ایف آئی اے پراسیکیوشن نے16ارب مالیت کے منی لانڈرنگ کیس میں کس طرح شہبازشریف اورحمزہ شہبازکو کلین چِٹ دلوائی؟
اپریل2022ء میں حکومت میں آنے کے بعد عدالتوں سے شریف خاندان کو دھڑادھڑریلیف مل رہا ہے۔۔۔شریف خاندان کو ملنے والے ریلیف کی بڑی مثالوں میں مریم نوازکی ایون فیلڈریفرنس میں کلین چٹ،مریم نوازکی پاسپورٹ واپسی،اسحاق ڈار کی وطن واپسی اورشہبازشریف خاندان کیخلاف 16ارب روپے سے زائد کے مضبوط منی لانڈرنگ کیس میں انہیں کلین چٹ کے کیسز شامل ہیں۔ ان تمام کیسز میں نیب اورایف آئی اے کی پراسیکیوشن ٹیموں کی جانب سے شریف خاندان کے افراد کوواضح حمایت دی گئی ہے۔
کیس کامختصر پسِ منظر
وزیراعظم شہبازشریف اورانکے بیٹے حمزہ شہباز شریف کے16ارب روپے سے زائد مالیت کے میگا منی لانڈرنگ کیس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ شہبازشریف خاندان نے مبینہ طور پر اپنے کاروباری گروپ(جس کا نام شریف گروپ ہے) کی دو شوگرملز(رمضان شوگر ملز لمیٹڈاورالعریبیہ شوگر ملز لمیٹڈ) کے مختلف کم تنخواہ دار ملازمین کے نام پر مبینہ طور پر کھولے گئے جعلی اکاؤنٹس کی مدد سے سال2008ء سے سال2018ء کے عرصہ میں مبینہ طور پر 16ارب روپے سے زائد کی منی لانڈرنگ کی۔شہباز شریف خاندان کی جانب سے یہ منی لانڈرنگ مبینہ طور پر اس وقت کی گئی جب شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ایف آئی اے انکوائری کے دوران شہباز شریف خاندان کی دونوں شوگر ملز کے ان کم اجرتی ملازمین کی جانب سے تسلیم کیاگیا کہ ان جعلی اکاؤنٹس کو شریف گروپ کے سی ایف او(CFO)محمد عثمان کی ہدایات پرشریک ملزم سلیمان شہباز کی ذاتی خفیہ ٹرانزیکشنز کیلئے کھولا اورچلایا گیا تھا۔ کیس کی تحقیقات کی دوران مشتاق چینی والا کی جانب سے خفیہ کھاتے دکھائے گئے،جن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ چینی کی خفیہ فروخت سے ملنے والی پونے4ارب روپے کی رقم کو بھی ان جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرایا گیا تھا۔اس کیس میں وزیراعظم شہبازشریف پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کی معاونت اور مدد سے معلوم ذرائع آمدن سے زائد دولت اکٹھی کی اوریوں شہبازشریف خاندان نے منی لانڈرنگ کے جدید ترین طریقوں کو بروئے کار لاکر مبینہ طور پر 16ارب روپے سے زائد کی منی لانڈرنگ کی۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹرکے شہبازشریف اورحمزہ شہبازکے حق میں دلائل
جج اسپیشل کورٹ لاہوراعجازحسن اعوان نے 12اکتوبر2022ء کو وزیراعظم شہبازشریف اورانکے بیٹے حمزہ شہبازکو16ارب روپے مالیت کے میگامنی لانڈرنگ کیس میں بری کیا۔۔۔اس کیس کے فیصلہ میں جج کی جانب سے واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ کس طرح ایف آئی اے کی پراسیکیوشن ٹیم کے دلائل نے وزیراعظم شہبازشریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو کلین چٹ دلوانے میں کردار ادا کیا۔
جج اعجازحسن اعوان کے فیصلہ کے پیرا11میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹرزکے دلائل سے متعلق بتایا گیا ہے۔ایف آئی اے پراسیکیوٹرزکے دلائل پڑھیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ پراسیکیوشن نے شہبازشریف اورحمزہ شہبازکے خلاف منی لانڈرنگ الزامات کوثابت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ الٹاملزمان کو کلین چٹ دلوانے کیلئے پورازورلگایا۔۔۔
اس حوالے سے فیصلہ کے پیرا11میں کہا گیا ہے کہ:۔
”۔۔۔۔فاضل اسپیشل پراسیکوٹرفاروق علی باجوہ جن کی معاونت ایف آئی اے پراسیکیوٹرزعقیل الرحمان اورمنزہ شاہین نے کی،کی جانب سے اگرچہ دونوں ملزمان شہبازشریف اورحمزہ شہبازکی درخواستوں کی مخالفت کی گئی تاہم دلائل کے دوران انکی جانب سے واضح طورپر تسلیم کیاگیا کہ66پراسیکیوشن گواہان(یہ وہ افراد ہیں جن کے اکاؤنٹس سے مبینہ بے نامی اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنز کی گئیں) کے بیانات،جنہیں سی آرپی سی کے سیکشن161کے تحت ریکارڈکیاگیا تھا اورشریک ملزمان کے انکشافات کہ اکاؤنٹس کو رمضان شوگرملزانتظامیہ کے دباؤ پر کھولاگیا تھا،کے سواپراسیکیوشن کے پاس اپنے کیس کو ثابت کرنے کے کوئی شواہد نہیں۔فاضل اسپیشل پراسیکیوٹرفاروق علی باجوہ کی جانب سے مزید تسلیم کیاگیا کہ مذکورہ بالاپراسیکیوشن گواہان میں سے کسی نے بھی یہ الزام نہیں لگایاکہ انکے اکاؤنٹ سے ڈائریکٹلی یا اِن ڈائریکٹلی کوئی رقم شہبازشریف یا حمزہ شہبازکے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی ہو۔اسی طرح انکی جانب سے یہ بھی مانا گیا کہ شریک ملزمان کے اعتراف کو میاں نوازشریف اورحمزہ شہبازکے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ شواہد میں ’ناقابلِ تسلیم‘ ہے۔جہاں تک ملزم گلزاراحمد کے بے نامی اکاؤنٹ کا تعلق ہے توایسے کوئی آزاد ثبوت نہیں جو یہ ظاہرکریں کہ ’رمضان شوگر ملزلمیٹڈ‘ کے ڈی جی ایم زاہد علی چوہدری مذکورہ اکاؤنٹ کو چلا رہے تھے۔اسی طرح فاضل اسپیشل پراسیکیوٹرفاروق علی باجوہ کی جانب سے واضح طورپرتسلیم کیاگیا کہ اگرچہ ’سی آر پی سی‘ کے سیکشن 173کے تحت دائرشدہ رپورٹ کے صفحہ27پر’رمضان شوگر ملزلمیٹڈ‘ کے جی ایم ٹیکسیشن عشرت جمیل صدیقی سے متعلق دکھایاگیا ہے کہ انکے پاس رمضان شوگرملز کی انتظامیہ کے’بی ہاف(behalf)پرمبینہ بے نامی اکاؤنٹ کو چلانے کا تھرڈپارٹی مینڈیٹ ہے لیکن پراسیکیوشن نے مذکورہ مینڈیٹ سے متعلق کوئی شواہدجمع نہیں کئے۔ان کی جانب سے مزید تسلیم کیاگیا کہ بے نامی اکاؤنٹس کو کھولنے اورچلانے سے متعلق پراسیکیوشن نے کوئی ایسے شواہد جمع نہیں کئے جو یہ ظاہرکرتے ہوں کہ مذکورہ اکاؤنٹس کو شہبازشریف اورحمزہ شہبازکی جانب سے کھولایاچلایاگیا تھا۔“

ریسرچر،کانٹینٹ پروڈیوسر
