پیر, نومبر 2, 2026
پارلیمنٹ

پونے5کروڑپاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،قومی اسمبلی میں انکشاف

Share

قومی اسمبلی میں تازہ دستاویزات شیئر کی گئی ہیں جن میں وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے 4کروڑ73لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔احسن اقبال کی جانب سے یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے یہ اعدادوشمار تین برس پرانے ہیں اور ملک میں سرکاری سطح پر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعدادسے متعلق تازہ اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔

وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے قومی اسمبلی میں شیئر کردہ دستاویزات کے مطابق پاکستان میں آخری بار ’ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکانومک سروے‘ سال2018-19ء میں کیا گیا تھا۔ اس سروے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا21.9فیصد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزاررہی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کے لگ بھگ پونے5کروڑ افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔

Information shared by Minister Ahsan Iqbal in National Assembly dated 24th Oct, 2022

احسن اقبال کی وزارت کی جانب سے یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ نوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت میں سال2015-16ء کے دوران ملک کی 24.3فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہی تھی اور سال2018-19ء میں (پی ٹی آئی حکومت کے دوران)غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستانیوں کی تعدادکم ہوکر21.9فیصد ہوگئی۔

وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی دستاویزات کے مطابق سال2018-19ء کے بعد ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈاِکانومک سروے‘ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس وقت ملک میں غربت سے متعلق تازہ ترین اعدادوشمار نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ ملک میں اس وقت یعنی سال2022ء میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔

مہنگائی میں اضافہ کی وجوہات
وزارتِ ترقی و منصوبہ بندی کی دستاویزات میں یہ بتانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ ملک میں مہنگائی کی وجوہات کے پسِ پردہ کونسے عوامل ہیں۔وزارت کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے کہ عمران خان کی گزشتہ حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے دوران مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ”۔۔پیٹرولیم مصنوعات نے اشیاء کی قیمتوں میں اضافے میں جزوی حصہ ڈالا ہے جبکہ قیمتوں میں اضافے کے دیگر عوامل بھی ہیں جیسا کہ مقامی سپلائی میں خلل کا عمل،عالمی پام آئل کی قیمتوں میں اضافہ،توانائی اور گیس کی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹس کا عمل اور کھانے کی اشیاء کی کم سپلائی۔“

دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ”روس اوریوکرین کی جنگ چھڑنے سے توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور توانائی کی ان بڑھتی قیمتوں نے پرائس لیول پرعمومی دباؤ ڈالا ہے اور اس سے پاکستان میں بھی دباؤ پڑا ہے۔توانائی کے جُز نے موجودہ مہنگائی کے دباؤ میں بڑا حصہ ڈالا ہے کیونکہ توانائی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین 71.3فیصد پر پہنچ گئی ہیں۔ اگست2022ء میں اوسط مہنگائی 27.3فیصد کی سطح پر ریکارڈ کی گئی جو کہ اگست2021ء میں صرف8.4فیصد تھی۔“


Share

Kismat Khan

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے