اتوار, نومبر 1, 2026
پارلیمنٹ

عمران خان کاصدر کے نام اعلیٰ فوجی حکام کیخلاف انکوائری کیلئے خط کا مکمل متن

Share

سابق وزیراعظم عمران خان نے صدرِ پاکستان اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈرڈاکٹرعارف علوی کو 6نومبر2022ء کو خط لکھا ہے جس میں مسلح افواج کے اعلیٰ عہدیداروں کیخلاف انکوائری شروع کرنے،قصورواروں کا تعین اور احتساب کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کا یہ خط انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس لئے اس خط کا مکمل متن پیش کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹرعارف علوی
صدر،اسلامی جمہوریہ پاکستان
چھ نومبر2022ء

پیارے صدر صاحب

میری حکومت کے خاتمہ کے بعد سے جیسے ہی قوم نے میری حقیقی آزادی کی کال پر بیدارہوناشروع کیا،تب سے ہمارا سامناشدت پکڑتے جھوٹے الزامات،ہراسمنٹ،گرفتاریوں اورحراستی تشدد سے ہے۔ وزیرداخلہ نے بارہا مجھے قتل کی دھمکیاں جاری کی ہیں۔ مجھے قتل کئے جانے سے متعلق منصوبہ سے آگاہ کیاگیاجسے وزیراعظم شہبازشریف،وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ اورڈی جی سی، آئی ایس آئی میجرجنرل فیصل کی جانب سے تیار کیاگیا ہے۔

قتل کے اس منصوبے کو ہمارے لانگ مارچ کے دوران عمل میں لایاگیاتاہم اللہ پاک نے مجھے بچالیا اورقتل کا یہ اقدام ناکام ہوگیا۔

آج میری آپ سے اپیل محض بطور سربراہ ریاستِ پاکستان نہیں بلکہ ہمارے آئین کے آرٹیکل243(2)کے تحت مسلح افواج کے سپریم کمانڈرکے طور پر بھی ہے کہ آپ ذیل میں دی گئی سنگین غلط کاریوں کا نوٹس لیں،جو پاکستان کی قومی سلامتی کو کمزورکرتی ہیں اور قصورواروں کاتعین کرنے اور انہیں جوابدہ ٹھہرانے کیلئے اپنی قیادت میں ایک انکوائری شروع کریں:

یہ بھی پڑھیں: کیا مشرف نے بلیک میلنگ کیلئے سپریم کورٹ ججوں کی غیراخلاقی ویڈیوز بنوائی تھیں؟

ایک
بحیثیت وزیراعظم میری،آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان خفیہ گفتگو،جو کہ ایک محفوظ تصور کی جانیوالی لائن پر تھی،میڈیا کو ’لیک‘ کی گئی،جس سے ’آفیشلز سیکرٹس ایکٹ‘ کی خلاف ورزی ہوئی۔اس سے بہت ہی سنگین سوال پیداہوتا ہے کہ وزیراعظم کی محفوظ فون لائن کی واضح طور پر کی گئی غیرقانونی وائرٹیپ میں کون یا کون سا ادارہ ملوث تھا؟یہ اعلیٰ ترین سطح پر قومی سلامتی کی خلاف ورزی ہے۔

Imran Khan’ letter to President Arif Alvi

دو
ہمارے سفیر کی جانب سے بھیجے گئے سائفر کا معاملہ،جس میں امریکی اہلکار نے ہمارے سفیر کو ’رِجیم چینج‘ کی براہِ راست دھمکی پہنچائی اور ہمارے سفیر نے اسے جوں کا توں رپورٹ کیا۔ میرے دور میں اس معاملہ پر ہونیوالے ’قومی سلامتی کمیٹی‘کے اجلاس نے واضح طور پر فیصلہ کیا کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں ’ناقابلِ قبول‘مداخلت تھی اور قومی سلامتی کمیٹی نے اسلام آباد میں امریکی سفیر کو ’ڈی مارش‘ کے اجراء کا فیصلہ کیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس کی توثیق شہبازشریف حکومت میں ہونیوالے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس نے بھی کی۔

اس کے تناظر میں 27اکتوبر2022ء کو ڈی جی آئی ایس آئی اورڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی،جس میں ڈی جی آئی ایس آئی نے دوحکومتوں کے دوران ’قومی سلامتی کمیٹی‘ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کوجھٹلایااورکہا کہ سائفر میں امریکی حکومت کا پیغام ہمارے اندرونی معاملات میں کوئی ناقابلِ قبول مداخلت نہیں تھی بلکہ یہ سادہ طور پر ’مِس کنڈکٹ‘ کا کیس تھا۔

جس سوال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دوفوجی بیوروکریٹ کس طرح سے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلہ کو اعلانیہ جھٹلا سکتے ہیں؟اس سے ان فوجی بیوروکریٹس کی جانب سے جان بوجھ کر جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کرنے کا سنجیدہ معاملہ بھی جنم لیتا ہے۔

اس کے ساتھ دو متعلقہ سوال،جن کا جائزہ لیا جانا چاہئے،کچھ یوں ہیں:(ایک)پاکستان کی پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ کس طرح سے پبلک پریس کانفرنس کر سکتا ہے؟۔(دو)۔ فوجی بیوروکریٹس کس طرح سے انتہائی سیاسی پریس کانفرنس کر سکتے ہیں،جس میں پاکستان کی سب سے بڑی اورشاید واحد وفاقی سیاسی جماعت کے رہنما کو نشانہ بنایا گیاہو؟

تین
فوجی معلوماتی ادارہ جیسا کہ آئی ایس پی آر کے پیرامیٹرز کی واضح تعریف کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں دفاع اورفوجی ایشوز کی معلومات تک محدودہونا چاہئے۔مسلح افواج کے سپریم کمانڈرکی حیثیت سے میں آ پ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آئی ایس پی آر کیلئے ان واضح آپریشنل لائنز کو کھینچنے کا آغاز کیا جائے۔

جنابِ صدر،آ پ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ ہیں اور آپ کو اسکی جمہوریت اورآئین کا تحفظ کرنا چاہئے۔کوئی بھی فرد یا ریاستی ادارہ ریاست کے قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ہم ریاستی اداروں کے اندر موجود بدمعاش عناصر کی جانب سے شہریوں کے ساتھ وسیع بدسلوکی دیکھ رہے ہیں،جس میں حراستی تشدد اوراغواء شامل ہے اور یہ سب آزادی اوراستثنیٰ کے ساتھ کیاجارہا ہے۔آپ کے پاس ریاست کا اعلیٰ ترین عہدہ ہے اور میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اختیارات کے ناجائز استعمال اورہمارے قوانین اور آئین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے اب قدم اٹھائیں۔

عمران خان
چیئرمین،پاکستان تحریکِ انصاف


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

One thought on “عمران خان کاصدر کے نام اعلیٰ فوجی حکام کیخلاف انکوائری کیلئے خط کا مکمل متن”

  • New Multifunction Waterproof Backpack

    The best ever SUPER Backpack: Drop-proof/Scratch-resistant/USB Charging/Large capacity storage

    50% OFF for the next 24 Hours ONLY + FREE Worldwide Shipping for a LIMITED time

    Buy now: https://thebackpack.co

    Sincerely,

    Leroy

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے