی اہلکاروں کے حوالے سے بتایاگیا تھا کہ’برطانیہ کا محکمہ برائے عالمی ترقی(ڈی ایف آئی ڈی)شہبازشریف کی پنجاب حکومت کو فنڈزدے رہا تھا جبکہ شہبازشریف اورانکا خاندان ان فنڈز میں سے کروڑوں پاؤنڈزکو منی لانڈرنگ کے عمل سے برطانیہ منتقل کر رہے تھے۔‘

ڈیلی میل کی خبر کے مطابق تحقیقاتی اہلکار قائل تھے کہ شہبازشریف اورانکے خاندان کی جانب چوری شدہ رقم میں سے کچھ رقم برطانیہ کی جانب سے مختلف منصوبوں کیلئے صوبہ پنجاب کو دی گئی رقم میں سے تھی۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے نے شہبازشریف کو کیسے کلین چٹ دلوائی؟

ڈیلی میل کی رپورٹ میں شہبازشریف خاندان کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کے ملزمان کے دعویٰ کو بھی شائع کیاگیاتھا۔ اس حوالے سے اس رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ’ہم نے جیل میں ریمانڈپر موجود اہم گواہان کے انٹرویو ز کئے،ان میں سے ایک گواہ برطانوی شہری آفتاب محمود تھا۔آفتاب محمود نے دعویٰ کیا کہ اس نے شہبازشریف کے خاندان کے’بی ہاف‘ پر کروڑوں کی منی لانڈرنگ کی تھی۔‘

ڈیلی میل کی رپورٹ میں شہبازشریف خاندان کیخلاف مزید درج ذیل انکشافات کئے گئے تھے:۔
قانونی دستایزات میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ زلزلہ زدگان کی بحالی کیلئے بنائے گئے ایک فنڈ میں سے شہبازشریف کے داماد کو دس لاکھ پاؤنڈز دئے گئے۔ زلزلہ زدگان کی بحالی کیلئے بنائے گئے اس فنڈمیں برطانیہ کے محکمہ برائے عالمی ترقی(ڈی ایف آئی ڈی)نے ساڑھے5کروڑ پاؤنڈز جمع کرائے تھے۔

انوسٹی گیٹرز نے برطانیہ کی جانب سے فنڈشدہ اسکیموں،جو غریب خواتین کو نقدرقم دینے بارے تھیں، میں سے مبینہ چوریوں بارے انکوائریاں شروع کر دی ہیں۔

چوری شدہ کروڑوں مالیت کے فنڈز کو پہلے برمنگھم بھیجاگیااور پھر مبینہ طور پر شہبازشریف خاندان کے اکاؤنٹس میں منتقل کیاگیا۔

ایک خفیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سال2003ء میں شہبازشریف فیملی کی وَرتھ محض ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز تھی جبکہ سال2018ء تک انکے کل اثاثوں کی مالیت بڑھ کر لگ بھگ 20کروڑ پاؤنڈز ہوگئی۔

دیگر جائیدادوں کے ساتھ ساتھ لاہور میں شہبازشریف کے پاس 53ہزارمربع فٹ رقبے پر پھیلا ایک محل بھی ہے،جس کی اپنی بھاری سیکیورٹی فورس ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شہبازشریف خاندان کی آمدن کے جائز ذرائع انکی دولت سے مطابقت نہیں رکھتے۔رپورٹ کے مطابق اس دولت کو منی لانڈرنگ اسکیموں سے بھیجاگیاتھا اور اس عمل میں برطانیہ نے مرکزی کرداراداکیاتھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ منی لانڈرنگ سے بھیجی گئی رقم شہبازشریف کے بچوں،انکی اہلیہ اور انکے دامادعلی عمران کو وصول ہوئی۔تاہم رپورٹ کہتی ہے کہ منی لانڈرنگ کے اس آپریشن کے مرکزی بینفیشری شہبازشریف تھے۔

انوسٹی گیٹرز کے مطابق شہبازشریف خاندان نے کرپشن کی جس دولت سے فائدہ اٹھایاوہ حکومتی منصوبوں میں رشوت اور کمیشن سے اکٹھی کی جاتی تھی۔

وزیراعظم شہبازشریف کیلئے لندن کی عدالت سے بری خبریں
برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘کیخلاف شہبازشریف کے ہتکِ عزت کیس میں تازہ ترین پیش رفت بارے لندن میں مقیم صحافی عرفان ہاشمی کی جانب سے تازہ ترین پیش رفت کو شیئرکیاگیا ہے اور بتایاگیا ہے کہ کس طرح اس کیس کی گزشتہ سماعت میں وزیراعظم شہباز شریف اورانکے داماد کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

London’ Court Order 2nd page

اس حوالے سے عرفان ہاشمی کی جانب سے10نومبر2022ء کو ٹویٹس کرکے بتایاگیا کہ:۔
ہائی کورٹ میں ہتک عزت کیس میں شہبازشریف اور انکے دامادعمران علی یوسف کے وکلاء کی جانب سے اسٹے مانگاگیا تاہم جج’نِکلِن‘ نے انکی درخواست رَد کردی۔۔ایک مرحلہ پر کہاگیا کہ پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے شہبازشریف نہایت مصروف آدمی ہیں،اس لئے انہیں اس کیس پر توجہ کیلئے زیادہ وقت لگ سکتا ہے،جس پر جج کی جانب سے کہاگیا کہ اس کمرہ عدالت میں وزیراعظم کسی بھی دعویدارکی مانند ایک عام دعویٰ کرنے والے ہیں۔۔

Screenshots of Tweets by London based Journalist Irfan Hashmi on latest development of Daily Mail Case

ڈیلی میل کی جانب سے چند ماہ قبل ہتک عزت کے دعوؤں بارے تفصیلی ڈیفنس جمع کرایاگیا تھا،جس میں اصرارکیاگیاتھا کہ اخبار کا آرٹیکل حقیقت پر مبنی تھا اور ا خبار کی جانب سے اس دعویٰ کی حمایت میں شواہد کا حوالہ دیاگیا تھا۔ اس کے بعد شہبازشریف اور انکے داماد نے ڈیلی میل کے اس ڈیفنس کو جھٹلانے کیلئے تحریری جواب جمع کرانا تھا۔شہبازشریف اور انکے داماد نے چند ہفتے قبل جواب جمع کرانے سے قبل کئی بار وقت مانگا تھا۔

تاہم جب انکی جانب سے جواب جمع کرایا گیا تو جج نے انکے جواب سے متعلق کہا کہ یہ انگلش قانون کے تحت تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔وہ ڈیلی میل کے دفاع کے حقائق کو چیلنج کرنے میں ناکام رہے اوریوں جج نے ایک آرڈر جاری کردیا ہے،جسے’اَن لیس‘ آرڈر کہاجاتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اگر شہبازشریف اور انکے داماد ایساجواب جمع کرانے میں ناکام رہے جو انگلش قانون کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہو،تو اس صورت میں کیس خارج کر دیا جائے گا۔مقدمہ خارج ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ مکمل ناکام ہوگا اورشہبازشریف کو ڈیلی میل کے قانونی اخراجات کی ادائیگی کرنا ہوگی۔

لندن عدالت کے جج نے شہبازشریف اور انکے داماد کوکیس کی گزشتہ سماعت کی لاگت کی ادائیگی کا حکم بھی دے دیا ہے،جو ہزاروں پاؤنڈز ہوگی۔اگر شہبازشریف اور انکا داماد کیس کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی انہیں ’ڈیلی میل‘ کو اخراجات کی ادائیگی کرنا ہوگی۔

اب شہبازشریف اورانکے داماد کے پاس یہ چوائس ہے کہ وہ یا تو کیس کو ڈراپ کریں اور ڈیلی میل کو قانونی اخراجات اداکریں یا پھر ڈیلی میل کی جانب سے عدالت میں دائر ڈیفنس شواہد کے ہرنکتے چیلنج کریں۔اور اگر انکی جانب سے دائرکئے جانیوالے نئے جواب منظور کر لئے جاتے ہیں اورٹرائل آگے بڑھتا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ انہیں حلفیہ شواہد دینا ہونگے اور ڈیلی میل کے بیرسٹرکی جانب سے انہیں جرح کا سامنا کرنا ہوگا۔

شہبازشریف کیلئے کیس کی گزشہ سماعت دونمایاں ناکامیوں کو ظاہرکرتی ہے۔پہلی یہ کہ وہ ’اسٹے‘ کیلئے درخواست ہارگئے اور دوسرا انکا ڈیلی میل کے ڈیفنس کے خلاف دائر جواب مسترد کر دیاگیا۔


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے